زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں گزشتہ مالی سال 50 فیصد اضافہ
2012-13ختم ہونے پرذخائر6.84ارب ڈالر تھے،27جون2014کو9.03ارب ہوگئے
بینکوں کے ذخائر کم ہوئے، ایک ہفتے میں ڈالر ڈپازٹ27.34کروڑ ڈالر گھٹ گئے، اسٹیٹ بینک۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
WASHINGTON:
پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت میںختم ہونے والی مالی سال 2013-14کے دوران 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
مالی سال 2012-13کے اختتام پر سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 6 ارب 84لاکھ ڈالر تھی جو مالی سال 2013-14کے اختتام پر 27جون 2014کو 9 ارب 3کروڑ 32لاکھ ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی، ایک سال کے دوران زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں 2ارب 97کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اور مجموعی ذخائرکی مالیت 11ارب 1کروڑ 96لاکھ ڈالر تھی جو مالی سال 2013-14 کے اختتام تک 13ارب 99کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔
کمرشل بینکوں کے ذخائر میں ایک سال کے دوران 5کروڑ 43لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے، مالی سال 2012-13کے اختتام پر کمرشل بینکوں کے پاس 5ارب 1 کروڑ 12لاکھ ڈالر کے ذخائر موجودتھے جو مالی سال 2013-14کے اختتام پر 4 ارب 95کروڑ 69لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، گزشتہ مالی سال جنوری کے مہینے میں زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 3ارب 18کروڑ ڈالر کی سطح پر تھے جو ایک ماہ کے امپورٹ بل کے لیے بھی ناکافی تھے۔
دریں اثنا اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف اور دیگر بیرونی ادائیگیوں کے ضمن میں 24 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ادا کیے جانے کے باعث زرمبادلہ ذخائر 27 کروڑ 34 لاکھ ڈالر کی کمی سے 14 ارب26کروڑ35لاکھ ڈالر کی سطح سے گر کر 13 ارب 99 کروڑ 1 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق 27جون کوختم ہفتے کے دوران کمرشل بینکوں کے ذخائر 11 کروڑ 71لاکھ ڈالر کی کمی سے 4 ارب 95 کروڑ69 لاکھ ڈالر اور مرکزی بینک کے ذخائر15کروڑ63 لاکھ ڈالر کمی سے9 ارب 3کروڑ32لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران آئی ایم ایف کو 14 کروڑ80لاکھ ڈالر سمیت24کروڑ90لاکھ ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کی گئیں، اس دوران اسٹیٹ بینک کو ملٹی وبائی لٹرل ذرائع سے 9کروڑ80لاکھ ڈالر بھی موصول ہوئے۔
پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت میںختم ہونے والی مالی سال 2013-14کے دوران 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
مالی سال 2012-13کے اختتام پر سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 6 ارب 84لاکھ ڈالر تھی جو مالی سال 2013-14کے اختتام پر 27جون 2014کو 9 ارب 3کروڑ 32لاکھ ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی، ایک سال کے دوران زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں 2ارب 97کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اور مجموعی ذخائرکی مالیت 11ارب 1کروڑ 96لاکھ ڈالر تھی جو مالی سال 2013-14 کے اختتام تک 13ارب 99کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔
کمرشل بینکوں کے ذخائر میں ایک سال کے دوران 5کروڑ 43لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے، مالی سال 2012-13کے اختتام پر کمرشل بینکوں کے پاس 5ارب 1 کروڑ 12لاکھ ڈالر کے ذخائر موجودتھے جو مالی سال 2013-14کے اختتام پر 4 ارب 95کروڑ 69لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، گزشتہ مالی سال جنوری کے مہینے میں زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 3ارب 18کروڑ ڈالر کی سطح پر تھے جو ایک ماہ کے امپورٹ بل کے لیے بھی ناکافی تھے۔
دریں اثنا اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف اور دیگر بیرونی ادائیگیوں کے ضمن میں 24 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ادا کیے جانے کے باعث زرمبادلہ ذخائر 27 کروڑ 34 لاکھ ڈالر کی کمی سے 14 ارب26کروڑ35لاکھ ڈالر کی سطح سے گر کر 13 ارب 99 کروڑ 1 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق 27جون کوختم ہفتے کے دوران کمرشل بینکوں کے ذخائر 11 کروڑ 71لاکھ ڈالر کی کمی سے 4 ارب 95 کروڑ69 لاکھ ڈالر اور مرکزی بینک کے ذخائر15کروڑ63 لاکھ ڈالر کمی سے9 ارب 3کروڑ32لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران آئی ایم ایف کو 14 کروڑ80لاکھ ڈالر سمیت24کروڑ90لاکھ ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کی گئیں، اس دوران اسٹیٹ بینک کو ملٹی وبائی لٹرل ذرائع سے 9کروڑ80لاکھ ڈالر بھی موصول ہوئے۔