پرانی درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافے پر نظرثانی کا مطالبہ
ٹرانسفر کے بجائے اتھارٹی لیٹر کے استعمال کو ترجیح، حکومتی ریونیو میں کمی آئے گی، موٹر ڈیلرز فوٹو: فائل
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزارت خزانہ سے اپیل کی ہے کہ استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر پر ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
فنانس ایکٹ 2014 کی منظوری سے ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ استعمال شدہ گاڑیوں کے خریداروں کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گا، استعمال شدہ کاروں کی درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ کرتے ہوئے ایج لمٹ 5 سال سے 3 سال کی گئی تھی، ساتھ ہی فرسودگی الاؤنس بھی کم کرکے 2 سال کردیا گیا، عوام کی بڑی تعداد کئی سال کی بچت کے بعد کار خریدنے کے قابل ہوتی ہے لیکن ٹیکسوں میں مسلسل اضافے سے استعمال شدہ کاروں کوبھی عوام کی پہنچ سے دور کیا جارہا ہے۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کی جانب سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے نام لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کار کی خریداری لگژری نہیں رہی بلکہ عوامی ضرورت بن چکی ہے، ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافے سے حکومت ریونیو بڑھانا چاہتی ہے لیکن عوام کی جانب سے کاروں کی خریداری کم کیے جانے کی سبب حکومت کو یہ مقصد حاصل نہیں ہوگا، عوام کاریں اپنے نام ٹرانسفر کے بجائے اتھارٹی لیٹر کے ذریعے استعمال کو ترجیح دینگے، ساتھ ہی وہیکل ٹیکس کی ادائیگی بھی کمی ہوگی جس سے صوبوں کیلیے ریونیو مشکلات پیدا ہونگی، مذکورہ عوامل لاقانونیت کے فروغ کا سبب بنیں گے۔ ایسوسی ایشن نے وزارت خزانہ سے اپیل کی کہ ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔