ایکنک کے اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے 446 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی ہے

کراچی، ملتان لاہور موٹروے پراجیکٹ پر تقریباً دو سو ساٹھ ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ فوٹو:فائل

قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے 446 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی ہے جن میں کراچی، ملتان لاہور موٹروے کی تعمیر بھی شامل ہے، یہ منظوری وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونیوالے ایکنک کے اجلاس میں دی گئی۔ اجلاس میں متعدد اہم وفاقی اور صوبائی وزراء اور مشیروں نے بھی شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اکثر ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل نہیں ہوتے ہیں اور تکمیل میں تاخیر کے باعث ان منصوبوں کی لاگت بڑھ جاتی ہے، انھوں نے کہا پلاننگ ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم ڈویژن کو منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور بہتر نتائج کے لیے نظام میں بہتری لانا ہو گی، تاہم اپنے اس مشورے کی انھوں نے مزید وضاحت نہیں کی کہ نظام میں بہتری کس طرح سے لائی جائے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی، ملتان لاہور موٹروے پراجیکٹ پر تقریباً دو سو ساٹھ ارب روپے کی لاگت آئے گی۔

کراچی، لاہور موٹروے کی لمبائی 960 کلومیٹر بتائی گئی ہے جس کے لیے اراضی کے حصول کے منصوبہ کی بھی منظوری دی گئی' اس پر 51 ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ موٹر وے منصوبوں کی اہمیت اپنی جگہ مگر ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے اراضی کے حصول کا مرحلہ آسان نہیں ہوتا بلکہ کئی مقامات پر اراضی کے با اثر مالکان سرکاری اعمال کے ساتھ مزاحمت بھی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں معاملات عدالتوں میں چلے جاتے ہیں اور منصوبے میں خواہ مخواہ کی تاخیر ہوتی ہے جس سے منصوبے کی لاگت میں تخمینے سے کہیں زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے پھر زمین کے معاوضوں کا تنازعہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر اگر حکومت کو یہ تجویز دی جائے کہ موٹر ویز کے ساتھ ساتھ اگر حکومت ریل ویز کی طرف توجہ دے تو موٹر ویز کی نسبت کہیں کم خرچے اور کہیں کم تردد سے یہ منصوبے مکمل ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے لیے آپ کو نجی اراضی کے حصول کی ضرورت ہی نہیں ہو گی بالخصوص اس وجہ سے کہ ریلوے کی اپنی وسیع اراضی بلا استعمال پڑی ہے نیز انگریز دور کا انفرا سٹرکچر بھی قائم ہے۔

اجلاس میں پُشتوں اور نہروں کے لیے فلڈ ایمرجنسی ری کنسٹرکشن پراجیکٹ کے نظرثانی شدہ پی سی ون پر تقریباً چھبیس ارب روپے کی منظوری دی گئی اور گیارہ ارب روپے کی نظرثانی شدہ لاگت سے ٹھٹھہ اور جامشورو ونڈ پاور پلانٹس کے منصوبے کی بھی منظوری دی۔ جسکے تحت ساڑھے سترہ سو میگاواٹ بجلی حاصل کی جائیگی۔ یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے' اگر یہ مکمل ہو جاتا ہے تو توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں گوادر میں ساڑھے چھ ارب روپے کی لاگت سے فری ٹریڈ زون کے قیام کے لیے اراضی کے حصول کی منظوری دی ہے۔ حسن ابدال حویلیاں ایکسپریس وے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔


اس منصوبے پر ساڑھے تیس ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ اجلاس میں اسلام آباد میں تقریباً چار ارب روپے کی نظرثانی شدہ لاگت سے انفارمیشن ٹیکنالوجی، مینجمنٹ سائنس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔ ایکنک نے وزیر اعظم کی ہونہار نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دینے کے پروگرام کی بھی اصولی منظوری دی جس پر تقریباً پانچ ارب روپے لاگت آئیگی۔ اسکیم کے تحت ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائینگے۔

ایکنک نے تریموں بیراج اور پنجند ہیڈورکس کی بحالی و اپ گریڈیشن کے منصوبے کی بھی منظوری دی جس پر لاگت کا تخمینہ سترہ ارب روپے کے لگ بھگ لگایا گیا ہے اس کے علاوہ مندرہ چکوال روڈ کو دو رویہ کرنے کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکثر منصوبے وقت پر مکمل نہ ہونے کی وجہ سے لاگت میں اضافہ ہوا ہے، ہمیں بہتر نتائج کے لیے نظام میں بہتری لانا ہو گی۔ ایکنک نے بلوچستان کانسٹیبلری منصوبہ کی بھی منظوری دی جس پر پانچ ارب روپے سے زیادہ لاگت آئے گی۔

منصوبے کا مقصد بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی مدد کرنا ہے۔ ایکنک کے اجلاس میں یہ مثبت بات نوٹ کی گئی کہ ترقیاتی منصوبوں میں بلوچستان اور سندھ کا بھی بطور خاص خیال رکھا گیا ہے کیونکہ ان دو صوبوں کو اپنی محرومیوں کا بہت زیادہ احساس ہے۔ بلوچستان میں امن و امان کے لیے چھ ہزار اضافی اہلکار بھرتی کیے جائیں گے۔ اجلاس میں بندوں اور نہروں کے لیے فلڈ ایمرجنسی تعمیر نو منصوبہ کی منظوری دی گئی۔ لیکن کیا یہ منصوبہ آنے والے موسم برسات سے قبل مکمل ہو سکے گا یا اس کی ادھوری تعمیر سیلاب میں ہی بہہ جائے گی اس کے بارے میں کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔

دریائے سندھ کے کناروں کے پشتوں کی لمبائی کو بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس سے سیلاب کے موسم میں ہونے والی تباہ کاریوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ حکومت نے میگا ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر رکھا ہے' اگر حکومت اپنی مقررہ آئینی مدت کے دوران ان منصوبوں کو مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے ملک تعمیر و ترقی کے نئے دور میں داخل ہو جائے گا' بہر حال سوچنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے ملک میں سیاسی استحکام اور امن و امان کی بھی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت کو اپنی توجہ ان ہی امور پر دینا چاہیے۔ اس وقت ملک میں سیاسی عدم اطمینان بھی ہے اور امن و امان کی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ان امور پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ملک میں سیاسی استحکام اور امن و امان ہو گا تو تب ہی ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں گے۔ امید ہے کہ موجودہ جمہوری سیٹ اپ اپنے اندرونی اختلافات کو بھی کم کرے گا اور ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ بھی کرے گا کیونکہ جب تک دہشت گردی ختم نہیں ہوتی' امن قائم نہیں ہو سکتا۔ یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ اگر دہشت گردی ختم نہ ہوئی اور امن قائم نہ ہوا تو پھر سیاسی استحکام بھی پیدا نہ ہو گا اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا اور ترقیاتی منصوبے کاغذوں میں ہی پڑے رہ جائیں گے۔
Load Next Story