ضرب عضب میں مزید کامیابیاں

شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب نہایت کامیابی سے جاری ہے۔

آپریشن ضرب عضب میں روزانہ دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک اور ان کے ٹھکانے تباہ ہو رہے ہیں۔ فوٹو؛ فائل

شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب نہایت کامیابی سے جاری ہے۔ پاک فوج نے ہفتے کو تحریک طالبان پاکستان کے اہم کمانڈر عمر سمیت 18 دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے چھ ٹھکانوں کو تباہ کر دیا جب کہ بارودی سرنگیں اور خود کش جیکٹ تیار کرنے کے ماہر القاعدہ کے اہم کمانڈر سمیت چار دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہفتے کی صبح میران شاہ کے قریب توپ خانے' ٹینکوں اور بھاری ہتھیاروں کی مدد سے ہونے والی فوجی کارروائی میں سات دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔

فوج آپریشن ضرب عضب میں بڑی تیزی سے کامیابیاں حاصل کر رہی ہے، روزانہ دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک اور ان کے ٹھکانے تباہ ہو رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق دہشت گرد اپنی جان بچانے کے لیے مہاجرین کے روپ میں فرار ہونے کی کوشش بھی کر رہے ہیں، کچھ گھنے جنگلوں میں فرار ہو گئے ہیں۔ فوجی ذرایع کے مطابق میانوالی کے قریب دریائے سندھ کے راستے فرار ہونے کی کوشش میں تین دہشت گردوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ تمام کراسنگ پوائنٹس پر خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کو گرفتارکیا جا سکے۔

ترجمان کے مطابق 19 دہشت گردوں کے سرنڈر کرنے کی بھی اطلاعات ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ مزید دہشت گرد ہتھیار ڈال دیں گے۔ ترجمان کے مطابق شمالی وزیرستان سے شہری آبادی کو نکال لیا گیا ہے۔ وطن دشمنوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے، پاک فوج اور پاک فضائیہ کے جوانوں نے دہشت گردوں کے بھاگنے کے تمام راستے مسدود کر رکھے ہیں اور مختلف علاقوں میں فوجی دستوں کی کامیابی سے پیش قدمی جاری ہے۔

عسکری ذرایع کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب چار مراحل میں مکمل ہو گا اس علاقے میں جلد حکومتی رٹ قائم ہو جائے گی۔ فوج نے جس مہارت اور بہتر منصوبہ بندی سے آپریشن شروع کیا اور وطن دشمنوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ کوئی بھی مسلح گروہ خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور پاک فوج اپنی حکمت عملی اور بہترین تربیت کے باعث طاقتور سے طاقتور گروہ کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔


آپریشن سے قبل بعض قوتوں کی جانب سے یہ تاثر پھیلایا جا رہا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو پاکستان ایک نئی مشکل کا شکار ہو جائے گا اور یہ جنگ پورے ملک میں پھیل جائے گی، دہشت گرد بہت طاقتور ہیں لہٰذا ان کے خلاف کسی قسم کے آپریشن سے گریز کیا جائے اور اگر ایسا کرنے کی غلطی کی گئی تو اس سے پاکستانی فورسز کا بہت بھاری جانی و مالی نقصان ہو گا۔

ان قوتوں نے دہشت گردوں کا ہوا کھڑا کر رکھا تھا اور مختلف انداز میں دہشت گردوں کی حمایت کر رہیں اور حکومت پر مسلسل دبائو ڈال رہی تھیں کہ ان کے خلاف آپریشن کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے مگر اس کے برعکس دوسری قوتوں کا خیال تھا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کا بہترین حل مذاکرات کے بجائے آپریشن ہی ہے، فوج نے جب بھی آپریشن شروع کیا دہشت گرد شکست کھا جائیں گے۔ دہشت گردوں کا بھی یہ خیال تھا کہ چونکہ ملک کے اندر ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لہٰذا حکومت اور فوج ان کے خلاف آپریشن سے گریز کریں گی۔ اپنے اسی گمان کے تحت انھوں نے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھیں۔

جب حکومت نے مختلف مذہبی اور سیاسی قوتوں کے دبائو پر دہشت گردوں سے مذاکرات کا عمل شروع کیا تو اس دوران بھی دہشت گردوں نے سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا اور خود کو ایک ناقابل شکست گروہ ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ بالآخر حکومت کو یہ احساس ہو گیا کہ دہشت گرد مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر ملکی اداروں کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں اور امن و امان قائم کرنے کا واحد حل آپریشن ہی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اگر حکومت ان کے خلاف یہ فیصلہ پہلے ہی کر لیتی تو اب تک دہشت گردوں کا صفایا ہو چکا ہوتا اور شمالی وزیرستان سمیت ملک بھر میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہو چکی ہوتی۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ فوج اپنے آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے قبائلی عمائدین کی حمایت حاصل کر چکی ہے اور عمائدین بھی اس بات کی یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کو دوبارہ وزیرستان میں آنے نہیں دیں گے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں پر قابو پانے کے لیے اور دہشت گردوں کے مابین رابطوں کا نظام کمزور کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے افغان رومنگ سمیں بھی بند کرنے کا حکم دیا۔ آپریشن سے متاثر ہونے والے آئی ڈی پیز کے مسئلے سے فوج نہایت خوش اسلوبی اور مہارت سے نمٹ رہی ہے۔ فوج کی طرف سے مہاجرین کے لیے ایک دن کی تنخواہ اور ایک ماہ کا راشن دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان سے تمام سول آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے امدادی اشیا اکٹھی کرنے کے لیے ملک بھر میں 53 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ بنوں میں آرمی کا فیلڈ اسپتال قائم کر دیا گیا ہے۔ موبائل میڈیکل ٹیمیں بھی آئی ڈی پیز کو طبی سہولتیں مہیا کر رہی ہیں۔ آئی ڈی پیز میں رقم کی تقسیم کے لیے موبائل سمیں بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔ ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے اور امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مشکل مرحلے میں حکومت اور فوج کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور آئی ڈی پیز کے مسئلے سے بھی نمٹنے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ قوم کا تعاون ہی کسی مشکل سے کامیابی سے نمٹنے کی ضمانت ہوتا ہے۔
Load Next Story