آئی ڈی پیز نے طالبان کیساتھ گزرا وقت ڈراؤنا خواب قرار دیدیا
قبائلی علاقہ افغان باغیوں، یورپ اور دنیا بھر سے آنے والے جہادیوں کیلیے محفوظ پناہ گاہ بن گیا تھا
سماجی ڈھانچہ، روایات تباہ، بچوں کے ذہن پراثر پڑا، قبائلیوں کی وال اسٹریٹ جرنل سے بات چیت۔ فوٹو: فائل
شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنیوالے افرادنے کہاہے کہ افغان سرحد کے ساتھ والے علاقہ میں طالبان کی کارروائیوں سے علاقے کاسماجی ڈھانچہ اور روایات وغیرہ تباہ ہوگئیں جس سے روزمرہ زندگی میں بے یقینی اور تشدد میں بھی اضافہ ہوا۔
نقل مکانی کرنے والے افرادمیں سے کچھ نے امریکی اخباروال اسٹریٹ جرنل کو بتایاکہ ان کا علاقہ افغان باغیوں،یورپ اوردنیابھرسے آنے والے جہادیوں کیلیے محفوظ پناہ گاہ بن گیاتھا۔ فارمیسی اسٹورچلانے والے ضیاالرحمن نے کہاکہ انھیں اورعلاقے بھرکے تمام رہائشیوں میں سے ہرایک کوکسی بھی وقت طالبان کی طرف سے اغواکرلیے جانے کا خدشہ رہتا تھا۔ایک اور قبائلی گل نعیم وزیرنے بتایاکہ طالبان نے سماجی ڈھانچہ اور علاقے بھرکی روایات ختم کردیں۔
میران شاہ کے ایک باشندے ضیاالرحمن نے بتایا کہ طالبان کو بازاروں میں صبح بعد از دوپہراور رات کودیکھا جا سکتا تھاجبکہ یہ کالے شیشوں والی گاڑیاں چلاتے بھی دکھائی دیتے تھے۔ 55 سالہ محمدرئوف نے بتایاکہ انھیں لمبے بالوں والے ان افرادکے آنے پر پہلے پہل خوشی ہوئی تھی تاہم ان افرادنے ہماری زندگیاں تباہ کردیں اوران کے نزدیک جانے والے خاص طورپربچوں کے ذہن بھی متاثر ہوئے۔وال اسٹریٹ جرنل سے بات چیت میں نقل مکانی کرنیوالے افراد نے شمالی وزیرستان کے افغان سرحد سے متصل علاقہ میں گزارے دنوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈرائونا خواب قرار دیا۔
نقل مکانی کرنے والے افرادمیں سے کچھ نے امریکی اخباروال اسٹریٹ جرنل کو بتایاکہ ان کا علاقہ افغان باغیوں،یورپ اوردنیابھرسے آنے والے جہادیوں کیلیے محفوظ پناہ گاہ بن گیاتھا۔ فارمیسی اسٹورچلانے والے ضیاالرحمن نے کہاکہ انھیں اورعلاقے بھرکے تمام رہائشیوں میں سے ہرایک کوکسی بھی وقت طالبان کی طرف سے اغواکرلیے جانے کا خدشہ رہتا تھا۔ایک اور قبائلی گل نعیم وزیرنے بتایاکہ طالبان نے سماجی ڈھانچہ اور علاقے بھرکی روایات ختم کردیں۔
میران شاہ کے ایک باشندے ضیاالرحمن نے بتایا کہ طالبان کو بازاروں میں صبح بعد از دوپہراور رات کودیکھا جا سکتا تھاجبکہ یہ کالے شیشوں والی گاڑیاں چلاتے بھی دکھائی دیتے تھے۔ 55 سالہ محمدرئوف نے بتایاکہ انھیں لمبے بالوں والے ان افرادکے آنے پر پہلے پہل خوشی ہوئی تھی تاہم ان افرادنے ہماری زندگیاں تباہ کردیں اوران کے نزدیک جانے والے خاص طورپربچوں کے ذہن بھی متاثر ہوئے۔وال اسٹریٹ جرنل سے بات چیت میں نقل مکانی کرنیوالے افراد نے شمالی وزیرستان کے افغان سرحد سے متصل علاقہ میں گزارے دنوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈرائونا خواب قرار دیا۔