عدالتی حکم عدولی ڈی ایس پی سمیت 3افسران کی گرفتاری کا حکم
عدالت حاضرنہ ہونے پرڈائریکٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آبادکے وارنٹ گرفتاری جاری
استغاثہ کے مطابق 16اکتوبر 2008کو ڈرگ انسپکٹر نے سروسزاسپتال میں واقع میڈیکل اسٹور پر چھاپہ مارکرمقامی دواسازکمپنی کی غیرمعیاری ادویات برآمد کی تھی۔ فوٹو: فائل
ڈرگ کورٹ کے چیئرمین ساتھی محمد اسحاق ،ممبران ڈاکٹر جاوید بخاری اورڈاکٹر نگہت قادری نے ڈائریکٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد ڈاکٹر فرزانہ ملک کے وارنٹ گرفتاری۔
وفاقی سیکریٹری ہیلتھ کے توسط سے جاری کیے ہیں،استغاثہ کے مطابق 16اکتوبر 2008کو ڈرگ انسپکٹر نے سروسزاسپتال میں واقع میڈیکل اسٹور پر چھاپہ مارکرمقامی دواسازکمپنی کی غیرمعیاری ادویہ برآمد کی تھی اور کمپنی کے ایم ڈی سلمان برنی ، پروڈکشن انچارج مظفر اقبال سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
کراچی لیبارٹری کی رپورٹ نے بھی ادوایات غیرمعیاری قرار دیا تھا تاہم ملزمان نے کراچی کی لیبارٹری رپورٹ کو چیلنج کیا اور اسلام آباد کی مذکورہ لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے کی استدعا کی تھی، کورٹ کے حکم پرادویات کے نمونے اسلام آباد لیبارٹری بھیجے گئے تھے۔
مذکورہ ڈائریکٹر نے بھی اپنی رپورٹ میں ادویات کو غیرمعیاری قرار دیکر رپورٹ کورٹ کو ارسال کردی تھی فاضل عدالت نے متعدد بار نوٹس جاری کرتے ہوئے گواہی کیلیے مذکورہ ڈائریکٹر کو عدالت میں طلب کیا تھا لیکن انھوں نے عدالتی حکم نظرانداز کردیا تھا۔
دریں اثنا اس ہی کورٹ نے عدالتی حکم عدولی پر ڈی ایس پی جاوید،سب انسپکٹرگلفراش ، اے ایس آئی ساجد حسین اورایچ سی سادات کی گرفتاری کا حکم دیا ہے ،علاوہ ازیں اس ہی کورٹ نے ایس ایچ او سکھر انسپکٹر انیس احمد کوشوکاز نوٹس جاری کیے اور جواب طلب کیا ہے ۔
وفاقی سیکریٹری ہیلتھ کے توسط سے جاری کیے ہیں،استغاثہ کے مطابق 16اکتوبر 2008کو ڈرگ انسپکٹر نے سروسزاسپتال میں واقع میڈیکل اسٹور پر چھاپہ مارکرمقامی دواسازکمپنی کی غیرمعیاری ادویہ برآمد کی تھی اور کمپنی کے ایم ڈی سلمان برنی ، پروڈکشن انچارج مظفر اقبال سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
کراچی لیبارٹری کی رپورٹ نے بھی ادوایات غیرمعیاری قرار دیا تھا تاہم ملزمان نے کراچی کی لیبارٹری رپورٹ کو چیلنج کیا اور اسلام آباد کی مذکورہ لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے کی استدعا کی تھی، کورٹ کے حکم پرادویات کے نمونے اسلام آباد لیبارٹری بھیجے گئے تھے۔
مذکورہ ڈائریکٹر نے بھی اپنی رپورٹ میں ادویات کو غیرمعیاری قرار دیکر رپورٹ کورٹ کو ارسال کردی تھی فاضل عدالت نے متعدد بار نوٹس جاری کرتے ہوئے گواہی کیلیے مذکورہ ڈائریکٹر کو عدالت میں طلب کیا تھا لیکن انھوں نے عدالتی حکم نظرانداز کردیا تھا۔
دریں اثنا اس ہی کورٹ نے عدالتی حکم عدولی پر ڈی ایس پی جاوید،سب انسپکٹرگلفراش ، اے ایس آئی ساجد حسین اورایچ سی سادات کی گرفتاری کا حکم دیا ہے ،علاوہ ازیں اس ہی کورٹ نے ایس ایچ او سکھر انسپکٹر انیس احمد کوشوکاز نوٹس جاری کیے اور جواب طلب کیا ہے ۔