عمران خان کا لانگ مارچ اور حکومت

عمران خان نے بہاولپور میں جو کچھ کیا اسے مکمل طور پر غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک بڑی قومی سیاسی جماعت کے سربراہ کو اس حد تک کیوں پہنچنا پڑا،فوٹو:فائل

ISLAMABAD:
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گزشتہ روز بہاولپور میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چار انتخابی حلقوں کے ووٹوں کی تصدیق کرانے کے اپنے اولین مطالبے کو ترک کرتے ہوئے 2013ء کے عام انتخابات کے مکمل نتائج قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ میاں صاحب چار حلقے کھولنے کا وقت گزر چکا ہے اب میں مسلم لیگ (ن ) کی حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دیتا ہوں، اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے تو 14 اگست کو اسلام آباد میں سونامی مارچ ہو گا۔ اپنے جلسہ عام میں انھوں نے حکومت کو چار مطالبات پیش کیے۔ پہلا مطالبہ یہ کہ11 مئی کو کس نے فتح کی تقریر کروائی، اس سازش میں کون کون شریک تھا۔ دوسرا مطالبہ یہ کہ الیکشن میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کا کیا کردار تھا؟ ان کے بیٹے کو بورڈ آف انویسٹمنٹ کا وائس چیئرمین کس خدمت کے بدلے بنایا گیا۔

تیسرا مطالبہ یہ کہ انتخابات میں35 پنکچر لگانے والی نگران حکومت کا کیا کردار تھا؟ اور چوتھا مطالبہ یہ کہ ووٹر لسٹیں کس کے حکم پر تبدیل کی گئیں؟ عمران خان نے الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو اسلام آباد پر ملین مارچ ہو گا۔ واضح رہے ملین مارچ کے دعوے اس سے قبل بھی مختلف سیاسی لیڈروں کی طرف سے کیے گئے ہیں لیکن ملین یعنی دس لاکھ کا اجتماع کسی سے بھی عملاً اکٹھا نہیں ہو سکا۔ بہاولپور کے جلسے کی تعداد کے بارے میں بھی مختلف ذرائع کے اندازے ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں: تحریک انصاف کے نزدیک تعداد ایک لاکھ سے زاید تھی جب کہ انتظامیہ نے اس سے صرف ایک چوتھائی تعداد کی رپورٹ دی غالباً اس وجہ سے کہ پنڈال میں لگائی جانے والی کرسیوں کی تعداد پچیس ہزار ہی بتائی گئی تھی۔

البتہ غیر جانبدار ذرائع حاضرین کی تعداد پچاس ہزار سے زاید قرار دے رہے تھے کیونکہ تمام نشستیں بھرنے کے بعد کم از کم اتنے ہی لوگ کھڑے ہو کر جلسہ سن رہے تھے۔ بہرحال حاضرین کے اعتبار سے یہ بہاولپور کی تاریخ کے بڑے جلسوں میں شامل ہوتا ہے۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں اس بات پر گلہ کیا کہ انھیں اور خیبرپختونخوا حکومت کو شمالی وزیرستان میں آپریشن کے فیصلے کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا بلکہ انھیں ٹی وی کے ذریعے آپریشن ضرب عضب کا پتہ چلا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اپریشن کے باعث شمالی وزیرستان سے5 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں جن کی ہم ہر ممکن مدد کریں گے کیونکہ وہ اس وقت بڑے مشکل حالات سے گزر رہے ہیں جن کی مدد کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کو شمالی وزیرستان کے مجبور لوگوں کی تکلیفوں پر اپنی سیاست نہیں چمکانی چاہیے بلکہ ان کی بحالی کے لیے زیادہ سے زیادہ رقم مختص کرنی چاہیے۔


سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس نے نہتے شہریوں پر گولیاں چلائیں میاں صاحب بتائیں یہ پولیس حکومت کی ہے یا ان کی ذاتی ہے۔ لوٹ مار کرنے والی پولیس عوام کی حفاظت کیسے کرے گی۔ عمران خان نے اس بات پر کڑی نکتہ چینی کی کہ سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں پر اپنے اپنے صوبے میں داخل ہونے پر پابندی عاید کر دی ہے حالانکہ اس مشکل کی گھڑی میں ان مجبوروں کے لیے پورے ملک کے دروازے کھلے ہونے چاہئیں۔

اپنے اوپر وزیر اعظم کی تنقید کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ نواز شریف مجھ پر جمہوریت ڈی ریل کرنے کا الزام لگاتے ہیں لیکن وہ بتائیں کہ دنیا میں کون سی جمہوریت ہے جہاں وزیر اعظم کا بھائی وزیر اعلیٰ اور اس کے بچے وزیر مشیر ہوتے ہیں۔ انھوں نے اپنے پرانے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ الیکشن دھاندلی کو بے نقاب کرنے سے جمہوریت ڈی ریل نہیں بلکہ مضبوط ہو گی۔ تحریک انصاف کے قائد نے کہا میں ساری سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں اگر الیکشن سسٹم ٹھیک کرنا ہے تو ہمارے ساتھ چلیں۔ پاکستان میں عدلیہ اور میڈیا آزاد ہے۔ صرف الیکشن صاف و شفاف ہو تو نیا پاکستان بن سکتا ہے۔ جلسہ سے جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی نے بھی خطاب کیا اور عمران خان کو جنوبی پنجاب کی امیدوں کا چراغ قرار دیا۔

عمران خان نے بہاولپور میں جو کچھ کیا اسے مکمل طور پر غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک بڑی قومی سیاسی جماعت کے سربراہ کو اس حد تک کیوں پہنچنا پڑا۔ اس میں کسی حد تک مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور حکومت کا بھی کردار ہے، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ایک برس سے عام انتخابات میں دھاندلی کی بات کر رہے ہیں، اس حوالے سے ہی انھوں نے قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر رکھا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت اس مطالبے پر غور کرتی اور ابتداء میں ہی تحریک انصاف کی شکایات کا ازالہ کرتی، اس کے برعکس حکومت کے وزاء اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے عمران خان کے مطالبات کو نظرانداز کر دیا اور ان پر تنقید شروع کر دی۔ اب صورت حال اس مقام تک آ گئی ہے کہ عمران خان نے پورے الیکشن کو ہی مسترد کر دیا ہے، یہ ایک معنی خیز تبدیلی ہے، ایک ایسی سیاسی جماعت جو کچھ عرصہ پہلے تک دھاندلی کی بات تو ضرور کرتی تھی لیکن اس نے الیکشن کو متنازعہ نہیں بنایا تھا۔

اب وہ الیکشن کے نتائج قبول کرنے سے انکاری ہو گئی ہے اور اس نے 14اگست کو لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس وقت ملک کے سیاسی منظرنامے میں ایک جانب علامہ طاہر القادری اور چوہدری برادران کا اتحاد حکومت کے خلاف سرگرم ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف بھی اس صف میں شامل ہو گئی ہے۔ یہ معاملہ آگے بڑھا تو اس سے حالات خراب بھی ہو سکتے ہیں۔ حکومت کے پاس ابھی ایک ماہ کی مہلت موجود ہے۔ اس عرصے کے دوران حکومت کو چاہیے کہ وہ تناؤ اور بحران کی کیفیت کو ختم کرنے کے لیے ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرے۔ ادھر عمران خان ہوں یا طاہر القادری، انھیں بھی اپنے احتجاج کو جمہوری دائرے میں رکھنا چاہیے اور کسی بھی مہم جوئی سے بچنا چاہیے۔
Load Next Story