اسپتالوں میں ایمرجنسی کے باوجود 80فیصد عملہ غائب
گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج کے دوران سول اسپتال، جناح اسپتال سمیت دیگراسپتالوں کی اوپی ڈی سمیت دیگریونٹ مکمل بند رہے۔
اسپتالوںکی انتظامیہ غائب رہی،صرف30فیصدجونیئر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل ونرسنگ عملہ موجود تھا،مختلف وارڈز میں داخل مریضوںکوحصول علاج میں شدیدمشکلات فوٹو : فائل
کراچی کے اسپتالوں میں ایمرجنسی کے باوجود اسپتالوں کی انتظامیہ غائب رہی۔
گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج کے دوران سول اسپتال، جناح اسپتال سمیت دیگراسپتالوں کی اوپی ڈی سمیت دیگریونٹ مکمل بند رہے جبکہ مختلف واقعات اورہنگامہ آرائی میں ہونے والے بیشتر زخمیوں کے بھی آپریشن نہیں کیے جاسکے۔
جبکہ بعض نامعلوم افراد نے سول اسپتال کے شعبہ حادثات میں بجلی نہ ہونے پرمشتعل افراد نے توڑ پھوڑکی جس کی وجہ سے شعبہ حادثات کا عملہ جان بچاکر بھاگ گیا اوریہاں آنے والے زخمیوں کو جناح اسپتال بھیجاگیا۔
گستاخانہ فلم کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران ان اسپتالوں میں سیکڑوں آپریشن بھی ملتوی کردیے، کسی بھی مریض کے لیبارٹری ٹیسٹ اورایکسرے نہیںکیے جاسکے، شہرکے دیگراسپتالوںکے انتظامی افسران بھی اسپتال سے غیرحاضر رہے اوران اسپتالوں میں مجموعی طور پر70فیصد افسران غائب جبکہ30 فیصد عملہ موجود رہا۔
ان میں جونیئر ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل ونرسنگ عملہ شامل تھاجو زیرعلاج مریضوں کی نگرانی کرتارہاتاہم سہ پہران اسپتالوں سے یہ عملہ بھی غائب رہا، سول اسپتال میں جمعہ کوبیشتر یونٹوں میں مریضوںکوکھانا بھی فراہم نہیںکیاجاسکا،سول اسپتال میں جمعہ کی صبح سے ہی انتظامیہ غائب رہی اوراسپتال سپروائزر کے حوالے کردیاگیاتھا۔
جہاں مریضوںکوادویات اورخوراک سمیت دیگر مسائل کاسامناکرنا پڑا، یوم عشق رسولﷺ کے موقع پرکراچی کے دیگراسپتالوں میں سیکڑوںکی تعداد میں طبی عملہ غائب رہاجس کی وجہ سے مختلف وارڈوں میں داخل مریضوںکوحصول علاج میں شدیدمشکلات کاسامناکرنا پڑا، چندنرسوں اورزیرتربیت میڈیکل کے اسٹوڈنٹ نے طبی سہولیات فراہم کیں۔
جبکہ چھوٹے بڑے تمام آپریشن ، روٹین کے ٹیسٹ سمیت دیگر ٹیسٹ بھی ملتوی کردیے گئے، جناح اسپتال میں بھی 80فیصد عملہ غائب رہاجبکہ اسپتال میںکوئی انتظامی افسر موجود نہ تھا،جناح اسپتال کے بیشتر یونٹوں میں ڈاکٹروں موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے مریض حصول علاج سے محروم رہے، اسپتال میں مریضوں کو ادویات فراہم کرنے والی فارمیسی بھی بندرہی جکہ بلڈ بینک سمیت دیگر یونٹ بھی عملاًبند رہے۔
اسپتال میں ہڑتال کا سماں تھا،قومی ادارہ امراض قلب میں بھی 70 فیصد عملہ غائب رہاجبکہ قومی ادارہ امراض قلب میں 30فیصد عملہ موجود تھا، ان اسپتالوں میں انتظامی افسران کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہزاروں مریض علاج سے محروم رہے جبکہ آپریشن بھی ملتوی کیے گئے ۔
ان اسپتالوں میں لیبارٹری ، ایکسرے یونٹ، سٹی اسکین سمیت دیگرتشخیصی مراکز بھی بند رہے، وزیرصحت ڈاکٹر صغیراحمد نے گزشتہ روزہدایات جاری کی تھی کہ موجودہ حالات کے پیش نظرکسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسپتالوں اورتمام بلڈ بینکس کو 24گھنٹے فعال رکھا جائے۔
صوبائی وزیر صحت نے تمام سرکاری اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو بھی ہدایات دی تھیں کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں اسپتالوں میں ضروری نوعیت کی دوائوں کی دستیابی کے ساتھ ساتھ تمام ڈاکٹرز و اسٹاف کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا جائے، علاوہ ازیں سندہ ڈاکٹرز اتحاد کی طرف سے یوم عشق رسولؐ کے موقع پر ڈاکٹرز میس ہاسٹل میں تقریب منعقد کرکے رسولؐ کے شان میں گستاخی کرنے والوںکی سخت مذمت کی گئی،
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمدعلی تھلہو،ڈاکٹر نثارعلی شاہ، ڈاکٹر مجتبیٰ میمن،ڈاکٹر نواز ملاح،ڈاکٹر شاہد قریشی،ڈاکٹر نوید بلوچ،ڈاکٹر عبدالوحید شیخ،ڈاکٹر پریل جوکھیو اور دیگر نے کہا کہ رسول اکرمؐ کی شان بہت بلند ہے، اسلام کے تیزی سے بڑھنے والے عمل نے اسلام دشمن قوتوںکوذہنی مریض بنادیا ہے،رسولؐ کے شان میں گستاخی کی نیت سے بنائی گئی فلم ذہنی مایوسی کی نشانی ہے
جس سے خاص طور پرامریکا کی نیت اور انسانی حقوق کی دہری پالیسی واضح ہوجاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اسلام دشمن قوتوںکی سازشوںکوناکام کردیا ہے،اجلاس میں مسلمانوں کو اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی دعائیں اور حضور اکرمؐ پر درود و سلام بھیجے گئے ، دریں اثناسول اسپتال، جناح اسپتال سمیت دیگر اسپتالوں میں بھی گستاخانہ فلم کے خلاف پیرامیڈیکل عملے ودیگر ملازمین نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔
گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج کے دوران سول اسپتال، جناح اسپتال سمیت دیگراسپتالوں کی اوپی ڈی سمیت دیگریونٹ مکمل بند رہے جبکہ مختلف واقعات اورہنگامہ آرائی میں ہونے والے بیشتر زخمیوں کے بھی آپریشن نہیں کیے جاسکے۔
جبکہ بعض نامعلوم افراد نے سول اسپتال کے شعبہ حادثات میں بجلی نہ ہونے پرمشتعل افراد نے توڑ پھوڑکی جس کی وجہ سے شعبہ حادثات کا عملہ جان بچاکر بھاگ گیا اوریہاں آنے والے زخمیوں کو جناح اسپتال بھیجاگیا۔
گستاخانہ فلم کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران ان اسپتالوں میں سیکڑوں آپریشن بھی ملتوی کردیے، کسی بھی مریض کے لیبارٹری ٹیسٹ اورایکسرے نہیںکیے جاسکے، شہرکے دیگراسپتالوںکے انتظامی افسران بھی اسپتال سے غیرحاضر رہے اوران اسپتالوں میں مجموعی طور پر70فیصد افسران غائب جبکہ30 فیصد عملہ موجود رہا۔
ان میں جونیئر ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل ونرسنگ عملہ شامل تھاجو زیرعلاج مریضوں کی نگرانی کرتارہاتاہم سہ پہران اسپتالوں سے یہ عملہ بھی غائب رہا، سول اسپتال میں جمعہ کوبیشتر یونٹوں میں مریضوںکوکھانا بھی فراہم نہیںکیاجاسکا،سول اسپتال میں جمعہ کی صبح سے ہی انتظامیہ غائب رہی اوراسپتال سپروائزر کے حوالے کردیاگیاتھا۔
جہاں مریضوںکوادویات اورخوراک سمیت دیگر مسائل کاسامناکرنا پڑا، یوم عشق رسولﷺ کے موقع پرکراچی کے دیگراسپتالوں میں سیکڑوںکی تعداد میں طبی عملہ غائب رہاجس کی وجہ سے مختلف وارڈوں میں داخل مریضوںکوحصول علاج میں شدیدمشکلات کاسامناکرنا پڑا، چندنرسوں اورزیرتربیت میڈیکل کے اسٹوڈنٹ نے طبی سہولیات فراہم کیں۔
جبکہ چھوٹے بڑے تمام آپریشن ، روٹین کے ٹیسٹ سمیت دیگر ٹیسٹ بھی ملتوی کردیے گئے، جناح اسپتال میں بھی 80فیصد عملہ غائب رہاجبکہ اسپتال میںکوئی انتظامی افسر موجود نہ تھا،جناح اسپتال کے بیشتر یونٹوں میں ڈاکٹروں موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے مریض حصول علاج سے محروم رہے، اسپتال میں مریضوں کو ادویات فراہم کرنے والی فارمیسی بھی بندرہی جکہ بلڈ بینک سمیت دیگر یونٹ بھی عملاًبند رہے۔
اسپتال میں ہڑتال کا سماں تھا،قومی ادارہ امراض قلب میں بھی 70 فیصد عملہ غائب رہاجبکہ قومی ادارہ امراض قلب میں 30فیصد عملہ موجود تھا، ان اسپتالوں میں انتظامی افسران کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہزاروں مریض علاج سے محروم رہے جبکہ آپریشن بھی ملتوی کیے گئے ۔
ان اسپتالوں میں لیبارٹری ، ایکسرے یونٹ، سٹی اسکین سمیت دیگرتشخیصی مراکز بھی بند رہے، وزیرصحت ڈاکٹر صغیراحمد نے گزشتہ روزہدایات جاری کی تھی کہ موجودہ حالات کے پیش نظرکسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسپتالوں اورتمام بلڈ بینکس کو 24گھنٹے فعال رکھا جائے۔
صوبائی وزیر صحت نے تمام سرکاری اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو بھی ہدایات دی تھیں کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں اسپتالوں میں ضروری نوعیت کی دوائوں کی دستیابی کے ساتھ ساتھ تمام ڈاکٹرز و اسٹاف کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا جائے، علاوہ ازیں سندہ ڈاکٹرز اتحاد کی طرف سے یوم عشق رسولؐ کے موقع پر ڈاکٹرز میس ہاسٹل میں تقریب منعقد کرکے رسولؐ کے شان میں گستاخی کرنے والوںکی سخت مذمت کی گئی،
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمدعلی تھلہو،ڈاکٹر نثارعلی شاہ، ڈاکٹر مجتبیٰ میمن،ڈاکٹر نواز ملاح،ڈاکٹر شاہد قریشی،ڈاکٹر نوید بلوچ،ڈاکٹر عبدالوحید شیخ،ڈاکٹر پریل جوکھیو اور دیگر نے کہا کہ رسول اکرمؐ کی شان بہت بلند ہے، اسلام کے تیزی سے بڑھنے والے عمل نے اسلام دشمن قوتوںکوذہنی مریض بنادیا ہے،رسولؐ کے شان میں گستاخی کی نیت سے بنائی گئی فلم ذہنی مایوسی کی نشانی ہے
جس سے خاص طور پرامریکا کی نیت اور انسانی حقوق کی دہری پالیسی واضح ہوجاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اسلام دشمن قوتوںکی سازشوںکوناکام کردیا ہے،اجلاس میں مسلمانوں کو اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی دعائیں اور حضور اکرمؐ پر درود و سلام بھیجے گئے ، دریں اثناسول اسپتال، جناح اسپتال سمیت دیگر اسپتالوں میں بھی گستاخانہ فلم کے خلاف پیرامیڈیکل عملے ودیگر ملازمین نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔