پاکستان ایک نظر میں حالات کب ٹھیک ہوں گے

ملک میں عوام کی خدمت نہیں اپنا اپنا کاروبار ہورہا ہے۔ جبکہ میں اور آپ سیاسی نعروں،شخصیت پرستی اور فریب میں مبتلاء ہیں۔

ملک میں عوام کی خدمت نہیں اپنا اپنا کاروبار ہورہا ہے۔ جبکہ میں اور آپ سیاسی نعروں،شخصیت پرستی اور فریب میں مبتلاء ہیں۔ فوٹو فائل

SWAT:
پاکستان کے حالات پر بار بارکیوں رویا جائے ؟جو اس وقت ہیں اس سے پہلے بھی ایسے ہی ملتے جلتے رہے ہیں ، معلوم نہیں کہ حقیقت میں کبھی اس ملک کے حالات سدھرے بھی تھے ؟موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے ہی وقت گزرے گا ۔یہ نسلیں کوچ کر جائیں گی لیکن حالات پھر بھی نہیں سدھریں گے ۔

ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ظفر اللہ جمالی، شوکت عزیز ،گیلانی، پرویز اشرف وزیر اعظم بنے رخصت ہوئے ،نواز شریف دور کا ایک سال بھی کب کا مکمل ہوچکا ،اس نے بھی ایک دن اختتام پذیر ہونا ہے۔پھر کوئی اور سرمایہ دار آئے گا یا سرمایہ دار کی ڈورسے باندھا کوئی نیا مہرہ۔اس ملک میں وزیر اعظم کے پاس کیا اختیارات ہیں ؟ بجٹ کا خرچ ،ملکی غیر ملکی دورے ، بھرتیاں ،منصوبے ،سیاسی بیان بازی اور کاروبار۔ سچ پوچھیں تو پاکستان میں کچھ نہیں بدلا ،ہاں ایک چیز کبھی تبدیل نہیں ہوئی اور نہ تبدیل ہوگی وہ یہ کہ کل بھی یہاں سرمایہ دار خاندانوں کا راج تھا، آ ج بھی ہے اور کل بھی قائم رہے گا ۔

سوپاکستان میں تبدیلی کے نام پر یہ ڈرامے بازی کیسی ؟؟ان دنوں وزیر ستان میں جنگ جاری ہے ،لاکھوں افراد نقل مکانی کر چکے۔ نہیں معلوم کہ یہ جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے ، امریکہ کی ہے ، یو این کی ہے یا کسی اور کی ؟کیونکہ یہاں جنگیں بھی ہمیشہ متنازعہ رہی ہیں۔روزانہ خبریں آتی ہیں کہ اتنے دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے ۔اب معلوم نہیں کہ آپریشن والوں اور ان کو دہشت گرد کہنے والوں کے نزدیک دہشت گرد کی کیا تعریف ہے؟کون حق پر ہے اور کون نہیں ۔خود سے جواب دے کر فتوے لگ جائیں گے سودرست وقت آنے کا انتظار ہے۔

جاری آپریشن کے اختتام پر یہ کہا جائے گا کہ فوج بہادری سے لڑی،عوام کا مکمل تعاون حاصل رہا دشمن تہس تہس ہو ا اورآپریشن کامیاب رہا ۔ اس آپریشن سے پہلے بھی آپریشن کیے گئے لیکن دہشت گرد ختم نہیں ہوئے ،کیا اب ممکن ہے کہ تمام دہشت گرد ماردیئے جائیں گے ؟ اسکے بعد دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہو گا؟ ایسا ہر گز نہیں ہو گا ۔

سلیم صافی درست لکھتے ہیں کہ وزیر ستان آپریشن میں سات لاکھ افراد جو بے گھر ہو رہے ہیں یہ سب ہمارے رویوں سے مستقبل کے خود کش بمبار بن جائیں گے۔ہم سے یہ لوگ نہیں سنبھالے جاتے تو دہشت گرد کیسے کنٹرول ہوں گے ؟۔


پاکستان میں حالات خرابی کی طرف تھے اور مزید تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ سب کے سامنے ہے کہ پاکستا ن میں بالا قوتوں جن میں ہر طبقہ کے چند لوگوں کا گٹھ جوڑ شامل ہیں ان کاروز روز کا عوام پر ظلم وستم ،بھاری ٹیکسز انصاف کی عدم فراہمی، قانون اور اخلاقیات سے ماورا تشدد ، ہلاکتیں اور انسانیت کی تذلیل بھی ہوتی ہے ،انہی کی وجہ سے مہنگائی اوربے روزگاری نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے ۔

شہروں میں جدھر دیکھو بھاگم بھاگ کا عالم ہے ۔جو خود کو سمجھدار گرد انتے ہیں وہ ملک چھوڑ کر جا چکے یا جا رہے ہیں ۔ملک کی اس گرتی ہوئی دیوار کو سہارا کون دے گا ؟؟ سیاستدان اثاثے بنانے، سرکاری ملازمین مراعات اور پنشن لینے ،میڈیامال بنانے ،اسٹیبلشمنٹ اپنی حکمرانی قائم رکھنے اور عوام ان سب کی عیاشی کیلئے ایندھن بننے آتے ہیں ۔ موجودہ جعلی کفریہ جمہوری نظام سے بہتری کی کوئی امید نہیں ،نہ ہی اس سے امید رکھی جانی چاہیے ۔

کیوں ؟ اس لیے کے یہاں کل تک پرویز مشرف اور امریکہ دوست تھے ،پھر زرداری امریکہ دوست ہوئے اب نواز امریکہ دوست ہیں، کل عمران خان امریکہ دوست ہو جائیں گے ۔ ملک میں عوام کی خدمت نہیں اپنا اپنا کاروبار ہو رہا ہے۔ جبکہ میں اور آپ سیاسی نعروں ، شخصیت پرستی اور فریب میں مبتلاء ہیں۔

رہے آپ اور ہم ،تو آیئے ہم کسی ایسے نئے مہر ے کا انتظار کرتے ہیں جو ہم سے کئے وعدے اور دعوے پورے کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھے جو تاریخ میں لگے تمام بدنما داغ مٹادے، اور آنے والے نسلوں کا سر فخر سے بلند کردے۔

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔
Load Next Story