ورلڈکپ ٹکٹ اسکینڈل فیفا کا اپنا آفیشل ہی ملوث نکلا
برازیل، ارجنٹائن اور اسپینش فٹبال فیڈریشن کے ملوث ہونے کی بھی تحقیقات کا فیصلہ، گینگ کے خلاف انکوائری شروع
بڑے پیمانے پر اعزازی ٹکٹوں کی فروخت نے حکام میں کھلبلی مچا دی ہے۔ فوٹو: فائل
ورلڈکپ کے ٹکٹ اسکینڈل میں فیفا کا اپنا آفیشل ہی ملوث نکلا، برازیلین اتھارٹیز نے گینگ کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں، بڑے پیمانے پر اعزازی ٹکٹوں کی فروخت نے حکام میں کھلبلی مچا دی ہے۔
برازیل کے اسٹار فٹبالر رونالڈینہو کے بھائی روبرٹو ڈی ایسس موریرا سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی، ریو ڈی جنیرو کے پراسیکیوٹر مارکوس کیس کا کہنا ہے کہ ہر میچ پر تقریباً 9 کروڑ ڈالر کمائے گئے۔ تفصیلات کے مطابق برازیل میں بڑے پیمانے پر اعزازی ٹکٹوں کی بلیک میں فروخت کا انکشاف ہوا، انھیں فیفا نے اسپانسرز، فٹبال فیڈریشنز، پلیئرز اور این جی اوز کو مفت فراہم کیا تھا۔ پولیس کمشنر فابیو نے دعویٰ کیا کہ ٹکٹوں کی فراہمی میں خود فیفا ٹکٹ ایجنسی کا کوئی ممبر ملوث ہے۔
گذشتہ دنوں پولیس کی جانب سے 11افراد کو حراست میں لیا گیا،ان سے حیرت انگیز انکشاف ہوئے جس کے بعد اب برازیلین اتھارٹیز یہ پتا لگانے میں مصروف ہوگئیں کہ اعزازی ٹکٹوں کی فروخت کے پیچھے برازیل، ارجنٹائن اور اسپینش فٹبال فیڈریشن کے کسی ممبر کا ہاتھ تو نہیں ہے،اس آپریشن کو سابق فیفا باس کے نام پر 'جولیس ریمٹ' قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں رونالڈینہو کے بھائی اور ایجنٹ ڈی ایسس موریرا سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی، البتہ وہ ابھی زیر تفتیش نہیں ہیں۔
ریو کے پراسیکیوٹر مارکوس نے کہاکہ رونالڈینہو کے بھائی نے اپنے چند دوستوں سے کہا تھا کہ وہ اس سے ٹکٹیں خرید سکتے ہیں، اگر ہم نے دیکھا کہ اس کا اس ٹکٹ گینگ کے ساتھ کوئی تعلق ہے تو پھر وہ بھی اس میں ملوث سمجھا جائے گا مگر ابھی ایسا نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اس ٹکٹ گینگ کی مبینہ طور پر سربراہی الجزائر کے ایک مشکوک شخص لامینے فافونا کررہے ہیں، ان کے خلاف گذشتہ تین ماہ سے تحقیقات جاری ہیں۔ مارکوس کیک نے کہاکہ اس گینگ نے ہر میچ سے کافی رقم بنائی، ہر مقابلے میں ایک ہزار کے قریب ٹکٹیں فروخت کی گئیں، ان کی بنیادی قیمت 1365 ڈالر فی کس تھی۔
برازیل کے اسٹار فٹبالر رونالڈینہو کے بھائی روبرٹو ڈی ایسس موریرا سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی، ریو ڈی جنیرو کے پراسیکیوٹر مارکوس کیس کا کہنا ہے کہ ہر میچ پر تقریباً 9 کروڑ ڈالر کمائے گئے۔ تفصیلات کے مطابق برازیل میں بڑے پیمانے پر اعزازی ٹکٹوں کی بلیک میں فروخت کا انکشاف ہوا، انھیں فیفا نے اسپانسرز، فٹبال فیڈریشنز، پلیئرز اور این جی اوز کو مفت فراہم کیا تھا۔ پولیس کمشنر فابیو نے دعویٰ کیا کہ ٹکٹوں کی فراہمی میں خود فیفا ٹکٹ ایجنسی کا کوئی ممبر ملوث ہے۔
گذشتہ دنوں پولیس کی جانب سے 11افراد کو حراست میں لیا گیا،ان سے حیرت انگیز انکشاف ہوئے جس کے بعد اب برازیلین اتھارٹیز یہ پتا لگانے میں مصروف ہوگئیں کہ اعزازی ٹکٹوں کی فروخت کے پیچھے برازیل، ارجنٹائن اور اسپینش فٹبال فیڈریشن کے کسی ممبر کا ہاتھ تو نہیں ہے،اس آپریشن کو سابق فیفا باس کے نام پر 'جولیس ریمٹ' قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں رونالڈینہو کے بھائی اور ایجنٹ ڈی ایسس موریرا سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی، البتہ وہ ابھی زیر تفتیش نہیں ہیں۔
ریو کے پراسیکیوٹر مارکوس نے کہاکہ رونالڈینہو کے بھائی نے اپنے چند دوستوں سے کہا تھا کہ وہ اس سے ٹکٹیں خرید سکتے ہیں، اگر ہم نے دیکھا کہ اس کا اس ٹکٹ گینگ کے ساتھ کوئی تعلق ہے تو پھر وہ بھی اس میں ملوث سمجھا جائے گا مگر ابھی ایسا نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اس ٹکٹ گینگ کی مبینہ طور پر سربراہی الجزائر کے ایک مشکوک شخص لامینے فافونا کررہے ہیں، ان کے خلاف گذشتہ تین ماہ سے تحقیقات جاری ہیں۔ مارکوس کیک نے کہاکہ اس گینگ نے ہر میچ سے کافی رقم بنائی، ہر مقابلے میں ایک ہزار کے قریب ٹکٹیں فروخت کی گئیں، ان کی بنیادی قیمت 1365 ڈالر فی کس تھی۔