عوامی تحریک کی آل پارٹیز کانفرنس

آل پارٹیز کانفرنس میں تحریک انصاف، مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی سمیت50 کے قریب جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی۔

ملک میں اس وقت سیاسی سطح پر نئی پیچیدہ صورت حال پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک جانب اپوزیشن پارٹیاں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کر کے حکومت کے وجود کے لیے خطرات کی گھنٹیاں بجا رہی ہیں تو دوسری جانب حکومت سنجیدگی سے اپنی بقا کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اپوزیشن کی اے پی سی میں شریک نہ ہونے والی سیاسی جماعتوں سے رابطے کے لیے پر تول رہی ہے۔ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد پہلی بار اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی ہے۔

اس کانفرنس میں حکومت کے خلاف اعلامیہ تو جاری کیا گیا مگر آیندہ کے سیاسی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا اور نہ حکومت مخالف کسی نئے سیاسی اتحاد کا اعلان کیا گیا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی بنیادی وجہ سانحہ ماڈل ٹائون بنا۔ پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس طاہر القادری کی زیر صدارت منہاج القرآن سیکریٹریٹ لاہور میں ہوئی جس میں تحریک انصاف، مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، سنی اتحاد کونسل، تحریک صوبہ ہزارہ، مجلس وحدت المسلمین، بلوچستان نیشنل پارٹی' سندھ یونائیٹڈ فرنٹ، اے پی ایم ایل سمیت50 کے قریب جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر 5نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ماڈل ٹائون سانحہ کے ذمے دار ہیں، ان کی موجودگی میں غیر جانبدار تفتیش ممکن نہیں،وہ اور دیگر ملوث وزراء فی الفور مستعفی ہو کر خود کو قانون کے حوالے کریں۔ وزیراعلٰی خود مستعفی نہ ہوں تو صدر مملکت بحیثیت سربراہ ریاست ان کو ہٹانے کے لیے کردار ادا کریں، سانحہ میں ملوث افسروں بشمول آئی جی' ڈی آئی جی آپریشنز' ہوم سیکریٹری ' ڈی سی او 'سی سی پی او ' ایس ایس پیز ' ایس پی ماڈل ٹائون اور متعلقہ ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو فوری طور پر برطرف کر کے قتل عام ' دہشتگردی اور اقدام قتل کے جرم میں گرفتار کیا جائے۔

اعلامیے میں ماڈل ٹائون سانحہ پر حکومت کی طرف سے تشکیل دیے گئے جوڈیشل کمیشن پر عدم تحفظ کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے3ججوں پر مشتمل با اختیار جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جن پرمتاثرین کو مکمل اعتماد ہو اور وہ وزیراعظم، وزرا اور وزیراعلٰی سمیت کسی بھی شخصیت کو طلب کر سکے، واقعے کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی اداروں کے اچھی شہرت کے حامل اعلیٰ افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے۔


اعلامیہ میں پولیس کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر، تحقیقاتی کمیٹی اور عدالتی کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ گیا کہ منہاج القرآن کی جانب سے دی گئی درخواست پر نامزد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے جب کہ دہشتگردی کا شکار ہونے والے مظلومین، متاثرین اور مختلف شہروں میں مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں۔حکومت نے سانحہ ماڈل ٹائون کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر توقیر شاہ سے استعفیٰ لے لیا تھا۔ پولیس افسران کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

رانا ثناء اللہ اور ڈاکٹر توقیر شاہ دونوں سانحہ ماڈل ٹائون میں تحقیقات کرنے والے عدالتی ٹریبونل کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ آل پارٹیز کانفرنس نے تو اپنی مطالبات پیش کر دیے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں جو جماعتیں شریک ہوئیں ان میں سے بعض اسٹریٹ پاور کی حامل ہیں دوسری جانب عمران خان بھی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کر چکے ہیں اگر حکومت مخالف تمام جماعتیں گرینڈ الائنس تشکیل دے کر سڑکوں پر آ جاتیں اور احتجاجی تحریک شروع کر دیتی ہیں تو سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق حکومت کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ایسی صورت میں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں ابھی اس کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ احتجاجی تحریک کی صورت میں نیا سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلز پارٹی' جمعیت علمائے اسلام' اے این پی' جمعیت علمائے پاکستان اور مرکزی جمعیت اہل حدیث شریک نہیں ہوئیں۔ جے یو پی کے ترجمان کے مطابق وہ جمہوریت کے خلاف ہونے والے کسی اجتماع کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ملک میں مختلف سیاسی جماعتوں کے دو بڑے اتحاد وجود میں آنے کا امکان ہے۔

ایک اتحاد حکومت اور اس سے اتفاق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا اور دوسرا اتحاد حکومت مخالف جماعتوں کا نظر آ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آیندہ ہفتے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات متوقع ہے۔ حکومت نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے والی جماعتوں سے بھی رابطے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرایع کے مطابق جاتی عمرہ میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ جمہوریت کو عدم استحکام کا شکارکرنے والوں اور لانگ مارچ کی باتیں کرنے والوں کا ایجنڈا ہم کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ عوام نے ہمیں پانچ سال کے لیے حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے' مخالف سیاسی جماعتیں آیندہ انتخابات کا انتظار کریں۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنے نظریات کے مطابق سیاست ضرور کریں مگر کوئی ایسا اقدام نہ کریں جس سے جمہوریت کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے۔
Load Next Story