تھائی لینڈ میں جمہوریت کی بحالی کا امکان

تھائی لینڈ کی فوجی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ آیندہ مہینے ایک عبوری آئین دے گی

عام انتخابات آئین کی منظوری کے تین ماہ بعد کرا دیے جائیں گے، پرایتھ چن اوچا فوٹو:اے ایف پی/فائل

تھائی لینڈ کی فوجی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ آیندہ مہینے ایک عبوری آئین دے گی اور جس کے تحت اکتوبر 2015 تک آیندہ انتخابات منعقد ہو جائیں گے۔ آرمی کے کمانڈر جنرل پرایتھ چن اوچا نے گزشتہ مہینے ایک فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت پر قبضہ کیا ۔ انھوں نے واضح کیا کہ عبوری آئین کے تحت نئی قانون ساز اسمبلی اور کابینہ وجود میں آئے گی۔ پرایتھ چن اوچا نے ٹیلی ویژن پر تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات آئین کی منظوری کے تین ماہ بعد کرا دیے جائیں گے۔

واضح رہے فوج نے 22 مئی 2014 کو خون بہائے بغیر ایک بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا جب کہ منتخب حکومت کو جو تین سال قبل اکثریتی ووٹوں کی بنیاد پر تشکیل پائی تھی اس کا تختہ الٹا دیا اپنے اس اقدام کی صفائی پیش کرتے ہوئے جنرل پرایتھ چن اوچانے کہا کہ ایسا کرنا بہت ضروری ہو گیا تھا تاہم انھوں نے اپنی تقریر میں سیاسی اصلاحات کی کوئی بات نہیں کی۔ پرایتھ چن اوچا نے کہا کہ قومی اصلاحاتی کونسل (این آر سی) ہی سیاسی سماجی ماحولیاتی اور عدلیہ کی اصلاحات تجویز کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ قومی حکومت کی یہ کوشش ہو گی کہ انتخابات نئے آئین کے تحت منعقد ہوں نیز یہ انتخابات صاف شفاف اور عادلانہ ہونے چاہئیں تاکہ تھائی لینڈ کی جمہوریت کو ٹھوس اور پائیدار بنیاد میسر آ سکے۔ ہم ایسا سیاسی نظام چاہتے ہیں جو کہ ملک کی تعمیر و ترقی کو مہمیز کر سکے اور ماضی کی غلطیوں کے اعادہ کا امکان کم سے کم باقی رہے۔ دریں اثناء فوجی حکومت پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وردی والے لوگ چاہتے ہیں اس جمہوریت کا عمل دخل کم سے کم ہو جائے اور اس طرح سیاستدانوں کی قوت میں بھی خود بخود کمی آ جائے گی۔ حکمران اشرافیہ کی ہر صورت یہ کوشش ہے کہ اصل اقتدار اسی کے ہاتھ میں رہے۔


جنرل پرایتھ چن اوچا نے اپنی تقریر میں اس بین الاقوامی نکتہ چینی کا ذکر نہیں کیا جو بین الاقوامی میڈیا کی طرف سے ان پر کی جا رہی ہے۔ جنرل پرایتھ چن اوچا نے کہا کہ اگر ہم آج ہی انتخابات منعقد کرانے کا اعلان کردیں تو اس سے ملک بھر میں افراتفری اور اضطراب پھیل جائے گا۔ لیکن ہم ہر گز ایسا نہیں چاہتے کہ ملک کا امن و امان کسی وجہ سے تباہ و برباد ہو جائے۔ جنرل پرایتھ چن اوچا نے کہا انھیں توقع ہے کہ امریکا اپنے موقف پر نظرثانی کر کے اسی انداز سے سوچنے کی کوشش کرے گا جس طرح کہ تھائی لینڈ کو عوام سوچ رہے ہیں۔ جنرل کا کہنا تھا کہ عوام فوج کے اس اقدام سے ناراض ہونے کے بجائے الٹا خوش ہوئے ہیں۔

انھوں نے سابقہ حکومت کی بعض اہم شخصیات کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ملکی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جس کا ملک کے محب وطن عوام کو رنج ہے اور ہم کوشش کریں گے کہ وطن عزیز کو پہنچنے والے نقصان کی بہر صورت تلافی کرنے کی کوئی قابل عمل راہ نکالی جا سکے۔تیسری دنیا کا المیہ یہ ہے کہ یہاں جمہوریت محدود مدت کے لیے آتی ہے اور پھر آمریت قائم ہو جاتی ہے' اس صورت حال کا ذمے دار کون ہے اس حوالے سے جمہوری قوتوں کا اپنا سچ ہے جب کہ آمریت کا بھی اپنا سچ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک میں معاشی پسماندگی اور ناخواندگی کے باعث جمہوری قوتوں میں بھی ایسی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں جن کے باعث کرپشن اور اقربا پروری کو ہوا ملتی ہے اور ملک میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس بے چینی کا فائدہ اٹھا کر آمریت جمہوریت قوتوں کا تختہ الٹ کر برسراقتدار آ جاتی ہے۔ پاکستان کی جمہوری قوتوں کو بھی تھائی لینڈ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ پاکستان ایک سے زیادہ مرتبہ فوجی آمریت سے لطف اندوز ہونے کا تجربہ رکھتا ہے اس وقت اگرچہ گزشتہ تیرہ مہینے سے ایک جمہوری حکومت معاملات چلا رہی ہے مگر حالات اس کے لیے بھی نامساعد بنتے نظر آتے ہیں۔
Load Next Story