یوم عشق رسول ﷺپر پُر تشدد مظاہرے

اسلام آباد میں ہنگاموں کی شدت زیادہ رہی، پولیس چوکیوں کو آگ لگائی گئی اور مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہوگئے

پشاور میں مظاہرین نے تین سینمائوں میں توڑ پھوڑ کی اور انھیں آگ لگا دی۔ لاقانونیت کا عالم یہ تھا کہ ٹی وی اسکرینوں پر مظاہرین بند دکانوں کے شٹر توڑتے ہوئے دکھائے گئے۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان بھر میں جمعے کو نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کے اظہار کا دن منایا گیا جسے ''یوم عشق رسولؐ'' کا نام دیا گیا تھا۔

وفاقی حکومت نے اس روز پورے ملک میں عام تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ ملک کے چار صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی عام تعطیل رہی۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی یوم عشق رسول منانے کی حمایت کرتے ہوئے قوم سے پر امن احتجاج کرنے کی اپیل کر رکھی تھی۔

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی جانب سے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں عشق رسولﷺ کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔ عام تعطیل کی وجہ سے ملک بھر میں شٹر ڈائون رہا۔ بازار اور مارکیٹیں بند رہیں۔ پٹرول پمپ بھی بند رہے۔

پورے ملک میں بینک اور تعلیمی اداروں میں بھی تعطیل رہی جس کے باعث مختلف شہروں کے تعلیمی اداروں نے جمعے کو ہونے والے امتحانی پرچے ملتوی کر دیے، پرچوں کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں امریکا کے سفیر رچرڈ ہوگلینڈ کو جمعے کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور انھیں گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاجی مراسلہ حوالے کیا گیا۔

ادھر وزیر اعظم پاکستان نے خاصے سخت الفاظ میں کہا کہ حرمت رسولﷺ پر کوئی حرف برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ توہین رسالت کو عالمی سطح پر قابل تعزیر اور ناقابل معافی جرم قرار دیا جائے۔

یوم عشق رسول ﷺ کے سلسلے میں ملک بھر میں پولیس نے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے حوالے سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی پلان ترتیب دے رکھے تھے۔

کئی علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا۔ ان حفاظتی اقدامات کے باوجود کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد اور پشاور میں گھیراو جلاو اور توڑ پھوڑ کے واقعات ہوئے۔

بعض تنظیموں کے کارکنوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ریڈ زون میں داخل ہوئے۔ پشاور اور کراچی میں صورتحال زیادہ خراب ہو گئی، پشاور میں مظاہرین نے تین سینمائوں میں توڑ پھوڑ کی اور انھیں آگ لگا دی۔ لاقانونیت کا عالم یہ تھا کہ ٹی وی اسکرینوں پر مظاہرین بند دکانوں کے شٹر توڑتے ہوئے دکھائے گئے۔

اسی دوران مشتعل مظاہرین نے خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس کی عمارت کو آگ لگا دی اور وہاں موجود گاڑیوں کو نذر آتش کردیا۔ پشاور میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ یہ سطور لکھی جانے تک ان جھڑپوں میں چار افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

کراچی میں بھی مظاہرین تشدد پر اتر آئے، وہاں بھی چار سینمائوں کو نذر آتش کیا گیا۔ایک قومی بینک کی عمارت کو آگ لگا دی گئی۔یہ سطور لکھی جانے تک کی اطلاع کے مطابق کراچی میں 9 افراد مار گئے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو پورا ملک ہنگاموں کی زد میں رہا۔ عجیب بات یہ ہے کہ جب حکومت پاکستان گستاخانہ فلم کے خلاف خود احتجاج کر رہی ہے' امریکا کے سفیر کو احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا ہے۔


یوٹیوب کو بھی بند کر دیا گیا ہے' یوم عشق رسولﷺ منانے کا اعلان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ملک کی تمام دینی اور سیاسی شخصیات بھی اس معاملے پر ایک ہیں۔ قوم میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس موقعے پر ہنگامہ آرائی کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس موقع پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پورے ملک میں پرامن احتجاجی ریلیاں نکالی جاتیں تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جاتا کہ پاکستان کے مسلمان دین اسلام کی اصل روح کو سمجھتے ہیں اور دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمان کس قدر امن پسند اور منظم ہیں۔

افسوس کہ ایسا نہیں ہو سکا۔ جمعرات کو بھی گھیرائو جلائو ہوا، کئی شہروں میں ہڑتال بھی ہوئی، اسلام آباد میں ہنگاموں کی شدت زیادہ رہی، پولیس چوکیوں کو آگ لگائی گئی اور مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہوگئے جس کے بعد ریڈ زون کی حفاظت کے لیے فوج طلب کرلی گئی۔ اس سے ظاہر ہو گیا تھا کہ بعض تنظیمیں مظاہروں کی آڑ میں لاقانونیت کا مظاہرہ کریں گی۔

جمعے کو ایسا ہی ہوا۔ پاکستان میں چونکہ حفاظتی انتظامات سخت رہے، اس لیے کسی غیرملکی سفارتکار یا سفارتحانے کو نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن جس طرح اسلام آباد میں ڈپلومیٹک انیکلوزمیں گھسنے کی کوشش ہوئی' لاہور اور کراچی میں امریکی قونصلیٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش ہوئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں بعض قوتیں لیبیا کی تاریخ دہرانے کی تمنا رکھتی تھیں لیکن وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

پاکستان میں مظاہروں کی آڑ میں جس لاقانونیت' تشدد اور گھیرائو جلائو کا مظاہرہ ہوا اسے کسی طور قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانا شر پسندوں اور ملک دشمنوں کا ایجنڈا تو ہو سکتا ہے، کوئی مسلمان اور وطن پرست ایسا نہیں کر سکتا۔

پاکستان میں بعض قوتوں نے گستاخانہ فلم کے خلاف ہونے والے احتجاج کی آڑ میں جلائو گھیرائو کا حربہ استعمال کیا۔ جس سے سرکاری اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا اور قیمتی جانیں بھی ضایع ہوئیں۔ اس سے نقصان صرف پاکستان اور اس کے شہریوں کا ہوا، امریکا یا یورپ کا کچھ نہیں بگڑا۔

پاکستان کی ان طاقتوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں جو اپنے مقاصد کے لیے مذہب کی آڑ لے کر گھیرائو جلائو کو ہوا دے کر ملک کی جڑیں کھولی کر رہی ہیں۔ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین' جامعہ بنوری ٹائون کراچی کے مہتمم مفتی نعیم اور سنی اتحاد کونسل کے رہنما صاحبزادہ فضل کریم نے گھیرائو جلائو اور شرپسندی کی مذمت کی ہے۔

صاحبزادہ فضل کریم نے تو املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔ ہم یہاں یہ ضرور کہنا چاہیں گے کہ ہماری مذہبی قیادت اور سیاسی رہنمائوںکو ملکی اور عالمی حالات کا گہرائی سے جائزہ لینا چاہیے۔

جلسے کرنا اور جلوس نکالنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہوتا ہے لیکن قیادت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ جلوس یا ریلی پرامن رہے۔ مظاہروں میں ایسے نوجوان بھی نظر آئے جن کے چہرے پر نقاب تھا اور ان کے ہاتھوں میں اسلحہ۔ یہ صورت حال انتہائی خطر ناک ہے۔ گستاخانہ فلم کی ہر مسلمان مذمت کرتا ہے۔

امریکیوں تک بھی یہ بات پہنچ چکی ہے۔ اب پاکستان میں سرکاری عمارتوں اور نجی املاک کو جلانے کے واقعات سے پوری دنیا میں یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان میں ریاستی ادارے اس قابل نہیں کہ وہ شرپسندوں کو روک سکیں۔ پاکستان دہشت گردوں کا بھی ٹارگٹ ہے۔ ملک کی سیاسی جماعتوں اور مذہبی قیادت کو اس حقیقت کا علم ہے۔

دہشت گردوں کا ایجنڈا سب پر واضح ہے۔ وہ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ پاکستان میں ریاستی اداروں کو مفلوج کر دیا جائے۔ جمعرات اور جمعے کو جو کچھ ہوا' اس سے یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ مظاہروں کی آڑ میں بعض ایسی تنظیموں کے کارکن بھی شامل ہوگئے جن کا ایجنڈا ہی گھیرائو جلائو تھا۔ حکومت کو اس حوالے سے مکمل چھان بین کرنی چاہیے۔

ٹی وی فوٹیج پر بعض چہرے نمایاں ہیں۔ ان کی گرفتاری کا بندوبست کیا جائے تو صورت حال کو سمجھا جا سکتا ہے۔ ملک کی سیاسی اور مذہبی قیادت کا بھی فرض ہے کہ اس معاملے میں حکومت کا ساتھ دے۔ ہم نے دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ مسلمان پر امن ہیں' دنیا میں امن کی تلقین کرنے والے ہیں اور اسی بنا پر دوسرے سے بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان کے عقائد کا احترام کریں۔
Load Next Story