فٹبال ورلڈ کپ بیلجیئم نے امریکی دفاعی دیوار میں شگاف ڈال ہی دیا
90 منٹ تک گول پوسٹ کے سامنے ڈٹے رہنے والے ٹم ہاورڈ اضافی وقت میں تابڑ توڑ حملوں کی تاب نہ لاسکے
آخری پری کوارٹر فائنل میں کیون ڈی برین زوردار شوٹ سے گیند کو امریکی گول پوسٹ میں پہنچا رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
بیلجیئم نے امریکی دفاعی دیوار میں شگاف ڈال ہی دیا،90 منٹ تک گول پوسٹ کے سامنے ڈٹے رہنے والے ٹم ہاورڈ اضافی وقت میں حریف سائیڈ کے تابڑ توڑ حملوں کی تاب نہیں لاسکے۔
کیون ڈی برین اور رومیلو لوکاکو نے2-1 سے فتح دلا کر ٹیم کو28 برس بعد کوارٹر فائنل میں پہنچا دیا، ہفتے کا اس کا ٹکرائو ارجنٹائن سے ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق فیفا ورلڈ کپ میں منگل کی شب آخری پری کوارٹر فائنل میں بیلجیئم کی امریکا پر 2-1 سے فتح کے ساتھ ہی کوارٹر فائنل لائن اپ مکمل ہوگئی،آفیشل وقت میں بغیر کسی گول کے مقابلہ برابر رہنے کی وجہ سے اضافی وقت استعمال کیاگیا، آغاز سے ہی امریکاکی تمام تر توجہ اپنے گول پوسٹ کے دفاع پر مرکوز رہی جہاں پر موجود ٹم ہاورڈ نے انتہائی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے بیلجیئن پلیئرز کے کئی حملے ناکام بنائے۔
بیلجیئم کی جانب سے میچ میں لوکاکو کی جگہ 19 سالہ اسٹرائیکر ڈیووک اوگی کو میدان میں اتارا گیا،گروپ رائونڈ میں انھوں نے تینوں میچز میں بطور متبادل کافی متاثر کن کھیل پیش کیا،لہذا اس بار ابتدائی لائن اپ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے، انھوں نے مقابلے کا آغاز ہوتے ہی گیند کو اپنے کنٹرول میں کیا اور امریکی گول پوسٹ کی جانب جھپٹے، مگر ہاورڈ کی مکمل طور پر پھیلی ہوئی ٹانگ ان کی شاٹ کے آڑے آگئی، پورے میچ کے دوران بیلجیئم کا کائونٹر اٹیک امریکا کے لیے بہت بڑا خطرہ بنا رہا، جان ورٹونگھین کے پاس پر ڈی برین کو گول کا موقع ملا مگر گیند پوسٹ کے قریب سے باہر چلی گئی۔
امریکا کو میدان میں اترنے سے قبل ہی ایک بڑے دھچکے کا سامنا کرنا پڑا تھا، گروپ اسٹیج میں بہتر پرفارم کرنے والے فابیان جانسن ہیمسٹرنگ انجری سے بروقت نجات نہ پانے کی وجہ سے میدان میں نہیں اتر پائے، ان کی جگہ کھیلنے والے ڈی اینڈرے یاڈلین نے پنالٹی ایریا کے قریب پہنچنے کے بعد گراہم زوسی کو خوبصورت پاس دیا مگر وہ گیند کو جال میں نہیں پھینک پائے۔ دوسرے ہاف میں بیلجیئم کے حملے مزید خطرناک ہوئے ، ورٹونگھین نے بائیں جانب سے ایک اچھی موو بنائی مگر ان کے پاس پر ڈی برین اور اوریگی دونوں ہی ٹیم کو برتری دلانے میں ناکام رہے۔
اضافی وقت میں بیلجیئم کے کوچ ولموٹس نے اوریگی کو واپس بلاکر تازہ دم لوکاکو کو میدان میں اتارا جنھوں نے فوری طور پر اپنا جادوجگایا، ان کے پاس پر ڈیر برین کے شوٹ پر گیند ہاورڈ کے درمیان سے ہوتی ہوئی جال میں چلی گئی، اضافی وقت کا پہلا ہاف ختم ہونے سے پہلے لوکاکو نے گیند جال میں پہنچاکر ٹیم کی برتری 2-0 کردی، اگرچہ 107 ویں منٹ میں امریکا کے جولین گرین نے گول کیا لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
بیلجیئم نے 1986 کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی جہاں اس کا مقابلہ ہفتے کو ارجنٹائن سے ہوگا، اسی روز نیدرلینڈز اور کوسٹاریکا کی سائیڈز بھی آمنے سامنے ہوں گی، قبل ازیں جمعے کو فرانس و جرمنی اور برازیل و کولمبیا کے مقابلے شیڈول ہیں۔ دریں اثنا بیلجیئم نے لاکھوں امریکیوں کے دل توڑ دیے، پری کوارٹر فائنل دیکھنے کیلیے ہر چھوٹے بڑے شہر میں بڑی اسکرینز نصب کی گئی تھیں، ساحل سمند پرتو پارٹیز کا سا سماں تھا، زیادہ تر شائقین قومی ٹیم کی کٹ میں ملبوس تھے تاہم پھر شکست نے ان شائقین کا دل بُری طرح توڑ دیا اور وہ غم سے چور نظرآئے۔
کیون ڈی برین اور رومیلو لوکاکو نے2-1 سے فتح دلا کر ٹیم کو28 برس بعد کوارٹر فائنل میں پہنچا دیا، ہفتے کا اس کا ٹکرائو ارجنٹائن سے ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق فیفا ورلڈ کپ میں منگل کی شب آخری پری کوارٹر فائنل میں بیلجیئم کی امریکا پر 2-1 سے فتح کے ساتھ ہی کوارٹر فائنل لائن اپ مکمل ہوگئی،آفیشل وقت میں بغیر کسی گول کے مقابلہ برابر رہنے کی وجہ سے اضافی وقت استعمال کیاگیا، آغاز سے ہی امریکاکی تمام تر توجہ اپنے گول پوسٹ کے دفاع پر مرکوز رہی جہاں پر موجود ٹم ہاورڈ نے انتہائی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے بیلجیئن پلیئرز کے کئی حملے ناکام بنائے۔
بیلجیئم کی جانب سے میچ میں لوکاکو کی جگہ 19 سالہ اسٹرائیکر ڈیووک اوگی کو میدان میں اتارا گیا،گروپ رائونڈ میں انھوں نے تینوں میچز میں بطور متبادل کافی متاثر کن کھیل پیش کیا،لہذا اس بار ابتدائی لائن اپ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے، انھوں نے مقابلے کا آغاز ہوتے ہی گیند کو اپنے کنٹرول میں کیا اور امریکی گول پوسٹ کی جانب جھپٹے، مگر ہاورڈ کی مکمل طور پر پھیلی ہوئی ٹانگ ان کی شاٹ کے آڑے آگئی، پورے میچ کے دوران بیلجیئم کا کائونٹر اٹیک امریکا کے لیے بہت بڑا خطرہ بنا رہا، جان ورٹونگھین کے پاس پر ڈی برین کو گول کا موقع ملا مگر گیند پوسٹ کے قریب سے باہر چلی گئی۔
امریکا کو میدان میں اترنے سے قبل ہی ایک بڑے دھچکے کا سامنا کرنا پڑا تھا، گروپ اسٹیج میں بہتر پرفارم کرنے والے فابیان جانسن ہیمسٹرنگ انجری سے بروقت نجات نہ پانے کی وجہ سے میدان میں نہیں اتر پائے، ان کی جگہ کھیلنے والے ڈی اینڈرے یاڈلین نے پنالٹی ایریا کے قریب پہنچنے کے بعد گراہم زوسی کو خوبصورت پاس دیا مگر وہ گیند کو جال میں نہیں پھینک پائے۔ دوسرے ہاف میں بیلجیئم کے حملے مزید خطرناک ہوئے ، ورٹونگھین نے بائیں جانب سے ایک اچھی موو بنائی مگر ان کے پاس پر ڈی برین اور اوریگی دونوں ہی ٹیم کو برتری دلانے میں ناکام رہے۔
اضافی وقت میں بیلجیئم کے کوچ ولموٹس نے اوریگی کو واپس بلاکر تازہ دم لوکاکو کو میدان میں اتارا جنھوں نے فوری طور پر اپنا جادوجگایا، ان کے پاس پر ڈیر برین کے شوٹ پر گیند ہاورڈ کے درمیان سے ہوتی ہوئی جال میں چلی گئی، اضافی وقت کا پہلا ہاف ختم ہونے سے پہلے لوکاکو نے گیند جال میں پہنچاکر ٹیم کی برتری 2-0 کردی، اگرچہ 107 ویں منٹ میں امریکا کے جولین گرین نے گول کیا لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
بیلجیئم نے 1986 کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی جہاں اس کا مقابلہ ہفتے کو ارجنٹائن سے ہوگا، اسی روز نیدرلینڈز اور کوسٹاریکا کی سائیڈز بھی آمنے سامنے ہوں گی، قبل ازیں جمعے کو فرانس و جرمنی اور برازیل و کولمبیا کے مقابلے شیڈول ہیں۔ دریں اثنا بیلجیئم نے لاکھوں امریکیوں کے دل توڑ دیے، پری کوارٹر فائنل دیکھنے کیلیے ہر چھوٹے بڑے شہر میں بڑی اسکرینز نصب کی گئی تھیں، ساحل سمند پرتو پارٹیز کا سا سماں تھا، زیادہ تر شائقین قومی ٹیم کی کٹ میں ملبوس تھے تاہم پھر شکست نے ان شائقین کا دل بُری طرح توڑ دیا اور وہ غم سے چور نظرآئے۔