جاسوسی پر امریکا سے شدید احتجاج

پاکستان نے پیپلز پارٹی کی جاسوسی کرنے پر امریکا سے شدید احتجاج اور جاسوسی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اوباما انتظامیہ کو امریکی شہریوں اور عالمی جاسوسی کے باعث بدنامی کا سامنا ہے، فوٹو؛فائل

پاکستان نے پیپلز پارٹی کی جاسوسی کرنے پر امریکا سے شدید احتجاج اور جاسوسی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے حالیہ میڈیا رپورٹس پر سخت تشویش ظاہر کی ہے جن میں بتایا گیا کہ امریکی سرکاری اداروں کی جانب سے جن ممالک کی جاسوسی کی جاتی رہی ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

امریکا نے 2013 ء سے عالمی سطح پر جاسوسی کے جس داخلی اور عالمی نظام پر عملدرآمد شروع کیا وہ امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی کی پالیسی اور اس کے میکنزم کا نتیجہ ہے جس کے خلاف آج پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی عالمی رد عمل نہ صرف شدت اختیار کر گیا ہے بلکہ یورپ ، مشرق وسطیٰ، اور ایشیائی ممالک کی طرف سے جاسوسی کو اتحادی ممالک اور آزاد دنیا کے شہریوں کی پرائیویسی کے حق پر امریکی سامراج کے شب خون مارنے سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اوباما انتظامیہ کو امریکی شہریوں اور عالمی جاسوسی کے باعث بدنامی کا سامنا ہے، جب کہ ایڈورڈ سنوڈن اور اس سے قبل وکی لیکس کے باعث دنیا کو امریکی نظام جاسوسی کے ہوش ربا انکشافات نے ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا اور کئی ملکوں سے امریکا کے تعلقات کشیدہ ہوگئے، یورپی دارالحکومتوں سمیت جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے تو صدر اوباما سے دوبدو شدید احتجاج کیا تھا جس پر اوباما کو معذرت کرنا پڑی ۔اسرائیل بھی امریکی جاسوسی سے نہیں بچ سکا ۔تاہم امریکی رائے عامہ کے احتجاج اور میڈیا میں شور برپا ہونے پر بھی امریکیوں کے فون ٹیپ ہوتے رہے اور ان کی ای میلز اور نیٹ ڈیٹا تک رسائی کو آئینی و قانونی گردانا گیا جو کھلی امریکی رعونت اور گن بوٹ ڈپلومیسی ہے۔

ایک اطلاع کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کو جمعرات کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان کے سرکاری محکموں، دیگر تنظیموں، اداروں اور افراد کے خلاف اس طرح کا اقدام بین الاقوامی قانون اور مسلمہ سفارتی ضوابط کے منافی ہے، اس سلسلے میں پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کی جاسوسی کی اطلاعات حیران کن ہیں ۔ ادھر پیپلزپارٹی نے بھی امریکی سیکورٹی ایجنسی کی جانب سے جاسوسی کرنے پر امریکا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ سینیٹ میں توجہ دلائو نوٹس جمع کرادیا ہے۔


پیپلزپارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کی جاسوسی ناقابل قبول ہے، اس معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھایا جائے اور اس بات کی ضمانت لی جائے کہ بین الاقوامی قانون کی ایسی سنگین خلاف ورزی دوبارہ نہ کی جائے، جن لوگوں نے ایک خودمختار ملک کی سیاسی پارٹی کی جاسوسی کی ہے انھیں معافی مانگنی چاہیے ۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا کسی پارٹی یا فرد کی سرگرمیوں کی جاسوسی کا کوئی حق نہیں رکھتا، پیپلز پارٹی اس معاملے پر امریکی سفارتخانے کو خط لکھے گی ۔

سینیٹر رحمان ملک نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ صابر بلوچ اور رائے مجتبیٰ کھرل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت پاکستان اور پیپلز پارٹی کی جاسوسی کرنے پر معافی مانگے۔ یاد رہے برطانیہ میں جاسوسی کے مرکز جی سی ایچ اوGCHO نے 2013 ء میں اپنے اراکین پارلیمنٹ کو رپورٹ پیش کی تھی جو امریکا کے جاسوسی نظام کے ڈیٹا تک رسائی سے متعلق تھی۔ اسی مرکز نے دنیا کی 8 بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں کا ڈیٹا حاصل کیا تھا اور آسٹریلین سفارت خانوں پر انڈونیشیا نے بھی یہ الزام لگایا تھا کہ وہ امریکی جاسوسی نظام ''پرزم'' کے وسیلہ کے طور پر عالمی جاسوسی میں ملوث ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے مطابق ان کے دور حکومت میں کابینہ اجلاسوں کی جاسوسی کی جاتی رہی ، ایک بار شک پڑنے پر انٹیلی جنس بیورو سے سویپنگ کرائی تو جاسوسی کے سگنلز موجود تھے جس پر کابینہ اجلاس میں تین گھنٹے تاخیر کی گئی۔

امریکا در اصل اپنے استعماری عزائم کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے تاہم پاکستان کا احتجاج بر وقت ہے،انکل سام کو پاکستان کے اتحادی ہونے کے ناتے جاسوسی کے اس قبیع فعل پر اس سے بلاتاخیر معذرت کرنی چاہیے، یہ پاک امریکا دو طرفہ تعلقات اور آداب سفارت کے شایان شان ہی نہیں بلکہ امریکی تصور آزادی ، انفرادیت پسندی اور پاکستان کے سیاسی و جمہوری نظام میں دخل اندازی کی انتہائی گھنائونی کوشش ہے جس سے اوباما انتظامیہ کو گریز کرنا چاہیے ۔ اتحادی اور دوست ملکوں کی جاسوسی سے امریکا کو نیک نامی نہیں بدنامی ملے گی ۔صدر اوباما امریکی رائے عامہ کا ہی کچھ لحاظ کریں ۔خلق خدا صدر ریگن کو بہترین صدرقرار دے رہی ہے۔
Load Next Story