متاثرین آپریشن اور کراچی کی صورتحال
آئی ڈی پیز کی عارضی آباد کاری قومی کاز ہے جس میں تمام صوبائی حکومتوں کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے
شہر قائد دنیا کا پر تشدد میگا سٹی ہے جو پاکستان کا تجارتی ہب ہے اور اغوا اور منشیات کی اسمگلنگ میں گھر چکا ہے، ،فوٹو:فائل
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت اور فوج مل کر شمالی وزیرستان کے متاثرین کو جلد از جلد آپریشن مکمل کر کے گھر بھیجیں گے اور متاثرین کی آبادکاری کے لیے اربوں کھربوں روپے بھی خرچ کرنا پڑے تو کریں گے۔ یہ یقین دہانی خوش آئند اور بر وقت ہے۔
اس اعلان سے عندیہ ملتا ہے کہ حکومت پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کو جلد مکمل کر کے متاثرین کی گھروں کو واپسی کو ممکن بنانے کے لیے پر عزم ہے اور اس کے لیے پوری منصوبہ بندی سے کام کر رہی ہے۔ خیبرپختونخوا کے شہر بنوں میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے آنے والے افراد کے لیے قائم مختلف کیمپوں کے دورے کے موقع پر متاثرین سے خطاب میں انھوں نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 2 ارب روپے کے رمضان پیکیج کا اعلان بھی کیا۔ بعد ازاں نواز شریف نے متاثرین میں راشن بھی تقسیم کیا۔ اس سے آئی ڈی پیز کو خاصی سہولت ملے گی۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف، کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی، گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب خان، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید، سینیٹر عبدالقادر بلوچ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
آئی ڈی پیز کی عارضی آباد کاری قومی کاز ہے جس میں تمام صوبائی حکومتوں کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے، تاہم کراچی کی صورتحال قدرے مختلف بتائی جاتی ہے جہاں تاجر برادری نے شہر میں امن و امان کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم سے کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے، مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں15یوم بعد احتجاجی لائحہ عمل مرتب کرنے کی دھمکی دیدی ہے، اس حوالے سے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبداللہ ذکی کی جانب سے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ایک جامع خط ارسال کیا گیا ہے۔
ادھر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے شہر اور صوبے میں سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ماہ رمضان میں سیکیورٹی کے ضمن میں انتہائی چوکس رہا جائے، انھوں نے کہا کہ نئے چیلنجز کا تقاضہ ہے کہ صوبہ خصوصاً کراچی میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات اٹھائے جائیں، گورنر سندھ نے شمالی علاقوں میں جاری آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے امداد کے لیے کئی مراکز قائم کیے ہیں جہاں پر یہ امداد جمع کرائی جا سکتی ہے، دریں اثنا برطانوی اخبار ''فنانشل ٹائمز'' نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کراچی میں طاقت کا توازن طالبان کی آمد اور اثر و رسوخ کے باعث تبدیل ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ شہر قائد دنیا کا پر تشدد میگا سٹی ہے جو پاکستان کا تجارتی ہب ہے اور اغوا اور منشیات کی اسمگلنگ میں گھر چکا ہے، گزشتہ برس کراچی میں3251 افراد کو قتل کیا گیا جب کہ گزشتہ 5 برسوں میں مختلف مذہبی قوتوں، طالبان اور دیگر انتہا پسند گروپوں نے ایم کیو ایم کی طاقت کو چیلنج کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما کہتے ہیں کہ الطاف حسین کراچی پر طالبان کے قبضہ کی کوششوں کے بارے میں کئی بار بار خبردار کر چکے ہیں مگر طالبان نے عراقی آئی ایس آئی ایس جیسی صورتحال بپا کر رکھی ہے۔ یہ رپورٹ آئی ڈی پیز کی کراچی میں تازہ آمد کے حوالے سے خاصی چشم کشا ہے کیونکہ دہشت گرد ان کے بھیس میں منی پاکستان آکر کسی بھی وقت مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔
اس اعلان سے عندیہ ملتا ہے کہ حکومت پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کو جلد مکمل کر کے متاثرین کی گھروں کو واپسی کو ممکن بنانے کے لیے پر عزم ہے اور اس کے لیے پوری منصوبہ بندی سے کام کر رہی ہے۔ خیبرپختونخوا کے شہر بنوں میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے آنے والے افراد کے لیے قائم مختلف کیمپوں کے دورے کے موقع پر متاثرین سے خطاب میں انھوں نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 2 ارب روپے کے رمضان پیکیج کا اعلان بھی کیا۔ بعد ازاں نواز شریف نے متاثرین میں راشن بھی تقسیم کیا۔ اس سے آئی ڈی پیز کو خاصی سہولت ملے گی۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف، کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی، گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب خان، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید، سینیٹر عبدالقادر بلوچ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
آئی ڈی پیز کی عارضی آباد کاری قومی کاز ہے جس میں تمام صوبائی حکومتوں کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے، تاہم کراچی کی صورتحال قدرے مختلف بتائی جاتی ہے جہاں تاجر برادری نے شہر میں امن و امان کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم سے کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے، مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں15یوم بعد احتجاجی لائحہ عمل مرتب کرنے کی دھمکی دیدی ہے، اس حوالے سے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبداللہ ذکی کی جانب سے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ایک جامع خط ارسال کیا گیا ہے۔
ادھر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے شہر اور صوبے میں سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ماہ رمضان میں سیکیورٹی کے ضمن میں انتہائی چوکس رہا جائے، انھوں نے کہا کہ نئے چیلنجز کا تقاضہ ہے کہ صوبہ خصوصاً کراچی میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات اٹھائے جائیں، گورنر سندھ نے شمالی علاقوں میں جاری آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے امداد کے لیے کئی مراکز قائم کیے ہیں جہاں پر یہ امداد جمع کرائی جا سکتی ہے، دریں اثنا برطانوی اخبار ''فنانشل ٹائمز'' نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کراچی میں طاقت کا توازن طالبان کی آمد اور اثر و رسوخ کے باعث تبدیل ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ شہر قائد دنیا کا پر تشدد میگا سٹی ہے جو پاکستان کا تجارتی ہب ہے اور اغوا اور منشیات کی اسمگلنگ میں گھر چکا ہے، گزشتہ برس کراچی میں3251 افراد کو قتل کیا گیا جب کہ گزشتہ 5 برسوں میں مختلف مذہبی قوتوں، طالبان اور دیگر انتہا پسند گروپوں نے ایم کیو ایم کی طاقت کو چیلنج کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما کہتے ہیں کہ الطاف حسین کراچی پر طالبان کے قبضہ کی کوششوں کے بارے میں کئی بار بار خبردار کر چکے ہیں مگر طالبان نے عراقی آئی ایس آئی ایس جیسی صورتحال بپا کر رکھی ہے۔ یہ رپورٹ آئی ڈی پیز کی کراچی میں تازہ آمد کے حوالے سے خاصی چشم کشا ہے کیونکہ دہشت گرد ان کے بھیس میں منی پاکستان آکر کسی بھی وقت مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔