حصص مارکیٹ مندی کا شکار 25 پوائنٹس کی کمی

مجموعی طور پر13 کروڑ25 لاکھ 39 ہزار840 حصص کے سودے ہوئے

مجموعی طور پر13 کروڑ25 لاکھ 39 ہزار840 حصص کے سودے ہوئے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس عائد ہونے سے فرٹیلائزر سمیت دیگر صنعتی شعبے متاثر ہونے اور پرافٹ ٹیکنگ کے بڑھتے ہوئے رحجان کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کومندی کے اثرات غالب رہے جس سے انڈیکس کی29700 کی حد گرگئی اور سرمایہ کاروں کے 19 ارب 87 کروڑ82 لاکھ35 ہزار566 روپے ڈوب گئے۔


ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ ماہ رمضان المبارک میں سرمایہ کاری کے بیشتر شعبوں کی حاضری کم ہوگئی ہے جبکہ چھوٹے ودرمیانے درجے سرمایہ کاروں کی عمرے کی ادائیگی کی وجہ سے مارکیٹ میں حاضری مزید کم ہوگئی ہے اور اس کے اثرات کاروباری حجم پر مرتب ہورہے ہیں، ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر86 لاکھ20 ہزار 782 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے 16 لاکھ 40 ہزار185 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے94 ہزار458 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے61 لاکھ49 ہزار540 ڈالراور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے7 لاکھ36 ہزار598 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔

مندی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس24.78 پوائنٹس کی کمی سے 29676.80 اور کے ایم آئی30 انڈیکس10.23 پوائنٹس کی کمی سے47849.57 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 1.75 پوائنٹس کے اضافے سے20470.83 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت 46.08 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر13 کروڑ25 لاکھ 39 ہزار840 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 333 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں149 کے بھاؤ میں اضافہ، 157 کے دام میں کمی اور27 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
Load Next Story