سیکیورٹی اداروں کو چوکس رہنے کی ضرورت
آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے لیکن ساتھ ہی ملک بھر میں دہشت گردی اور شرپسند عناصر کی جانب سے
کراچی میں فائرنگ کے واقعات میں 4 افراد ہلاک جب کہ مجموعی طور پر گزشتہ روز 10 لوگ جاں بحق ہوگئے۔ فوٹو: فائل
آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے لیکن ساتھ ہی ملک بھر میں دہشت گردی اور شرپسند عناصر کی جانب سے ممکنہ کارروائیوں کا خدشہ سر ابھار رہا ہے جس کے تناظر میں سیکیورٹی اداروں کو مکمل چوکس رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں حساس اداروں کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ تازہ صورتحال کے مطابق کراچی میں فائرنگ کے واقعات میں 4 افراد ہلاک جب کہ مجموعی طور پر گزشتہ روز 10 لوگ جاں بحق ہوگئے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان کا بھی کہنا ہے کہ نائن زیرو پر دہشت گردی کا خطرہ ہے جس کے باعث سیکیورٹی بڑھائی جائے۔ یہاں حب کیچ کے مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے 2 افراد کو ہلاک کردیا۔ گوادر میں شہدا چوک پر واقع ایک میوزک سینٹر میں چھاپہ مار کر حساس اداروں کے اہلکاروں نے میوزک سینٹر کے مالک کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر بھیج دیا ہے جب کہ گوادر کوسٹل ہائی وے پر ایف آئی اے نے 12 غیر ملکی باشندوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایف آئی اے اہلکاروں نے میڈیا کو کچھ بتانے سے گریز کیا ہے۔
دوسری جانب راولپنڈی میں ذرایع کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے سورس رپورٹ کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے کہ مخصوص گروپ نے افراتفری پھیلانے کے لیے واپڈا کی تنصیبات اور گرڈ اسٹیشنوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے، اس مقصد کے لیے مذکورہ عناصر سرکاری اداروں کی یونیفارم پہن کر کارروائی کرسکتے ہیں لہٰذا تنصیبات کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرکے نگرانی کے عمل کو سخت کیا جائے۔
راولپنڈی پولیس کے سینئر افسر نے بتایا کہ تھریٹس الرٹ کی روشنی میں انتظامیہ اور پولیس کو چوکس رہنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ اسلام آباد کے ریڈ زون میں 21 بینرز رکھنے کا معاملہ بھی قابل تشویش ہے جس کی سماعت گزشتہ روز کی گئی ۔ دہشت گردی کے تناظر میں ارباب اختیار سپریم کورٹ کے اس استفسار کے مضمرات کا ادراک کریں کہ ریڈ زون حساس ترین علاقہ ہے، اگر 21 بینرز کی جگہ کوئی 21 بم رکھ دیتا تو کیا ہوتا؟ملک کسی بھی قسم کے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا اس لیے ہر جانب اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان کا بھی کہنا ہے کہ نائن زیرو پر دہشت گردی کا خطرہ ہے جس کے باعث سیکیورٹی بڑھائی جائے۔ یہاں حب کیچ کے مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے 2 افراد کو ہلاک کردیا۔ گوادر میں شہدا چوک پر واقع ایک میوزک سینٹر میں چھاپہ مار کر حساس اداروں کے اہلکاروں نے میوزک سینٹر کے مالک کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر بھیج دیا ہے جب کہ گوادر کوسٹل ہائی وے پر ایف آئی اے نے 12 غیر ملکی باشندوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایف آئی اے اہلکاروں نے میڈیا کو کچھ بتانے سے گریز کیا ہے۔
دوسری جانب راولپنڈی میں ذرایع کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے سورس رپورٹ کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے کہ مخصوص گروپ نے افراتفری پھیلانے کے لیے واپڈا کی تنصیبات اور گرڈ اسٹیشنوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے، اس مقصد کے لیے مذکورہ عناصر سرکاری اداروں کی یونیفارم پہن کر کارروائی کرسکتے ہیں لہٰذا تنصیبات کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرکے نگرانی کے عمل کو سخت کیا جائے۔
راولپنڈی پولیس کے سینئر افسر نے بتایا کہ تھریٹس الرٹ کی روشنی میں انتظامیہ اور پولیس کو چوکس رہنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ اسلام آباد کے ریڈ زون میں 21 بینرز رکھنے کا معاملہ بھی قابل تشویش ہے جس کی سماعت گزشتہ روز کی گئی ۔ دہشت گردی کے تناظر میں ارباب اختیار سپریم کورٹ کے اس استفسار کے مضمرات کا ادراک کریں کہ ریڈ زون حساس ترین علاقہ ہے، اگر 21 بینرز کی جگہ کوئی 21 بم رکھ دیتا تو کیا ہوتا؟ملک کسی بھی قسم کے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا اس لیے ہر جانب اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے۔