آپ کی کیا رائے ہے
معاشی اور مالی مفادات اس قدر طاقت ور ہوتے ہیں کہ وہ ہر رکاوٹ کو اپنے راستے سے ہٹا دیتے ہیں
zahedahina@gmail.com
ہر ملک کو بجا طور پر یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ اسے اپنا وقار نہایت عزیز ہے اور دوسروں کو چاہیے کہ وہ اس کے وقار کو ملحوظ رکھیں۔ دنیا میں ہوتا بھی ایسا ہی ہے۔ دنیا کے تمام ملک ایک دوسرے کی آزادی اور خود مختاری کے احترام کا دم بھرتے ہیں۔ زبانی جمع خرچ تک تو یہ اصول کارفرما نظر آتا ہے لیکن عملاً صورتحال کچھ مختلف ہوتی ہے۔ ملکوں کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں، سب سے حاوی مفاد، معاشی ہوتا ہے۔ جس ملک سے معاشی مفادات زیادہ وابستہ ہوتے ہیں اس کے وقار اور احترام کا خیال دوسرے ملکوں کی نسبت زیادہ رکھا جاتا ہے۔
معاشی اور مالی مفادات اس قدر طاقت ور ہوتے ہیں کہ وہ ہر رکاوٹ کو اپنے راستے سے ہٹا دیتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ نظریاتی اور مذہبی تضادات بھی ان مفادات کے سامنے بے اثر ہو جاتے ہیں۔ حالیہ دور کی دو مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ چین اور امریکا کے درمیان تضاد کتنا بھیانک تھا۔ چین کی نظر میں امریکا عالمی سامراج اور جدید نو آبادیاتی نظام کا سرخیل تھا۔ اس کی دیو ہیکل ملٹی اور ٹرانس نیشنل کمپنیوں کا کام نہ صرف امریکی بلکہ پوری دنیا کے عوام کا استحصال کرنا تھا۔ چین کو مکمل یقین تھا کہ وہ دن دور نہیں جب یہ '' کاغذی شیر'' میدان سے فرار ہو جائے گا اور امریکا میں بھی چین جیسا اشتراکی نظام قائم ہو جائے گا۔ امریکا بھی چین کے خلاف شدید نوعیت کے تحفظات رکھتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اشتراکیت کے نام پر اس ملک میں ایک پارٹی کی آمریت مسلط ہے۔
چینی شہریوں کو بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق حاصل نہیں ہیں، نہ انھیں اظہار خیال اور انجمن سازی کی آزادی ہے اور نہ شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کی حکومت منتخب کر سکیں۔ ان دو ملکوں کے درمیان تضاد نہایت شدید تھا کہ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کبھی ان کی دوستی بھی ہو سکتی ہے۔ ایسی گہری مخاصمت کے باوجود رفتہ رفتہ صورتحال کچھ سے کچھ ہو گئی۔ چین نے 80ء کی دہائی کے بعد ایک معاشی چھلانگ لگائی، ایسی اصلاحات عمل میں لائی گئیں جن کا تصور ماضی قریب کے چین میں ممکن ہی نہیں تھا۔ چین نے غیر ملکی سرمائے اور ٹیکنالوجی کے لیے اپنے دروازے کھول دیے جس کے نتیجے میں امریکی کمپنیوں کے وارے نیارے ہو گئے اور چین کی معیشت نے ناقابل یقین تیز رفتاری سے ترقی کرنی شروع کر دی اور 30 برسوں کے اندر چین ایک عالمی معاشی طاقت بن گیا۔ آج دنیا کے بازاروں میں چین اور امریکا دونوں کا ڈنکا بجتا ہے۔
ایک زمانہ وہ تھا جب یہ دونوں ملک ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے در پے تھے لیکن جب ان کے معاشی مفاد باہم مربوط ہوئے تو کہاں کی دشمنی اور کیسی نظریاتی آویزش۔ سامراجی کمپنیوں کے ہورڈنگ چین میں جگمگاتے ہیں اور اشتراکی چین کی مصنوعات امریکا کے بازاروں پر راج کرتی ہیں۔ 1998ء میں جب ہمارا طیارہ بیجنگ ایئرپورٹ پر اتر رہا تھا تو نگاہوں کے سامنے سب سے بلند نیون سائن میکڈونلڈ کا تھا اور اسے دیکھ کر میرے ساتھیوں کو اور مجھے سکتہ سا ہو گیا تھا۔ اس بات کو بہت دن گزر گئے، نظریاتی لڑائی ختم ہوئی، جنگ و جدل کی باتیں، انقلابی نعرے، سب قصہ پارینہ بن گئے۔ وہ جو ایک دوسرے کو فنا کرنے کے درپے تھے آج مل کر دنیا پر معاشی حکمرانی کرتے ہیں۔ چین اور امریکا اب لازم و ملزوم ہیں اور ان کے مابین اربوں نہیں، کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور تجارتی لین دین ہوتا ہے۔ چین کا استحکام اور ترقی امریکا کی جب کہ ڈالر کا استحکام اور امریکی معیشت کا جماؤ چین کی ضرورت بن چکا ہے۔
اب ایک دوسری مثال کی طرف آتے ہیں۔ ایران میں انقلاب برپا ہوا، امریکا اور سوویت یونین دو عالمی شیطان قرار پائے۔ سوویت یونین تحلیل ہوا تو امریکا کو شیطان اعظم کہا جانے لگا اور ایران کے کوچہ و بازار 'مرگ بر امریکا' کے نعروں سے گونجنے لگے۔ اس نظریاتی ٹکراؤ کے پس پشت مذہبی عوامل کارفرما تھے۔ ایران کے اسلامی انقلاب نے دنیا پر غلبہ پانے کا اعلان کیا۔ ایران اور امریکا کی باہمی کشیدگی نے کیا کیا رنگ نہیں دکھائے۔ ان کے ٹکراؤ کا ایک مظہر ایران عراق جنگ کی صورت میں سامنے آیا جو دس سال جاری رہی اور جس میں چند ہزار نہیں دونوں طرف لاکھوں نوجوان، فوجی اور شہری کام آئے۔ قاتل اور مقتول دونوں مسلمان تھے۔ بارہ پندرہ برس کے نوخیز شہیدوں سے قبرستان بھر گئے۔ ایک جوش تھا، انقلاب کا نعرہ تھا اور دنیا پر چھا جانے کا ارادہ تھا۔
وقت کا سفر جاری رہا۔ امریکا نے ایران پر کاروباری اور تجارتی پابندیاں عائد کیں اور اسے دنیا میں تنہا کر دیا۔ ایران نے اپنے خطے میں امریکا کے لیے سیاسی مسائل پیدا کیے۔ دونوں نے محاذ آرائی کی قیمت چکائی، بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک دوسرے کو ختم کرنے کے جنون کی بھاری قیمت خود انھیں دیوالیہ کر رہی ہے۔ ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضا مند ہوا، امریکا نے پابندیاں نرم اور کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی، اسرائیل کو ڈانٹ ڈپٹ کر چپ کرا دیا گیا اور سعودی عرب کی آہ و زاری بھی نظر انداز کر دی گئی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ 'شیطان اعظم' اور ایران دونوں مسکراتے ہوئے مذاکرات کر رہے ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی وقت ایک جامع معاہدہ عمل میں آ سکتا ہے۔ بات یہیں تک محدود نہیں ہے۔ عراق اور شام کی سرحدوں پر القاعدہ کے حامی مذہبی جنگجوؤں کے خلاف ایران اور امریکا در پردہ ایک دوسرے کے حلیف بنے ہوئے ہیں اور وہ وقت بھی آ سکتا ہے جب حلیف ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے اور ہم سب حیرت زدہ رہ جائیں۔
بات کا آغاز اس نکتے سے ہوا تھا کہ ہر قوم دنیا سے عزت اور وقار کا تقاضا کرتی ہے۔ اعلان ناموں کی حد تک تمام اقوام ایک دوسرے کی خود مختاری اور وقار کا احترام کرتی ہیں لیکن اصل اور حقیقی عزت اور وقار قوموں کو اس وقت نصیب ہوتا ہے جب دوسرے ملکوں کے مفادات کا تقاضا ہو کہ ایسا کرنے میں خود ان کا فائدہ ہے۔ جب یہ صورت پیدا ہوتی ہے تو بدترین نظریاتی اور مذہبی حریف بھی حلیف بن جاتے ہیں اور حریف کے نظام کو تباہ کرنے کے درپے ملک باہمی دشمنی ختم کر کے ایک دوسرے کے استحکام اور ترقی کے لیے کام کرنے لگتے ہیں۔
مذکورہ بالا تناظر میں آئیے ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں۔ ہم ہر ایک ملک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم سے برابری کی بنیاد پر مساویانہ سلوک کرے اور ہمارے وقار اور خود مختاری کا احترام کیا جائے۔ ہماری خواہش اپنی جگہ تاہم، اصل تصویر بڑی دل چسپ ہے۔ ہمارا معاملہ کچھ عجیب ہے۔ جو ملک ہمارے دوست ہیں، ان کو بھی ہم سے سخت شکایات ہیں۔ پاکستان امریکا دوستی کی تاریخ نصف صدی سے زیادہ پرانی ہے۔ اس کی فوجی اور مالی امداد پر ہمارا ملک چلتا ہے لیکن امریکا کو گلہ ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوغلی پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔ ہم اس کے آگے کشکول پھیلاتے ہیں اور ساتھ ہی اکڑ کر یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے سے باز رہے۔ چین سے ہماری دوستی بے مثال ہے لیکن اسے بھی ہم سے یہ شکوہ ہے کہ دہشت گرد ہمارے علاقوں سے آ کر وہاں کارروائی کرتے ہیں۔ سنکیانگ سے آنے والی خبریں اسی صورتحال کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ایران سے ہمارے تعلقات اچھے تھے لیکن وہ بھی کشیدہ ہوئے۔ ہندوستان اور افغانستان کی بات تو چھوڑیں۔ ایک وقت تھا کہ روس ہم پر الزامات لگایا کرتا تھا کہ ہم ''چیچن جانبازوں'' کی مدد کرتے ہیں آج ہم اپنے ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات پر حملوں میں ہلاک ہونے والے چیچن لڑاکوں کا ذکر کرتے ہیں۔ معاشی حالت ہماری اتنی خراب ہے کہ جو ملک ہماری طرف دیکھے ہم اس کے آگے امداد کے لیے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں۔ سیلاب بارشوں اور زلزلے کے لیے ہم نے سب سے پیسے لیے اور سب نے گلہ کیا کہ حق دار تک حق نہیں پہنچا۔ شاید ہی خطے اور دنیا کا کوئی اہم یا دوست ملک ہو گا جس کو ہم نے ناراض نہ کیا ہو۔
یہ مایوس کن صورت حال اپنی جگہ لیکن ایک خوش آئند پیش منظر بتدریج ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔گزشتہ 6 برس کے دوران جمہوری حکومتوں نے پاکستان کو علاقائی اور عالمی تنہائی سے نکالنے کی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ ہندوستان سے معاملات اس طور اچھے ہوئے ہیں کہ محاذ آرائی تھمی ہے اور مکالمے پر آمادگی نظر آتی ہے۔ افغانستان کو یہ شکایت نہیںہوئی ہے کہ ان کے صدارتی انتخابات میں ہماری طرف سے کوئی مداخلت ہوئی ہے۔ اعلیٰ حکومتی اور فوجی شخصیات کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران کا غصہ بھی کم ہوا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان اسامہ بن لادن کے واقعے کے بعد تعلقات جس قدر کشیدہ تھے ویسے اب نہیں ہیں۔ ہماری فوجی قیادت اور اور امریکی حکام کے درمیان بھی اعلیٰ سطح ملاقاتوں کے بعد دوریاں ختم ہوئی ہیں۔ صدر اوباما نے پاکستان کو معاشی ٹائیگر بنانے کا ذکر کیا ہے۔ چین کی طرف سے معاشی تعاون کے مثبت اشارے ملے ہیں۔ روس جو ہم سے بے انتہا شاکی تھا اب ہماری فضائیہ کو لڑاکا ہیلی کاپٹر دے رہا ہے۔
عالمی تنہائی سے نکلنے کا یہ مثبت عمل جاری رہتا ہے تو دنیا میں واقعی ہماری قدر و منزلت بڑھے گی اور ہمارے مسائل بھی کم ہوں گے۔ یہ سب جمہوری عمل کے تسلسل کا فطری نتیجہ ہے۔ ہم دس، دس سال آمرانہ حکومتوں میں رہے اور دنیا سے کٹے ہوئے رہے۔ صرف 6 سال کا جمہوری تسلسل ہماری عالمی تنہائی کو ختم کر رہا ہے۔ جمہوریت کے ان گنت فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے!
اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
معاشی اور مالی مفادات اس قدر طاقت ور ہوتے ہیں کہ وہ ہر رکاوٹ کو اپنے راستے سے ہٹا دیتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ نظریاتی اور مذہبی تضادات بھی ان مفادات کے سامنے بے اثر ہو جاتے ہیں۔ حالیہ دور کی دو مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ چین اور امریکا کے درمیان تضاد کتنا بھیانک تھا۔ چین کی نظر میں امریکا عالمی سامراج اور جدید نو آبادیاتی نظام کا سرخیل تھا۔ اس کی دیو ہیکل ملٹی اور ٹرانس نیشنل کمپنیوں کا کام نہ صرف امریکی بلکہ پوری دنیا کے عوام کا استحصال کرنا تھا۔ چین کو مکمل یقین تھا کہ وہ دن دور نہیں جب یہ '' کاغذی شیر'' میدان سے فرار ہو جائے گا اور امریکا میں بھی چین جیسا اشتراکی نظام قائم ہو جائے گا۔ امریکا بھی چین کے خلاف شدید نوعیت کے تحفظات رکھتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اشتراکیت کے نام پر اس ملک میں ایک پارٹی کی آمریت مسلط ہے۔
چینی شہریوں کو بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق حاصل نہیں ہیں، نہ انھیں اظہار خیال اور انجمن سازی کی آزادی ہے اور نہ شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کی حکومت منتخب کر سکیں۔ ان دو ملکوں کے درمیان تضاد نہایت شدید تھا کہ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کبھی ان کی دوستی بھی ہو سکتی ہے۔ ایسی گہری مخاصمت کے باوجود رفتہ رفتہ صورتحال کچھ سے کچھ ہو گئی۔ چین نے 80ء کی دہائی کے بعد ایک معاشی چھلانگ لگائی، ایسی اصلاحات عمل میں لائی گئیں جن کا تصور ماضی قریب کے چین میں ممکن ہی نہیں تھا۔ چین نے غیر ملکی سرمائے اور ٹیکنالوجی کے لیے اپنے دروازے کھول دیے جس کے نتیجے میں امریکی کمپنیوں کے وارے نیارے ہو گئے اور چین کی معیشت نے ناقابل یقین تیز رفتاری سے ترقی کرنی شروع کر دی اور 30 برسوں کے اندر چین ایک عالمی معاشی طاقت بن گیا۔ آج دنیا کے بازاروں میں چین اور امریکا دونوں کا ڈنکا بجتا ہے۔
ایک زمانہ وہ تھا جب یہ دونوں ملک ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے در پے تھے لیکن جب ان کے معاشی مفاد باہم مربوط ہوئے تو کہاں کی دشمنی اور کیسی نظریاتی آویزش۔ سامراجی کمپنیوں کے ہورڈنگ چین میں جگمگاتے ہیں اور اشتراکی چین کی مصنوعات امریکا کے بازاروں پر راج کرتی ہیں۔ 1998ء میں جب ہمارا طیارہ بیجنگ ایئرپورٹ پر اتر رہا تھا تو نگاہوں کے سامنے سب سے بلند نیون سائن میکڈونلڈ کا تھا اور اسے دیکھ کر میرے ساتھیوں کو اور مجھے سکتہ سا ہو گیا تھا۔ اس بات کو بہت دن گزر گئے، نظریاتی لڑائی ختم ہوئی، جنگ و جدل کی باتیں، انقلابی نعرے، سب قصہ پارینہ بن گئے۔ وہ جو ایک دوسرے کو فنا کرنے کے درپے تھے آج مل کر دنیا پر معاشی حکمرانی کرتے ہیں۔ چین اور امریکا اب لازم و ملزوم ہیں اور ان کے مابین اربوں نہیں، کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور تجارتی لین دین ہوتا ہے۔ چین کا استحکام اور ترقی امریکا کی جب کہ ڈالر کا استحکام اور امریکی معیشت کا جماؤ چین کی ضرورت بن چکا ہے۔
اب ایک دوسری مثال کی طرف آتے ہیں۔ ایران میں انقلاب برپا ہوا، امریکا اور سوویت یونین دو عالمی شیطان قرار پائے۔ سوویت یونین تحلیل ہوا تو امریکا کو شیطان اعظم کہا جانے لگا اور ایران کے کوچہ و بازار 'مرگ بر امریکا' کے نعروں سے گونجنے لگے۔ اس نظریاتی ٹکراؤ کے پس پشت مذہبی عوامل کارفرما تھے۔ ایران کے اسلامی انقلاب نے دنیا پر غلبہ پانے کا اعلان کیا۔ ایران اور امریکا کی باہمی کشیدگی نے کیا کیا رنگ نہیں دکھائے۔ ان کے ٹکراؤ کا ایک مظہر ایران عراق جنگ کی صورت میں سامنے آیا جو دس سال جاری رہی اور جس میں چند ہزار نہیں دونوں طرف لاکھوں نوجوان، فوجی اور شہری کام آئے۔ قاتل اور مقتول دونوں مسلمان تھے۔ بارہ پندرہ برس کے نوخیز شہیدوں سے قبرستان بھر گئے۔ ایک جوش تھا، انقلاب کا نعرہ تھا اور دنیا پر چھا جانے کا ارادہ تھا۔
وقت کا سفر جاری رہا۔ امریکا نے ایران پر کاروباری اور تجارتی پابندیاں عائد کیں اور اسے دنیا میں تنہا کر دیا۔ ایران نے اپنے خطے میں امریکا کے لیے سیاسی مسائل پیدا کیے۔ دونوں نے محاذ آرائی کی قیمت چکائی، بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک دوسرے کو ختم کرنے کے جنون کی بھاری قیمت خود انھیں دیوالیہ کر رہی ہے۔ ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضا مند ہوا، امریکا نے پابندیاں نرم اور کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی، اسرائیل کو ڈانٹ ڈپٹ کر چپ کرا دیا گیا اور سعودی عرب کی آہ و زاری بھی نظر انداز کر دی گئی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ 'شیطان اعظم' اور ایران دونوں مسکراتے ہوئے مذاکرات کر رہے ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی وقت ایک جامع معاہدہ عمل میں آ سکتا ہے۔ بات یہیں تک محدود نہیں ہے۔ عراق اور شام کی سرحدوں پر القاعدہ کے حامی مذہبی جنگجوؤں کے خلاف ایران اور امریکا در پردہ ایک دوسرے کے حلیف بنے ہوئے ہیں اور وہ وقت بھی آ سکتا ہے جب حلیف ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے اور ہم سب حیرت زدہ رہ جائیں۔
بات کا آغاز اس نکتے سے ہوا تھا کہ ہر قوم دنیا سے عزت اور وقار کا تقاضا کرتی ہے۔ اعلان ناموں کی حد تک تمام اقوام ایک دوسرے کی خود مختاری اور وقار کا احترام کرتی ہیں لیکن اصل اور حقیقی عزت اور وقار قوموں کو اس وقت نصیب ہوتا ہے جب دوسرے ملکوں کے مفادات کا تقاضا ہو کہ ایسا کرنے میں خود ان کا فائدہ ہے۔ جب یہ صورت پیدا ہوتی ہے تو بدترین نظریاتی اور مذہبی حریف بھی حلیف بن جاتے ہیں اور حریف کے نظام کو تباہ کرنے کے درپے ملک باہمی دشمنی ختم کر کے ایک دوسرے کے استحکام اور ترقی کے لیے کام کرنے لگتے ہیں۔
مذکورہ بالا تناظر میں آئیے ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں۔ ہم ہر ایک ملک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم سے برابری کی بنیاد پر مساویانہ سلوک کرے اور ہمارے وقار اور خود مختاری کا احترام کیا جائے۔ ہماری خواہش اپنی جگہ تاہم، اصل تصویر بڑی دل چسپ ہے۔ ہمارا معاملہ کچھ عجیب ہے۔ جو ملک ہمارے دوست ہیں، ان کو بھی ہم سے سخت شکایات ہیں۔ پاکستان امریکا دوستی کی تاریخ نصف صدی سے زیادہ پرانی ہے۔ اس کی فوجی اور مالی امداد پر ہمارا ملک چلتا ہے لیکن امریکا کو گلہ ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوغلی پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔ ہم اس کے آگے کشکول پھیلاتے ہیں اور ساتھ ہی اکڑ کر یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے سے باز رہے۔ چین سے ہماری دوستی بے مثال ہے لیکن اسے بھی ہم سے یہ شکوہ ہے کہ دہشت گرد ہمارے علاقوں سے آ کر وہاں کارروائی کرتے ہیں۔ سنکیانگ سے آنے والی خبریں اسی صورتحال کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ایران سے ہمارے تعلقات اچھے تھے لیکن وہ بھی کشیدہ ہوئے۔ ہندوستان اور افغانستان کی بات تو چھوڑیں۔ ایک وقت تھا کہ روس ہم پر الزامات لگایا کرتا تھا کہ ہم ''چیچن جانبازوں'' کی مدد کرتے ہیں آج ہم اپنے ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات پر حملوں میں ہلاک ہونے والے چیچن لڑاکوں کا ذکر کرتے ہیں۔ معاشی حالت ہماری اتنی خراب ہے کہ جو ملک ہماری طرف دیکھے ہم اس کے آگے امداد کے لیے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں۔ سیلاب بارشوں اور زلزلے کے لیے ہم نے سب سے پیسے لیے اور سب نے گلہ کیا کہ حق دار تک حق نہیں پہنچا۔ شاید ہی خطے اور دنیا کا کوئی اہم یا دوست ملک ہو گا جس کو ہم نے ناراض نہ کیا ہو۔
یہ مایوس کن صورت حال اپنی جگہ لیکن ایک خوش آئند پیش منظر بتدریج ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔گزشتہ 6 برس کے دوران جمہوری حکومتوں نے پاکستان کو علاقائی اور عالمی تنہائی سے نکالنے کی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ ہندوستان سے معاملات اس طور اچھے ہوئے ہیں کہ محاذ آرائی تھمی ہے اور مکالمے پر آمادگی نظر آتی ہے۔ افغانستان کو یہ شکایت نہیںہوئی ہے کہ ان کے صدارتی انتخابات میں ہماری طرف سے کوئی مداخلت ہوئی ہے۔ اعلیٰ حکومتی اور فوجی شخصیات کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران کا غصہ بھی کم ہوا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان اسامہ بن لادن کے واقعے کے بعد تعلقات جس قدر کشیدہ تھے ویسے اب نہیں ہیں۔ ہماری فوجی قیادت اور اور امریکی حکام کے درمیان بھی اعلیٰ سطح ملاقاتوں کے بعد دوریاں ختم ہوئی ہیں۔ صدر اوباما نے پاکستان کو معاشی ٹائیگر بنانے کا ذکر کیا ہے۔ چین کی طرف سے معاشی تعاون کے مثبت اشارے ملے ہیں۔ روس جو ہم سے بے انتہا شاکی تھا اب ہماری فضائیہ کو لڑاکا ہیلی کاپٹر دے رہا ہے۔
عالمی تنہائی سے نکلنے کا یہ مثبت عمل جاری رہتا ہے تو دنیا میں واقعی ہماری قدر و منزلت بڑھے گی اور ہمارے مسائل بھی کم ہوں گے۔ یہ سب جمہوری عمل کے تسلسل کا فطری نتیجہ ہے۔ ہم دس، دس سال آمرانہ حکومتوں میں رہے اور دنیا سے کٹے ہوئے رہے۔ صرف 6 سال کا جمہوری تسلسل ہماری عالمی تنہائی کو ختم کر رہا ہے۔ جمہوریت کے ان گنت فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے!
اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟