موٹر رجسٹریشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں 900 فیصد اضافے سے شہری پریشان
گاڑیاں جتنی مرتبہ ٹرانسفر کی جائیں گی ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا، خدشہ ہے کہ شہری گاڑیوں کو اوپن لیٹر پر چلائیں گے
عوام کے ساتھ ظلم ہے، مسائل میں اضافہ ہوگا، سندھ حکومت وفاق کے سامنے مسئلہ اٹھائے، وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن فوٹو: فائل
سندھ کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمار چاؤلہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کیلیے موٹر رجسٹریشن پر سالانہ ایڈوانس ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو 2 حصوں میں تقسیم کرکے اس میں کم سے کم 50 اور زیادہ سے زیادہ 900 فیصد اضافہ کردیا۔
ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ عوام پر سراسر ظلم اور زیادتی کے مترادف ہے جبکہ گاڑیاں جتنی مرتبہ ٹرانسفر کی جائیں گی صارف کو ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا، اس سے خدشہ ہے کہ شہری اپنی گاڑیوں کو اوپن لیٹر پر چلائیں گے اور ٹیکس ادا نہیں کریں گے جس کی وجہ سے یہ گاڑیاں اگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوئیں تو اس سے نہ صرف ان گاڑیوں کو استعمال کرنے والے مالکان کو ڈھونڈنا مشکل ہوجائیگا بلکہ اس سارے معاملے کا ملبہ گاڑی کے سب سے پہلے مالک پر گرے گا، جس کی وجہ سے کراچی سمیت صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوجائے گی اور حکومت کے ریونیو میں کمی واقع ہوگی۔
وفاقی حکومت اس معاملے کا فوری نوٹس لے ، وزیر اعلیٰ سندھ سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا جائے اور نظر ثانی کا مطالبہ کیا جائے ، ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتہ کو اپنے دفترمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر ڈی جی ایکسائز شعیب احمد صدیقی بھی موجود تھے، انھوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے گاڑیوں کی رجسٹریشن پر جو ٹیکس میں اضافہ کیا ہے وہ ہوشربا ہے جس کے براہ راست اثرات سندھ کے ٹیکس نظام پر مرتب ہوں گے اور سندھ کے ریونیو میں بڑی حد تک کمی آجائے گی، انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت موٹر رجسٹریشن پر انکم ٹیکس کی سیکشن B321 کے تحت سالانہ ودہولڈنگ ٹیکس وصول کرتی ہے جو 850 سی سی گاڑیوں 7500 روپے ،2000 سی سی یا اس سے اوپر کی گاڑیوں پر یہ ٹیکس 50000 روپے تک تھا ، نئے مالی سال کے بجٹ میں اس کی مختلف کیٹگریز میں اس ٹیکس کی شرح کو 50 فیصد سے 900 فیصد تک بڑھادیا گیا ہے، 25 جون کو ایف بی آر نے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے اس حکم نامے کے تحت انکم ٹیکس فائلر اگر 850 سی سی گاڑی خریدیں گے تو اس پر ٹیکس کی شرح بڑھا کر 7500 سے بڑھاکر 10000 روپے کردی گئی ہے، 2000 سی سی پر 50000 سے بڑھاکر 150000 اور 3000 سی سی پر اس ٹیکس کی شرح ڈھائی لاکھ روپے تک کردی گئی ہے ،جس میں بتدریج 50 فیصد سے 300 فیصد اور 500 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ نان انکم ٹیکس فائلر کیٹگری میں 850 سی سی گاڑی پر یہ ٹیکس 10000 ہزار روپے ہی رہے گا جبکہ 2000 سی سی پر یہ ٹیکس 3لاکھ روپے اور 3000 سی سی گاڑیوں پر یہ ٹیکس ساڑھے 4 لاکھ تک ادا کرنا ہوگا ۔اس ٹیکس میں بتدریج 50سے 600اور 900فیصد اضافہ کیا گیا ہے، مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ انکم ٹیکس سیکشن کی دفعہ 234 کے تحت ایک اور ٹیکس جس کو ہم ایڈوانس ودہولڈنگ ٹیکس کہتے ہیں اس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے ،چھوٹی گاڑیوں پر یہ ٹیکس 750 روپے وصول کیا جاتا تھا جو بڑھا کر ایک ہزار روپے، بڑی گاڑیوں پر 12000 روپے سے بڑھا کر 24000 روپے کردیا گیا ہے ،اس ٹیکس میں بھی اضافہ 50 سے 300 فیصد تک کیا گیا ہے ۔
ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ عوام پر سراسر ظلم اور زیادتی کے مترادف ہے جبکہ گاڑیاں جتنی مرتبہ ٹرانسفر کی جائیں گی صارف کو ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا، اس سے خدشہ ہے کہ شہری اپنی گاڑیوں کو اوپن لیٹر پر چلائیں گے اور ٹیکس ادا نہیں کریں گے جس کی وجہ سے یہ گاڑیاں اگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوئیں تو اس سے نہ صرف ان گاڑیوں کو استعمال کرنے والے مالکان کو ڈھونڈنا مشکل ہوجائیگا بلکہ اس سارے معاملے کا ملبہ گاڑی کے سب سے پہلے مالک پر گرے گا، جس کی وجہ سے کراچی سمیت صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوجائے گی اور حکومت کے ریونیو میں کمی واقع ہوگی۔
وفاقی حکومت اس معاملے کا فوری نوٹس لے ، وزیر اعلیٰ سندھ سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا جائے اور نظر ثانی کا مطالبہ کیا جائے ، ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتہ کو اپنے دفترمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر ڈی جی ایکسائز شعیب احمد صدیقی بھی موجود تھے، انھوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے گاڑیوں کی رجسٹریشن پر جو ٹیکس میں اضافہ کیا ہے وہ ہوشربا ہے جس کے براہ راست اثرات سندھ کے ٹیکس نظام پر مرتب ہوں گے اور سندھ کے ریونیو میں بڑی حد تک کمی آجائے گی، انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت موٹر رجسٹریشن پر انکم ٹیکس کی سیکشن B321 کے تحت سالانہ ودہولڈنگ ٹیکس وصول کرتی ہے جو 850 سی سی گاڑیوں 7500 روپے ،2000 سی سی یا اس سے اوپر کی گاڑیوں پر یہ ٹیکس 50000 روپے تک تھا ، نئے مالی سال کے بجٹ میں اس کی مختلف کیٹگریز میں اس ٹیکس کی شرح کو 50 فیصد سے 900 فیصد تک بڑھادیا گیا ہے، 25 جون کو ایف بی آر نے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے اس حکم نامے کے تحت انکم ٹیکس فائلر اگر 850 سی سی گاڑی خریدیں گے تو اس پر ٹیکس کی شرح بڑھا کر 7500 سے بڑھاکر 10000 روپے کردی گئی ہے، 2000 سی سی پر 50000 سے بڑھاکر 150000 اور 3000 سی سی پر اس ٹیکس کی شرح ڈھائی لاکھ روپے تک کردی گئی ہے ،جس میں بتدریج 50 فیصد سے 300 فیصد اور 500 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ نان انکم ٹیکس فائلر کیٹگری میں 850 سی سی گاڑی پر یہ ٹیکس 10000 ہزار روپے ہی رہے گا جبکہ 2000 سی سی پر یہ ٹیکس 3لاکھ روپے اور 3000 سی سی گاڑیوں پر یہ ٹیکس ساڑھے 4 لاکھ تک ادا کرنا ہوگا ۔اس ٹیکس میں بتدریج 50سے 600اور 900فیصد اضافہ کیا گیا ہے، مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ انکم ٹیکس سیکشن کی دفعہ 234 کے تحت ایک اور ٹیکس جس کو ہم ایڈوانس ودہولڈنگ ٹیکس کہتے ہیں اس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے ،چھوٹی گاڑیوں پر یہ ٹیکس 750 روپے وصول کیا جاتا تھا جو بڑھا کر ایک ہزار روپے، بڑی گاڑیوں پر 12000 روپے سے بڑھا کر 24000 روپے کردیا گیا ہے ،اس ٹیکس میں بھی اضافہ 50 سے 300 فیصد تک کیا گیا ہے ۔