رمضان میں شیطان بند اور …
کسی رپورٹر کے لیے کیا ہے جو پاکستان میں نہیں ہے۔ اس ملک میں ایک باقاعدہ جنگ جاری ہے
Abdulqhasan@hotmail.com
کسی رپورٹر کے لیے کیا ہے جو پاکستان میں نہیں ہے۔ اس ملک میں ایک باقاعدہ جنگ جاری ہے جس کے پس منظر میں خفیہ انداز میں ہمارا پیدائشی دشمن سرگرم ہے اور جس میں ہماری باقاعدہ فوج حصہ لے رہی ہے اور وہ بھی رسول پاکﷺ کی ایک تلوار مبارک کے نام پر، ایک تو جہاد ہی ایک مقدس جنگ ہے اس پر آنحضرتؐ کا اسم گرامی کامیابی و کامرانی کا پیغام۔ ہماری سرزمین پر ہمارا دشمن کھلی جنگ تو نہ کر سکا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ پاکستان کے ساتھ باقاعدہ جنگ کا مطلب کیا ہے۔
پاکستان دشمن کے مقابلے میں بظاہر ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کی آبادی اور ر قبہ کم ہے اور اسی اعتبار سے وہ فوجی میدان میں بھی دشمن کے مقابلے میں کمزور سمجھا جاتا ہے اس لیے پاکستان نے اپنی کمزوری کی وجہ سے اپنی طاقت سنبھال اور بچا رکھی ہے جو کسی بھی وقت اسے استعمال کرنی پڑ سکتی ہے اس طرح جو ملک ایک باقاعدہ جنگ میں مصروف ہو اس میں خبروں کی کیا قلت ہو سکتی ہے اور خبروں کے رپورٹروں کو کیسے چین مل سکتا ہے۔ عبرت ناک بات ایک یہ ہے کہ باقاعدہ جنگ کے باوجود ہماری سیاست میں بھی جنگ جاری ہے اور سیاستدان زبانی کلامی دست و گریبان ہیں۔
اس وقت تک تو سیاستدانوں کا یہ زور رہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو اپنے جلسے جلوسوں میں جمع کر سکیں۔ ایک صاحب ہیں طاہر القادری جو نصف پاکستانی اور نصف یورپی یعنی کینیڈین ہیں۔ ان کی چرب زبانی اور پاکستانیوں کے مسائل کے ہجوم نے پاکستانیوں کی مت مار رکھی ہے جس کی وجہ سے وہ بڑی تعداد میں قادری صاحب کے ساتھ تھے یا اب بھی ہیں۔ دوسرے سدا بہار لیڈر جناب عمران خان ہیں۔ ان کے صرف دو بیٹے اور بیٹے دو ہی ہیں جو برطانیہ میں مقیم ہیں وہیں پیدا ہوئے اور وہیں قیام پذیر اور زیر تعلیم ہیں۔
اس لیے عمران خان کی جائداد اور میراث تو برطانیہ میں ہے لیکن وہ خود پاکستان میں مقیم ہیں اور اس طرح سو فی صد پاکستانی ہیں۔ پاکستان کے عوام ان کے ساتھ زیادہ رغبت رکھتے ہیں۔ ایک تو عمران خان کی زندگی انھی میں گزری انھوں نے کینسر اسپتال جیسے منصوبے اسی ملک میں تعمیر کیے اور مزید منصوبے بھی اسی ملک میں زیر تکمیل ہیں یا کچھ مکمل ہو چکے ہیں۔ یوں عمران ہر لحاظ سے پاکستانی ہیں اور صرف پاکستانی۔
یوں تو چند ایک بلکہ دو چار دوسرے لیڈر بھی عوام دوستی کا دم بھرتے ہیں مگر وہ عوام میں مقبول نہیں ہیں اس لیے کسی دائو میں رہتے ہیں کبھی کسی اپنے سے بڑی پارٹی کے ساتھ مل جاتے ہیں اور کبھی عوام کو کوئی ایسا چکر دیتے ہیں جس کے بارے میں انھیں پتہ ہوتا ہے کہ اس پر عمل کی نوبت نہیں آئے گی اور یوں عزت بچ جائے گی۔ جو پارٹی برسراقتدار ہے اس کے ساتھ اپوزیشن کی چھیڑ چھاڑ زور و شور کے ساتھ جاری رہتی ہے جو جماعتیں عوام کی ایک بڑی تعداد ساتھ رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں وہ حکومت پر ٹوٹ پڑتی ہیں جیسے اب سانحہ ماڈل ٹاؤن کے نتیجے میں میاں شہباز صاحب سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اس پر بات پھر ہو گی فی الحال عوام کے لیے یہ خوشخبری کہ رمضان المبارک شروع ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی شیطان بند کر دیے گئے ہیں لیکن پھر بھی کچھ بند ہونے سے رہ گئے ہیں اور فرشتوں کی نظر بچا کر سیاست کی دنیا میں پناہ گزین ہو گئے ہیں لیکن پھر بھی روزہ دار مسلمان ان سے باخبر ہیں اور ان کے بھرے میں نہیں آتے انھیں مسترد کر رہے ہیں اور ان سے ہوشیار رہتے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی وقت بند کیے جا سکتے ہیں۔
خود سیاستدان بس بہت عقلمند ہیں اور انھیں چونکہ رمضان المبارک اور شیطان پر پابندی کا علم ہے اس لیے انھوں نے اپنی اصل سرگرمیاں رمضان المبارک میں بند کر دی ہیں اور ہر سرگرمی عیدالفطر کے بعد شروع کرنے کا اعلان کرتے ہیں یعنی انھوں نے شیطان کے ساتھ رضاکارانہ تعاون کیا ہے اور شیطان کو اپنی طرف سے کھلی چھٹی دے دی ہے۔ سیاستدانوں اور شیطانوں کی بندش عوام کے لیے اطمینان کا باعث ہے اور وہ اس وقت اپنے مجاہدین کی خیر و عافیت کے لیے دعائوں میں مصروف رہتے ہیں بلکہ یوں کہیں کہ قدرت نے انھیں اپنے مجاہدوں کی خدمت کا موقع عطا کر دیا ہے۔
مسلمانوں کے کسی گروہ کو قسمت سے ہی ایسا موقع ملتا ہے کہ وہ اللہ اور رسول پاکؐ کے نام پر زندگی کا نذرانہ پیش کر سکیں یا مجاہدوں کی کسی صورت میں خدمت کر سکیں۔ کوئی بھی مجاہد تنہا نہیں ہوتا وہ ایک گھر کا فرد ہوتا ہے بھائیوں اور مائوں بہنوں کے ساتھ زندگی بسر کرنے والا وہ جب مجاہد ہو جاتا ہے تو گھر یا گھر بار سمیت وہ اس فرض میں حصہ لیتا ہے اور یہ طے کر لیتا ہے کہ اس نے جان بھی پیش کر دینی ہے۔ کیونکہ اس نے خدا کے ساتھ اپنی زندگی کا سودا کیا ہے۔ کیا خوش نصیب ہیں وہ پاکستانی نوجوان جو اس وقت میدان جہاد میں اپنی شجاعت اور ایمانی جذبے کی قربانی دے رہے ہیں۔
ظاہر ہے کہ ہمارے پاس تو ان کے لیے الفاظ نہیں ہیں جو اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کی شان میں یوں بیان کی ہے کہ وہ مرتے نہیں ہیں زندہ رہتے ہیں بس تم انھیں دیکھ نہیں سکتے ورنہ وہ آپ کی طرح کھاتے پیتے ہیں اور زندگی بسر کرتے ہیں۔ اب کسی انسان کی کیا جرات کہ وہ مجاہدین اور شہداء کی شان میں کچھ عرض کر سکے۔ جیسا کہ کہا ہے ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے بھائی جہاد کے میدان میں ہیں اور ہم ان کی یاد میں ان کے گھر والوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ایسی مصروفیت بھی قسمت سے ملتی ہے اور ان کو یہ خوشخبری تو مل چکی ہے کہ شیطان بند کر دیے گئے ہیں اب شیطانوں کے ساتھ وہ جس کو چاہیں ملا لیں۔
پاکستان دشمن کے مقابلے میں بظاہر ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کی آبادی اور ر قبہ کم ہے اور اسی اعتبار سے وہ فوجی میدان میں بھی دشمن کے مقابلے میں کمزور سمجھا جاتا ہے اس لیے پاکستان نے اپنی کمزوری کی وجہ سے اپنی طاقت سنبھال اور بچا رکھی ہے جو کسی بھی وقت اسے استعمال کرنی پڑ سکتی ہے اس طرح جو ملک ایک باقاعدہ جنگ میں مصروف ہو اس میں خبروں کی کیا قلت ہو سکتی ہے اور خبروں کے رپورٹروں کو کیسے چین مل سکتا ہے۔ عبرت ناک بات ایک یہ ہے کہ باقاعدہ جنگ کے باوجود ہماری سیاست میں بھی جنگ جاری ہے اور سیاستدان زبانی کلامی دست و گریبان ہیں۔
اس وقت تک تو سیاستدانوں کا یہ زور رہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو اپنے جلسے جلوسوں میں جمع کر سکیں۔ ایک صاحب ہیں طاہر القادری جو نصف پاکستانی اور نصف یورپی یعنی کینیڈین ہیں۔ ان کی چرب زبانی اور پاکستانیوں کے مسائل کے ہجوم نے پاکستانیوں کی مت مار رکھی ہے جس کی وجہ سے وہ بڑی تعداد میں قادری صاحب کے ساتھ تھے یا اب بھی ہیں۔ دوسرے سدا بہار لیڈر جناب عمران خان ہیں۔ ان کے صرف دو بیٹے اور بیٹے دو ہی ہیں جو برطانیہ میں مقیم ہیں وہیں پیدا ہوئے اور وہیں قیام پذیر اور زیر تعلیم ہیں۔
اس لیے عمران خان کی جائداد اور میراث تو برطانیہ میں ہے لیکن وہ خود پاکستان میں مقیم ہیں اور اس طرح سو فی صد پاکستانی ہیں۔ پاکستان کے عوام ان کے ساتھ زیادہ رغبت رکھتے ہیں۔ ایک تو عمران خان کی زندگی انھی میں گزری انھوں نے کینسر اسپتال جیسے منصوبے اسی ملک میں تعمیر کیے اور مزید منصوبے بھی اسی ملک میں زیر تکمیل ہیں یا کچھ مکمل ہو چکے ہیں۔ یوں عمران ہر لحاظ سے پاکستانی ہیں اور صرف پاکستانی۔
یوں تو چند ایک بلکہ دو چار دوسرے لیڈر بھی عوام دوستی کا دم بھرتے ہیں مگر وہ عوام میں مقبول نہیں ہیں اس لیے کسی دائو میں رہتے ہیں کبھی کسی اپنے سے بڑی پارٹی کے ساتھ مل جاتے ہیں اور کبھی عوام کو کوئی ایسا چکر دیتے ہیں جس کے بارے میں انھیں پتہ ہوتا ہے کہ اس پر عمل کی نوبت نہیں آئے گی اور یوں عزت بچ جائے گی۔ جو پارٹی برسراقتدار ہے اس کے ساتھ اپوزیشن کی چھیڑ چھاڑ زور و شور کے ساتھ جاری رہتی ہے جو جماعتیں عوام کی ایک بڑی تعداد ساتھ رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں وہ حکومت پر ٹوٹ پڑتی ہیں جیسے اب سانحہ ماڈل ٹاؤن کے نتیجے میں میاں شہباز صاحب سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اس پر بات پھر ہو گی فی الحال عوام کے لیے یہ خوشخبری کہ رمضان المبارک شروع ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی شیطان بند کر دیے گئے ہیں لیکن پھر بھی کچھ بند ہونے سے رہ گئے ہیں اور فرشتوں کی نظر بچا کر سیاست کی دنیا میں پناہ گزین ہو گئے ہیں لیکن پھر بھی روزہ دار مسلمان ان سے باخبر ہیں اور ان کے بھرے میں نہیں آتے انھیں مسترد کر رہے ہیں اور ان سے ہوشیار رہتے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی وقت بند کیے جا سکتے ہیں۔
خود سیاستدان بس بہت عقلمند ہیں اور انھیں چونکہ رمضان المبارک اور شیطان پر پابندی کا علم ہے اس لیے انھوں نے اپنی اصل سرگرمیاں رمضان المبارک میں بند کر دی ہیں اور ہر سرگرمی عیدالفطر کے بعد شروع کرنے کا اعلان کرتے ہیں یعنی انھوں نے شیطان کے ساتھ رضاکارانہ تعاون کیا ہے اور شیطان کو اپنی طرف سے کھلی چھٹی دے دی ہے۔ سیاستدانوں اور شیطانوں کی بندش عوام کے لیے اطمینان کا باعث ہے اور وہ اس وقت اپنے مجاہدین کی خیر و عافیت کے لیے دعائوں میں مصروف رہتے ہیں بلکہ یوں کہیں کہ قدرت نے انھیں اپنے مجاہدوں کی خدمت کا موقع عطا کر دیا ہے۔
مسلمانوں کے کسی گروہ کو قسمت سے ہی ایسا موقع ملتا ہے کہ وہ اللہ اور رسول پاکؐ کے نام پر زندگی کا نذرانہ پیش کر سکیں یا مجاہدوں کی کسی صورت میں خدمت کر سکیں۔ کوئی بھی مجاہد تنہا نہیں ہوتا وہ ایک گھر کا فرد ہوتا ہے بھائیوں اور مائوں بہنوں کے ساتھ زندگی بسر کرنے والا وہ جب مجاہد ہو جاتا ہے تو گھر یا گھر بار سمیت وہ اس فرض میں حصہ لیتا ہے اور یہ طے کر لیتا ہے کہ اس نے جان بھی پیش کر دینی ہے۔ کیونکہ اس نے خدا کے ساتھ اپنی زندگی کا سودا کیا ہے۔ کیا خوش نصیب ہیں وہ پاکستانی نوجوان جو اس وقت میدان جہاد میں اپنی شجاعت اور ایمانی جذبے کی قربانی دے رہے ہیں۔
ظاہر ہے کہ ہمارے پاس تو ان کے لیے الفاظ نہیں ہیں جو اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کی شان میں یوں بیان کی ہے کہ وہ مرتے نہیں ہیں زندہ رہتے ہیں بس تم انھیں دیکھ نہیں سکتے ورنہ وہ آپ کی طرح کھاتے پیتے ہیں اور زندگی بسر کرتے ہیں۔ اب کسی انسان کی کیا جرات کہ وہ مجاہدین اور شہداء کی شان میں کچھ عرض کر سکے۔ جیسا کہ کہا ہے ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے بھائی جہاد کے میدان میں ہیں اور ہم ان کی یاد میں ان کے گھر والوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ایسی مصروفیت بھی قسمت سے ملتی ہے اور ان کو یہ خوشخبری تو مل چکی ہے کہ شیطان بند کر دیے گئے ہیں اب شیطانوں کے ساتھ وہ جس کو چاہیں ملا لیں۔