پرانی کاروں کی درآمدبڑھنے سے وینڈرانڈسٹری بحران کاشکار
مقامی گاڑیوں کی فروخت میں کمی ، پرزوں کے آرڈرز نہیں مل رہے، چھانٹیاں شروع
مقامی گاڑیوں کی فروخت میں کمی ، پرزوں کے آرڈرز نہیں مل رہے، چھانٹیاں شروع فوٹو : فائل
مقامی سطح پر تیار کاروں کی فروخت میں کمی کے باعث اوریجنل ایکویپمنٹ مینوفیکچررز کو پرزہ جات فراہم کرنے والی وینڈر انڈسٹری شدید دبائو کا شکار ہے۔
متعدد وینڈرز نے ملازمین کی چھانٹیاں شروع کردی ہیں، استعمال شدہ کاروں کی درآمدی پالیسی میں نرمی کے سبب بڑے پیمانے پر کاروں کی درآمد نے مقامی کار انڈسٹری کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، مقامی سطح پر تیار کاروں کی فروخت میں نمایاں کمی کا سامنا ہے اور کمپنیوں کو پیداواری عمل سست کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
اس صورتحال میں کار کمپنیوں کو پرزہ جات فراہم کرنے والی وینڈر انڈسٹری بھی مسائل سے دوچار ہے۔ آٹو انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق کاریں بنانے والی مقامی کمپنیوں نے وینڈر انڈسٹری کو پرزہ جات کی سپلائی کے آرڈرز میں کمی کردی ہے جس کی وجہ کاروں کی فروخت میں کمی بتائی جاتی ہے۔
وینڈرانڈسٹری کو رواں مالی سال کے آغاز سے ہی پرزہ جات کے آرڈرز میں کمی کا سامنا ہے اور اب تک کوئی قابل ذکر آرڈر موصول نہیں ہوا، جولائی کے دوران کاروں کی فروخت میں 30 فیصد تک کمی کا سامنا کرنا پڑا، شورومز پر نئی کاروں کی بڑی تعداد فروخت کی منتظر ہے۔
انڈس موٹر کمپنی کو فروخت میں کمی کے پیش نظر جولائی اور اگست کے دوران 10روز تک پیداواری عمل بند رکھنا پڑا، اسی کمپنی نے 100فیصد پیشگی ادائیگی کے بجائے محدود ایڈوانس پر کاریں بک کرنے کی بھی سہولت متعارف کرادی، ایک سال کے دوران استعمال شدہ کاروں کی درآمد میں 243فیصد اضاہ ہوا۔
مالی سال 2010-11 کے دوان 16 ہزار کاریں درآمد کی گئی تھیں جبکہ مالی سال 2011-12کے دوران 55ہزار سے زائد کاریں درآمد کی گئیں۔ کاروں کے پرزہ جات بنانے والی مقامی کمپنی اے ون ٹیک کے اطہر اے خان کے مطابق کاروں کی درآمد کیلیے ایج لمٹ 3سال سے بڑھا کر 5سال کیے جانے سے مقامی صنعت پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور کاروں کی لوکلائزیشن میں اضافے کا عمل بھی متاثر ہورہا ہے۔
جس سے پرزہ جات کی صنعت میں روزگار کے مواقع بھی کم ہورہے ہیں۔ سرفہرست وینڈرز میں شامل مہران کمرشل کے محسود خان کے مطابق کاروں کی بڑے پیمانے پر درآمد سے مقامی آٹو انڈسٹری میں 35لاکھ افراد کا روزگار دائو پر لگ گیا ہے۔
دنیا بھر میں مقامی صنعتوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے تاہم پاکستان میں درآمدات کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، انڈسٹری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ درآمدی کاروں کی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے تاکہ مقامی صنعت کو مکمل تباہی سے بچایا جاسکے۔
متعدد وینڈرز نے ملازمین کی چھانٹیاں شروع کردی ہیں، استعمال شدہ کاروں کی درآمدی پالیسی میں نرمی کے سبب بڑے پیمانے پر کاروں کی درآمد نے مقامی کار انڈسٹری کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، مقامی سطح پر تیار کاروں کی فروخت میں نمایاں کمی کا سامنا ہے اور کمپنیوں کو پیداواری عمل سست کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
اس صورتحال میں کار کمپنیوں کو پرزہ جات فراہم کرنے والی وینڈر انڈسٹری بھی مسائل سے دوچار ہے۔ آٹو انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق کاریں بنانے والی مقامی کمپنیوں نے وینڈر انڈسٹری کو پرزہ جات کی سپلائی کے آرڈرز میں کمی کردی ہے جس کی وجہ کاروں کی فروخت میں کمی بتائی جاتی ہے۔
وینڈرانڈسٹری کو رواں مالی سال کے آغاز سے ہی پرزہ جات کے آرڈرز میں کمی کا سامنا ہے اور اب تک کوئی قابل ذکر آرڈر موصول نہیں ہوا، جولائی کے دوران کاروں کی فروخت میں 30 فیصد تک کمی کا سامنا کرنا پڑا، شورومز پر نئی کاروں کی بڑی تعداد فروخت کی منتظر ہے۔
انڈس موٹر کمپنی کو فروخت میں کمی کے پیش نظر جولائی اور اگست کے دوران 10روز تک پیداواری عمل بند رکھنا پڑا، اسی کمپنی نے 100فیصد پیشگی ادائیگی کے بجائے محدود ایڈوانس پر کاریں بک کرنے کی بھی سہولت متعارف کرادی، ایک سال کے دوران استعمال شدہ کاروں کی درآمد میں 243فیصد اضاہ ہوا۔
مالی سال 2010-11 کے دوان 16 ہزار کاریں درآمد کی گئی تھیں جبکہ مالی سال 2011-12کے دوران 55ہزار سے زائد کاریں درآمد کی گئیں۔ کاروں کے پرزہ جات بنانے والی مقامی کمپنی اے ون ٹیک کے اطہر اے خان کے مطابق کاروں کی درآمد کیلیے ایج لمٹ 3سال سے بڑھا کر 5سال کیے جانے سے مقامی صنعت پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور کاروں کی لوکلائزیشن میں اضافے کا عمل بھی متاثر ہورہا ہے۔
جس سے پرزہ جات کی صنعت میں روزگار کے مواقع بھی کم ہورہے ہیں۔ سرفہرست وینڈرز میں شامل مہران کمرشل کے محسود خان کے مطابق کاروں کی بڑے پیمانے پر درآمد سے مقامی آٹو انڈسٹری میں 35لاکھ افراد کا روزگار دائو پر لگ گیا ہے۔
دنیا بھر میں مقامی صنعتوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے تاہم پاکستان میں درآمدات کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، انڈسٹری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ درآمدی کاروں کی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے تاکہ مقامی صنعت کو مکمل تباہی سے بچایا جاسکے۔