کراچی اسٹاک مارکیٹ میں 78 پوائنٹس گرگئے 23 ارب 44 کروڑ کا نقصان

انڈیکس29619، 57.49 فیصد حصص کے بھاؤ نیچے،327 کمپنیوں کا کاروبار، 119 میں اضافہ، 188 کے دام کم

انڈیکس29619، 57.49 فیصد حصص کے بھاؤ نیچے،327 کمپنیوں کا کاروبار، 119 میں اضافہ، 188 کے دام کم۔ فوٹو: آن لائن/فائل

کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو مختصرکاروباری دورانیے میں سرمایہ کاری کے بیشتر شعبوں کی عدم دلچسپی اور حاضری کم ہونے کے سبب اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے جس سے57.49 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے23 ارب44 کروڑ75 لاکھ79 ہزار919 روپے ڈوب گئے۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ فرٹیلائزرسیکٹر پر جی آئی ڈی سی عائد ہونے سے اس شعبے کی منافع بخشی متاثر ہونے کے باعث سرمایہ کار فرٹیلائزر سیکٹر میں مزید سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں جبکہ بیشترشعبوں میں حصص کی آف لوڈنگ کی شدت برقرار رہنے سے مارکیٹ تنزلی کا شکار رہی ہے۔ ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر69.13 پوائنٹس کی تیزی بھی ہوئی لیکن یہ تیزی عارضی ثابت ہوئی۔ کاروباری دورانیے میں غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں اور این بی ایف سیز کی جانب سے مجموعی طور پر26 لاکھ64 ہزار770 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے12 لاکھ56 ہزار 139 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے2 لاکھ68 ہزار354 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے10 لاکھ 15 ہزار883 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے1 لاکھ24 ہزار394 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔


مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس77.95 پوائنٹس کی کمی سے29619.84 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 50.79 پوائنٹس کی کمی سے 20436.22 اور کے ایم آئی30 انڈیکس84.29 پوائنٹس کی کمی سے47908.50 ہوگیا۔

کاروباری حجم جمعرات کی نسبت6.38 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر7 کروڑ 77 لاکھ 6 ہزار890 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار327 کمپنیوں کے حصص پر مشتمل رہا جن میں 119 کے بھاؤ میں اضافہ 188 کے داموں میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں شیزان انٹرنیشنل کے بھاؤ 45.69 روپے بڑھ کر1011.66 روپے اور انڈس موٹرز کے بھاؤ 18.31 روپے بڑھ کر566.27 روپے ہوگئے جبکہ رفحان میظ کے بھاؤ472.50 روپے کم ہوکر11127.50 روپے اور باٹا پاکستان کے بھاؤ78 روپے کم ہوکر3170 روپے ہوگئے۔
Load Next Story