ٹیکس شارٹ فال میں کمی کیلئے ریفنڈز روکنے کا انکشاف

ایف بی آرنے گزشتہ ماہ 91فیصد کمی سے صرف77کروڑ80 لاکھ روپے کے ریفنڈ جاری کیے

17ارب کی اوور رپورٹنگ ثابت ہوئی توشارٹ فال مزیدبڑھے گا، ذرائع۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی طرف سے جون کے دوران ٹیکس وصولیوں کے شارٹ فال میں کمی کے لیے ٹیکس دہندگان کے اربوں روپے کے ریفنڈ روکنے کا انکشاف ہوا ہے تاہم ریفنڈز روکنے کے باوجود سال 2013-14 میں ایف بی آر 2259.04 ارب روپے کا ٹیکس وصول کرسکا جو سال 2012-13 کی ٹیکس وصولیوں سے زیادہ تاہم سال 2013-14 کے نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف سے کم ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب ایف بی آرکی طرف سے مرتب کردہ 2 جولائی 2014 تک کے عبوری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے آخری ماہ (جون)کے دوران ٹیکس دہندگان کو سال بہ سال91 فیصد کم ریفنڈز جاری کیے گئے۔ دستاویز میں بتایاگیا کہ گزشتہ مالی سال ڈائریکٹ ٹیکس (انکم ٹیکس)کی مد میں 876.86ارب روپے کی وصولیاں ہوئیں جوسال 2012-13میں 743.41ارب روپے کی انکم ٹیکس وصولیوں سے 18 فیصد زیادہ ہیں، اس کے علاوہ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں سے سیلزٹیکس کی مد میں1002.10ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں جوسال 2012-13 میںہونے والی 842.53ارب روپے کی سیلز ٹیکس وصولیوں سے 18.9فیصد زیادہ ہیں جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 139.1ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں جو سال 2012-13 میں 120.96 ارب روپے کی وصولیوں کے مقابلے میں 15فیصد زیادہ ہیں۔


اعدادوشمار کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی کی وصولیاں 240.99ارب روپے رہیں جو سال 2012-13 میں239.46ارب روپے کی وصولیوں کے مقابلے میں 0.6فیصد زیادہ ہیں۔ دستاویز میں انکشاف کیا گیا کہ ایف بی آر کی طرف سے ریونیو شارٹ فال میں کمی کے لیے گزشتہ ماہ اربوں روپے کے ریفنڈ روکے گئے۔ اعدادوشمار کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے جون کے دوران ٹیکس دہندگان کو صرف 77کروڑ80 لاکھ روپے کے ریفنڈ جاری کیے گئے جو جون 2013میں جاری کردہ 8 ارب 65کروڑ 80لاکھ روپے کے ریفنڈ سے 91فیصد کم ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ ماہ سب سے زیادہ ریفنڈانکم ٹیکس کی مد میں جاری کیے گئے، ایف بی آر نے یکم سے 16 جون تک انکم ٹیکس ریفنڈز کی مد میں 45کروڑ10لاکھ روپے جاری کیے جو سال 2012-13 کے اسی عرصے میں جاری کردہ7ارب 84 کروڑ 70 لاکھ روپے کے انکم ٹیکس ریفنڈز سے 94فیصد کم ہیں جبکہ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں سے سیلز ٹیکس کی مد میں11کروڑ 40 لاکھ روپے کے ریفنڈ جاری کیے گئے جو سال 2012-13 کے اسی عرصے میں جاری کردہ 62 کروڑ 60 لاکھ روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کے مقابلے میں 82 فیصدکم ہیں۔ اعدادوشمار میںبتایا گیاکہ گزشتہ ماہ میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں کسی قسم کا کوئی ریفنڈ جاری نہیں کیا گیا۔

عبوری اعدادوشمار کے مطابق جون میں 305.94 ارب روپے کی خالص ٹیکس وصولیاں کی گئیں جو جون 2013 میں 267.61 ارب روپے کی خالص ٹیکس وصولیوں کے مقابلے میں صرف 14فیصد زیادہ ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی ایف بی آر طرف سے ٹیکس وصولیوں کے اعدادوشمار میں کی جانیوالی 17ارب روپے کی اوور رپورٹنگ کا معاملہ بھی زیر تحقیق ہے اور چیف سیلز ٹیکس اشفاق احمد تونیو کے بعد اب ایف بی آر کی طرف سے معاملے کی انکوائری کیلیے قائم کمیٹی کا سربراہ چیف کمشنر آر ٹی او کراچی کو مقرر کیا گیا ہے جس نے ابھی اپنی رپورٹ پیش کرنا ہے اور اگر یہ 17 ارب روپے کی اوور رپورٹنگ بھی ثابت ہو جاتی ہے تو یہ ریونیو شارٹ فال مزید بڑھ جائیگا۔
Load Next Story