سابق فرانسیسی صدر پر کرپشن کی فرد جرم عاید

نکولس سرکوزی پر کرپشن اور2007ء کی صدارتی مہم کے دوران مالی بے قاعدگیوں کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی

نکولس سرکوزی پر کرپشن اور2007ء کی صدارتی مہم کے دوران مالی بے قاعدگیوں کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی

فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی پر کرپشن اور2007ء کی صدارتی مہم کے دوران مالی بے قاعدگیوں کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی۔ فرانسیسی پولیس نے منگل کو صبح سویرے نکولس سرکوزی کو تحویل میں لیا تھا اور کرپشن کے الزامات پر 15 گھنٹے تک پولیس ہیڈکوارٹرز میں تفتیش کے بعد انھیں سول کورٹ میں جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ سابق فرانسیسی صدر کے خلاف کرپشن کے تمام کیس بحال ہو گئے ہیں۔ اگر سرکوزی پر لگنے والے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انھیں پانچ برس تک قید اور پانچ لاکھ یورو تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔


واضح رہے سابق فرانسیسی صدر کے خلاف مقدمات میں 1993-94ء کے آبدوز اسکینڈل کے علاوہ اختیارات کا نا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک خاتون سے بھاری رقم حاصل کرنے کا الزام بھی شامل ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آبدوز اسکینڈل میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے کیونکہ متذکرہ آبدوز فرانس نے پاکستان کو ہی فروخت کی تھیں۔ اس کے علاوہ 2007ء اور 2012ء کے صدارتی انتخابات میں غیر قانونی طور پر فنڈز حاصل کرنے اور انتخابی مہم کی خفیہ معلومات حاصل کرنے کی تحقیقات کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ فرانس کی تاریخ کے یہ پہلے صدر ہیں جن کو پولیس کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سابق فرانسیسی صدر پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے لیے لیبیا کے مقتول صدر کرنل معمر قذافی سے پانچ سو کروڑ یورو کی خطیر رقم لی تھی۔ فرانسیسی پولیس یہ تحقیقات کرے گی کہ فرانسیسی صدر نے اتنی بڑی رقم کے جواب میں کرنل قذافی کو کس قسم کی مراعات دینے کی پیشکش کی تھی۔ نکولس سرکوزی نے گذشتہ چھ ماہ کا عرصہ اپنے مستفبل کے منصوبوں پر غور و خوض کرتے ہوئے بسر کیا ہے ان کا خیال تھا کہ شاید انھیں ایک بار پھر ملک کا صدر بننے کا موقع مل سکے گا لیکن تقدیر نے ان کے لیے کچھ اور لکھ رکھا تھا۔ بہر حال سرکوزی کا مقدمہ بہت سے رازوں سے پردہ اٹھائے گا۔
Load Next Story