کراچی ایئر پورٹ سانحہ پر اہم بریفنگ
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں قرار دیا گیا
دہشت گرد رات11 بج کر 11 منٹ پر ایئرپورٹ میں داخل ہوئے سب سے پہلے کارگو عمارت پر حملہ کیا گیا اور کولڈ اسٹوریج کی عمارت پر بم پھینکے گئے۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں قرار دیا گیا کہ 8 جون 2014 کو کراچی ایئر پورٹ پر دہشت گردوں کے ہولناک حملے کی ذمے دار صوبائی حکومت اور 13خفیہ ایجنسیاں ہیں ۔کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر کلثو م پروین کی صدارت میں ہوا جس میں سینیٹرز ڈاکٹر سعیدہ اقبال، روبینہ خالد، سیف اللہ مگسی، سیف اللہ بنگش، ہمایوں مندوخیل، طلحہ محمود، وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد، سیکریٹری سول ایوی ایشن محمد علی گردیزی، ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی، ایم ڈی پی آئی اے جنید یونس، ڈی جی اے ایس ایف کرنل رٹائرڈ طاہر شاہ نے شرکت کی۔
یہ بریفنگ از حد اہم ہے جس میں دہشت گردی کے ممکنہ واقعات کے پیشگی سدباب کی سمت درست اقدامات کیے جاسکتے ہیں ۔ ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی ایئر مارشل ریٹائرڈ محمد یوسف نے تسلیم کیا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے کراچی ایئر پورٹ پر حملے کے خطرے کاخط ملا تھا ۔ مگر یوں لگتا ہے اسے در خور اعتنا نہیں سمجھا گیا ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ دہشت گرد رات11 بج کر 11 منٹ پر ایئرپورٹ میں داخل ہوئے سب سے پہلے کارگو عمارت پر حملہ کیا گیا اور کولڈ اسٹوریج کی عمارت پر بم پھینکے گئے جس سے آگ بھڑک اٹھی، حملے کے دوسرے منٹ ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس کے جوانوں نے جوابی کارروائی کی اور مسلسل 26 گھنٹے جواں مردی سے مقابلہ کیا۔
کولڈ اسٹوریج میں موجود لوگ آگ کی وجہ سے چند منٹوں میں ہی جاں بحق ہو گئے ، انھوں نے بتایا کہ پہلی ترجیح اور توجہ 25 گز کے فاصلے پر کھڑے طیاروں کی حفاظت تھی ۔ تاہم سب سے بنیادی سوال دہشت گردوں کی اولڈ ایئر پورٹ حدود میں داخل ہونے کا ہے ۔وہ کیسے اسلحہ سمیت اندر آگئے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعد میں فوج کے سپیشل دستے ، اے ایس ایف ، پولیس و رینجرز نے دہشت گردوں کو آگے بڑھنے نہیں دیا تاہم چیئرپرسن نے بجا کہا کہ کراچی ایئرپورٹ جیسے حساس مقام پر دہشت گردوں کے حملے میں کمزوریوں کی وجوہ جاننا ضروری ہے اور پتہ چلانا ہو گا کہ اداروں کی کمزوریاں کیا ہیں، کہیں دہشت گردوں کو اندر سے حمایت تو حاصل نہیں تھی۔
کرا چی ایئرپورٹ کے بعد پشاور ایئرپورٹ پر طیارے پر حملہ ہو ا ۔ چنانچہ کراچی ایئر پورٹ پر حملہ کے تمام پہلوئوں کا مکمل جائزہ لے کر تحقیقات کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے کیونکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی اگر صرف ایئرپورٹ کے اند ر کی ذمے دار ہے تو شہر سے ایئر پورٹ تک سٹرکوں اور راستوں کی ذمے دار جو خفیہ ایجنسیاں، پولیس، فوج، رینجرز، ایف سی ہیں ان کو مستعدی اور چوکسی کی نئی مثال قائم کرنی چاہیے۔
یہ بریفنگ از حد اہم ہے جس میں دہشت گردی کے ممکنہ واقعات کے پیشگی سدباب کی سمت درست اقدامات کیے جاسکتے ہیں ۔ ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی ایئر مارشل ریٹائرڈ محمد یوسف نے تسلیم کیا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے کراچی ایئر پورٹ پر حملے کے خطرے کاخط ملا تھا ۔ مگر یوں لگتا ہے اسے در خور اعتنا نہیں سمجھا گیا ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ دہشت گرد رات11 بج کر 11 منٹ پر ایئرپورٹ میں داخل ہوئے سب سے پہلے کارگو عمارت پر حملہ کیا گیا اور کولڈ اسٹوریج کی عمارت پر بم پھینکے گئے جس سے آگ بھڑک اٹھی، حملے کے دوسرے منٹ ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس کے جوانوں نے جوابی کارروائی کی اور مسلسل 26 گھنٹے جواں مردی سے مقابلہ کیا۔
کولڈ اسٹوریج میں موجود لوگ آگ کی وجہ سے چند منٹوں میں ہی جاں بحق ہو گئے ، انھوں نے بتایا کہ پہلی ترجیح اور توجہ 25 گز کے فاصلے پر کھڑے طیاروں کی حفاظت تھی ۔ تاہم سب سے بنیادی سوال دہشت گردوں کی اولڈ ایئر پورٹ حدود میں داخل ہونے کا ہے ۔وہ کیسے اسلحہ سمیت اندر آگئے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعد میں فوج کے سپیشل دستے ، اے ایس ایف ، پولیس و رینجرز نے دہشت گردوں کو آگے بڑھنے نہیں دیا تاہم چیئرپرسن نے بجا کہا کہ کراچی ایئرپورٹ جیسے حساس مقام پر دہشت گردوں کے حملے میں کمزوریوں کی وجوہ جاننا ضروری ہے اور پتہ چلانا ہو گا کہ اداروں کی کمزوریاں کیا ہیں، کہیں دہشت گردوں کو اندر سے حمایت تو حاصل نہیں تھی۔
کرا چی ایئرپورٹ کے بعد پشاور ایئرپورٹ پر طیارے پر حملہ ہو ا ۔ چنانچہ کراچی ایئر پورٹ پر حملہ کے تمام پہلوئوں کا مکمل جائزہ لے کر تحقیقات کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے کیونکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی اگر صرف ایئرپورٹ کے اند ر کی ذمے دار ہے تو شہر سے ایئر پورٹ تک سٹرکوں اور راستوں کی ذمے دار جو خفیہ ایجنسیاں، پولیس، فوج، رینجرز، ایف سی ہیں ان کو مستعدی اور چوکسی کی نئی مثال قائم کرنی چاہیے۔