کراچی حصص مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد ملا جلا رجحان
آئل سیکٹرمیں منافع کا حصول، انڈیکس21 پوائنٹس کے اضافے سے 29698 ہو گیا،311 میں سے 153 کمپنیوں کے دام گرگئے
سرمایہ کاروں کو 18 ارب 22 کروڑ روپے کا نقصان، کاروباری حجم بدھ کی نسبت 45 فیصد کم، 7 کروڑ 30 لاکھ حصص کے سودے۔ فوٹو: آن لائن/فائل
کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو کاروباری صورتحال اتارچڑھاؤ کے بعد ملے جلے رحجان سے دوچار رہی جس سے 49.19 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں۔
100 انڈیکس میں اضافے کے باوجود سرمایہ کاروں کے18 ارب22 کروڑ57 لاکھ 95 ہزار822 روپے ڈوب گئے کیونکہ آل شیئرانڈیکس57.23 پوائنٹس کی کمی سے 21900.81 ہوگیا تھا، ٹریڈنگ کے دوران پی ایس اوسمیت دیگر آئل کمپنیوں میں پرافٹ ٹیکنگ کا رحجان غالب رہا تاہم بعض مثبت اطلاعات کی وجہ سے حبکو میں خلاف توقع خریداری سرگرمیاں زیادہ رہیں جس کی وجہ سے انڈیکس میں محدود پیمانے پر اضافہ ہوا۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کے بیشرشعبے ماہ صیام کی وجہ سے سائیڈ لائن رہے، ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر54 لاکھ7 ہزار854 ڈالرمالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جبکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے48 لاکھ13 ہزار462 ڈالراور این بی ایف سیز کی جانب سے5 لاکھ94 ہزار392 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے مارکیٹ پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس20.99 پوائنٹس کے اضافے سے29697.79 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 16.18 پوائنٹس کے اضافے سے 20487.01 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 143.22 پوائنٹس کے اضافے سے 47992.79 ہوگیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت 44.88 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر7 کروڑ 30 لاکھ 45 ہزار750 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 311 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 132 کے بھاؤ میں اضافہ، 153 کے دام میں کمی اور26 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
100 انڈیکس میں اضافے کے باوجود سرمایہ کاروں کے18 ارب22 کروڑ57 لاکھ 95 ہزار822 روپے ڈوب گئے کیونکہ آل شیئرانڈیکس57.23 پوائنٹس کی کمی سے 21900.81 ہوگیا تھا، ٹریڈنگ کے دوران پی ایس اوسمیت دیگر آئل کمپنیوں میں پرافٹ ٹیکنگ کا رحجان غالب رہا تاہم بعض مثبت اطلاعات کی وجہ سے حبکو میں خلاف توقع خریداری سرگرمیاں زیادہ رہیں جس کی وجہ سے انڈیکس میں محدود پیمانے پر اضافہ ہوا۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کے بیشرشعبے ماہ صیام کی وجہ سے سائیڈ لائن رہے، ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر54 لاکھ7 ہزار854 ڈالرمالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جبکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے48 لاکھ13 ہزار462 ڈالراور این بی ایف سیز کی جانب سے5 لاکھ94 ہزار392 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے مارکیٹ پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس20.99 پوائنٹس کے اضافے سے29697.79 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 16.18 پوائنٹس کے اضافے سے 20487.01 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 143.22 پوائنٹس کے اضافے سے 47992.79 ہوگیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت 44.88 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر7 کروڑ 30 لاکھ 45 ہزار750 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 311 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 132 کے بھاؤ میں اضافہ، 153 کے دام میں کمی اور26 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔