گستاخانہ فلم کیخلاف ملک بھر میں مظاہرے توڑ پھوڑ اور لوٹ مار 32افراد ہلاک 200زخمی
کراچی میں اہلکاروں سمیت25 افرادہلاک،2 بکتربند،4موبائلیں،4گاڑیاں،4 بینک،6سینماگھراور2 پولیس چوکیوں سمیت املاک نذرآتش
کراچی میں گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج کے دوران وزیراعلیٰ ہائوس کے قریب نامعلوم مشتعل افراد کے ہاتھوں جلائی جانے والی پولیس موبائلوں سے آگ کے شعلے بلند ہورہے ہیں جبکہ ایک شخص موبائل پر لاٹھی ماررہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
KARACHI:
کراچی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات میں نامعلوم شرپسندوں اور پولیس کے درمیان مسلح تصادم کے باعث اہم اور مصروف شاہراہیں میدان جنگ بنی رہیں۔
مختلف علاقوں میں فائرنگ کے نتیجے میں خاتون، پولیس افسر و اہلکاروں سمیت25 افراد ہلاک جبکہ100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے، شرپسندوںنے2 بکتربند،4موبائلوں سمیت 10 گاڑیوں،4 بینکوں،6 سینما گھروں اور2 پولیس چوکیوں سمیت دیگر املاک کو نذرآتش کردیا، پولیس اور نامعلوم افراد کی جانب سے دوطرفہ فائرنگ سے علاقے فائرنگ سے گونجتے رہے ، مظاہرین کی جانب سے متعدد تھانوں پربھی حملے کیے گئے ۔
تفصیلات کے مطابق جمعے کو کراچی کے مختلف علاقوں سے گستاخانہ فلم کے خلاف نکالی جانے والی احتجاجی ریلیاں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے مائی کلاچی کے قریب قائم امریکی قونصل خانے جانے کے لیے نیٹی جیٹی سے جناح برج پر پہنچیں تو وہاں پر تعینات پولیس کی بھاری نفری نے انھیں آگے جانے سے روک دیا جبکہ انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی کنٹینرز لگاکر راستوں کو سیل کردیا گیا تھا تاہم مظاہرین کی جانب سے امریکی قونصل خانے جا کر اپنی یادداشت پیش کرنے کے لیے جانے کی اجازت مانگی گئی۔
تاہم انھیں جناح برج سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور دوران پولیس کی جانب سے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ شروع کر دی گئی جس کے باعث مظاہرین میں اشتعال پھیل گیا اور ان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا اس دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے لیے شدید ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال شروع کردیا اور کچھ ہی دیر میں نیٹی جیٹی سمیت ملحقہ علاقے میدان جنگ بن گئے اس نیٹی جیٹی اورجناح برج کے علاقے میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے2 پولیس اہلکاروں سمیت10 افراد کی لاشیں سول اسپتال لائی گئیں۔
ہلاک شدگان میں کانسٹیبل 32 سالہ خالد اور زیر تربیت رنگروٹ 30 سالہ طفیل اعوان،16 سالہ محمد حنین ، 35 سالہ سمیر ، 25 سالہ سعید اختر ، 23 سالہ عبدالباسط ، 25 سالہ نوید اور 22 سالہ صباحت اﷲ کے علاوہ 2 نامعلوم افراد شامل ہیں،فائرنگ ، پتھراؤ اور شیل لگنے سے 35 سے زائد زخمیوں کو سول اسپتال لایا گیا جہاں نامعلوم مشتعل افراد نے توڑ پھوڑ اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے عملے کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جس کے باعث سول اسپتال کی ایمرجنسی میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ڈاکٹروں سمیت تمام عملہ جان بچا کر محفوظ مقامات کی جانب نکلنے میں کامیاب ہوگیا جس کے بعد سول اسپتال کی ایمرجنسی پر مشتعل افراد نے اپنا قبضہ جمالیا ، احتجاجی مظاہروں کے دوران قائد آباد پل پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 28 سالہ نور رحمٰن جبکہ 30 سالہ محمد عارف ہلاک ہوگئے۔
مائی کلاچی روڈ پر پولیس کی جانب سے فائر کیا جانے والا شیل سر پر لگنے سے 14 سالہ اجمل شدید زخمی ہوگیا جسے جناح اسپتال لایا گیا جہاں وہ دم توڑ دیا،ہنگامہ آرائی کے دوران فائرنگ سے زخمی ہونے والے 30 سالہ امجد نے بھی جناح اسپتال میں دم توڑ دیا ، ماڑی پور روڈ ابراہیم آرکیڈ کی تیسری منزل پر گیلری میں کھڑی ہوئی 22 سالہ فائزہ امین گولی لگنے سے ہلاک ہوگئی ، آئی سی آئی پل کے قریب فائرنگ سے وسیم وہاب جبکہ محمد خان کے علاوہ ایک نامعلوم شخص ہلاک ہوگیا ، جیکسن کے علاقے تارا چند روڈ غریب شاہ مزار کے قریب مغرب کی نماز پڑھ کر نکلنے والا 18 سالہ محسن بٹ فائرنگ سے ہلاک ہوگیا،جبکہ پرتشدد واقعات میں زخمی ہونے والے 83 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لایا گیا۔
احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان پر براہ راست فائرنگ کی ہے،گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاجی کے دوران ایم ٹی خان روڈ سے بھی مظاہرین نے مائی کلاچی جانے کی کوشش کی جسے وہاں پر تعینات پولیس نے ان کی کوشش ناکام بنا دی اور اس دوران پولیس کی جانب سے شیلنگ ، لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ کی گئی اس موقع پر نامعلوم افراد کی جانب سے بھی پولیس پر فائرنگ کی گئی اور دو طرفہ فائرنگ سے پورا علاقے گونج اٹھا اور اس دوران پی آئی ڈی سی اور سلطان آباد کا علاقہ کسی میدان جنگ سے کم دکھائی نہیں دے رہا تھا ، احتجاجی مظاہرین میں شامل نامعلوم شرپسندوں نے پی آئی ڈی سی چوک کے قریب 3 نجی بینکوں پر دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کی اور لوٹ مار کے بعد نذر آتش کر دیا جس میں ایک بینک مکمل طور پر جبکہ 2 کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔
بعدازاں قریب ہی واقع کھانے پینے اور پان سگریٹ کی دکانوں کو بھی توڑ پھوڑ کے بعد لوٹ لیا اور اس میں موجود قیمتی سامان بھی اپنے ہمراہ لے گئے،ہنگامہ آرائی کے دوران شرپسندوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے والی شارع کو کنٹینر لگا کر حفاظت کے لیے کھڑی کی جانے والی 3 پولیس موبائلوں کو نذر آتش کر دیا جبکہ قریب ہی واقع سرکاری بینک میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اس دوران شرپسندوں نے پی آئی ڈی سی چوک کے قریب ہوٹل کی دکانوں کے شیشے بھی توڑ دیے جبکہ پی آئی ڈی سی چوک قائم ٹریفک پولیس چوکی میں گھس کر شرپسندوں نے توڑ پھوڑ کی اور تمام ریکارڈ اور دیگر اشیا باہر نکال کر اسے نذر آتش کر دیا ، پی آئی ڈی سی چوک سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع رینجرز ہیڈ کوارٹرز کے قریب لوٹ مار ، جلاؤ گھیراؤ اور بدامنی کے بدترین واقعات کے باوجود رینجرز اہلکاروں نے باہر نکل کر صورتحال پر قابو پانے کی زحمت تک گوارا نہیں کی اور ایسا لگتا تھا کہ رینجرز سندھ کو ان تمام صورتحال کو کنٹرول کرنے سے بری الزمہ قرار دیا گیا ہو۔
احتجاجی مظاہروں کے دوران نامعلوم شرپسندوں نے ایم اے جناح روڈ پر بھی شدید ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے املاک کو نقصان پہنچایا اور اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں سے پورا علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا اور شرپسندوں نے 4 سینما گھروں کیپری ، نشاط ، بمبینو اور پرنس میں گھس کر لوٹ مار کے بعد توڑ پھوڑ کی اور انھیں نذر آتش کر دیا اس دوران مشتعل افراد نے قریب ہی واقع ایک نجی بینک پر بھی پتھراؤ کیا اور توڑ پھوڑ کر کے اس کا سامان باہر نکال کر اسے نذر آتش کر دیا ، گستاخانہ فلم کے خلاف جاری احتجاج کے دوران سولجر بازار ، بولٹن مارکیٹ ، لائٹ ہاؤس ، ڈینسو ہال اور کھارادر سمیت ملحقہ علاقوں میں نامعلوم افراد کی جانب سے شدید ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے باعث موقع پر موجود افراد میں بھگدڑ مچ گئی اور خوف و ہراس پھیل گیا۔
ٹاور کے قریب نامعلوم شرپسندوں نے ایدھی ہیڈ آفس کے قریب ایمبولینسوں پر پتھراؤ کر کے متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے جبکہ ٹاؤر پر بھی ایک نجی بینک کو نذر آتش کر دیا اس موقع پر مشتعل افراد نے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع سینٹرل پولیس آفس پر بھی شدید پتھراؤ کیا تاہم قریبی عمارتوں پر قائم پولیس چوکیوں پر تعینات اہلکاروں کی ہوائی فائرنگ کے بعد مشتعل افراد منتشر ہوگئے ، ٹاور کے قریب بھی نامعلوم ملزمان نے ایک گاڑی کو نذر آتش کر دیا،شیریں جناح کالونی میں بھی شرپسندوں نے ایک پولیس چوکی اور موبائل وین کو نذر آتش کر دیا ، قائد آباد میں بھی ہنگامہ آرائی کے دوران نامعلوم شرپسندوں نے گلستان اور نرگس سینما گھروں کو نذر آتش کر دیا۔
مشتعل مظاہرین نے پی آئی ڈی سی کے قریب واقع غیر ملکی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور لوٹ مار کے بعد قیمتی اشیاء لے گئے جبکہ سائٹ کے علاقے سیمنز چورنگی کے قریب غیر ملکی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کو شرپسندوں نے توڑ پھوڑ کے بعد نذر آتش کر دیا ، پی آئی بی کالونی میں شرپسندوں نے ایک نجی بینک میں توڑ پھوڑ کے بعد اسے نذر آتش کردیا، کھارادر اور لی مارکیٹ کے قریب نامعلوم شرپسندوں نے 2 بکتر بندوں کو بھی نذر آتش کر دیا جبکہ کھارادر کے قریب ایک پولیس چوکی کو بھی نذر آتش کر دیا گیا جہاں ایف سی اہلکار تعینات تھے ، شہر میں ہنگامہ آرائی کے دوران نامعلوم شرپسندوں نے قائد آباد کے قریب کوچ ، شارع فیصل گورا قبرستان کے قریب ایک کار ، پرانی سبزی منڈی کے قریب ایک بس کو نذر آتش کر دیا۔
ماڑی پور روڈ پر واقع کراؤن سینما کو بھی مشتعل افراد نے نذر آتش کرنے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی گارڈز اور دیگر افراد نے شدید فائرنگ کر کے ان کی کوشش کو ناکام بنا دیا ، احتجاج کے دوران نامعلوم افراد نے گھاس منڈی اور کورنگی میں واقع شراب خانوں کو بھی توڑ پھوڑ کے بعد نذر آتش کر دیا جبکہ کیماڑی کے علاقے گھاس بندر کے قریب اسلحہ کی دکان کو بھی لوٹ مار کے بعد آگ لگا دی،درجنوں مشتعل افراد نے جیکسن تھانے پر بھی حملہ کر دیا جس کے باعث تھانے میں موجود عملے میں بھگدڑ مچ گئی تاہم انھوں نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شدید ہوائی فائرنگ کر کے مشتعل افراد کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ، منگھوپیر کے علاقے میں بھی احتجاجی ریلی کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی اور پولیس کی فائرنگ سے ریلی میں شریک 5 بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
بعدازاں نامعلوم افراد نے منگھوپیر تھانے کا گھیراؤ کر کے مورچہ بند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں منگھوپیر ٹریفک سیکشن کا سب انسپکٹر الیاس کمال ہلاک ہوگیا، شہر کے مختلف علاقوں میں آتشزدگی کے اطلاعات پر روانہ ہونے والی فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر مشتعل افراد نے پتھراؤ کر کے واپس جانے پر مجبور کر دیا اور جبکہ 6 سے زائد فائر مین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ جیکسن کے علاقے گلشن سکندر آباد سے نکلنے والی ریلی میں پولیس اور نامعلوم افراد کی فائرنگ کی زد میں آکر 30 سالہ قاری خالد ، 25 سالہ کاشف ، عبد الغفار اور اصغر خان زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے ضیاء الدین کلفٹن لے جایا گیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔
تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان جمال صدیقی نے ایکسپریس کو بتایا کہ جاں بحق ہونے والے قاری خالد کیماڑی گلشن سکندر آباد کے رہائشی اور ان سلطان آباد یوسی2 کے جوائنٹ سیکریٹری تھے ،جبکہ کاشف کیماڑی گلشن سکندر آباد اور عبد الغفار کیماڑی اشفاق کالونی سبحان اﷲ مسجد کے قریب کے رہائشی اور تحریک انصاف کے سرگرم کارکن تھے جبکہ جاں بحق ہونے والا اصغر خان گلشن سکندر آباد کا رہائشی اور مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ کا کارکن تھا۔جمعے کوشہر میں تمام سرکاری ونیم سرکاری ادارے بشمول تعلیمی ادارے بند تھے جبکہ ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ وصنعتی وتجارتی ادارے اور بازار چھوٹی بڑی تمام مارکیٹوں سمیت گلیوں اور محلوں کی دکانیں بھی بند تھیں۔
کراچی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات میں نامعلوم شرپسندوں اور پولیس کے درمیان مسلح تصادم کے باعث اہم اور مصروف شاہراہیں میدان جنگ بنی رہیں۔
مختلف علاقوں میں فائرنگ کے نتیجے میں خاتون، پولیس افسر و اہلکاروں سمیت25 افراد ہلاک جبکہ100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے، شرپسندوںنے2 بکتربند،4موبائلوں سمیت 10 گاڑیوں،4 بینکوں،6 سینما گھروں اور2 پولیس چوکیوں سمیت دیگر املاک کو نذرآتش کردیا، پولیس اور نامعلوم افراد کی جانب سے دوطرفہ فائرنگ سے علاقے فائرنگ سے گونجتے رہے ، مظاہرین کی جانب سے متعدد تھانوں پربھی حملے کیے گئے ۔
تفصیلات کے مطابق جمعے کو کراچی کے مختلف علاقوں سے گستاخانہ فلم کے خلاف نکالی جانے والی احتجاجی ریلیاں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے مائی کلاچی کے قریب قائم امریکی قونصل خانے جانے کے لیے نیٹی جیٹی سے جناح برج پر پہنچیں تو وہاں پر تعینات پولیس کی بھاری نفری نے انھیں آگے جانے سے روک دیا جبکہ انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی کنٹینرز لگاکر راستوں کو سیل کردیا گیا تھا تاہم مظاہرین کی جانب سے امریکی قونصل خانے جا کر اپنی یادداشت پیش کرنے کے لیے جانے کی اجازت مانگی گئی۔
تاہم انھیں جناح برج سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور دوران پولیس کی جانب سے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ شروع کر دی گئی جس کے باعث مظاہرین میں اشتعال پھیل گیا اور ان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا اس دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے لیے شدید ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال شروع کردیا اور کچھ ہی دیر میں نیٹی جیٹی سمیت ملحقہ علاقے میدان جنگ بن گئے اس نیٹی جیٹی اورجناح برج کے علاقے میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے2 پولیس اہلکاروں سمیت10 افراد کی لاشیں سول اسپتال لائی گئیں۔
ہلاک شدگان میں کانسٹیبل 32 سالہ خالد اور زیر تربیت رنگروٹ 30 سالہ طفیل اعوان،16 سالہ محمد حنین ، 35 سالہ سمیر ، 25 سالہ سعید اختر ، 23 سالہ عبدالباسط ، 25 سالہ نوید اور 22 سالہ صباحت اﷲ کے علاوہ 2 نامعلوم افراد شامل ہیں،فائرنگ ، پتھراؤ اور شیل لگنے سے 35 سے زائد زخمیوں کو سول اسپتال لایا گیا جہاں نامعلوم مشتعل افراد نے توڑ پھوڑ اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے عملے کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جس کے باعث سول اسپتال کی ایمرجنسی میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ڈاکٹروں سمیت تمام عملہ جان بچا کر محفوظ مقامات کی جانب نکلنے میں کامیاب ہوگیا جس کے بعد سول اسپتال کی ایمرجنسی پر مشتعل افراد نے اپنا قبضہ جمالیا ، احتجاجی مظاہروں کے دوران قائد آباد پل پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 28 سالہ نور رحمٰن جبکہ 30 سالہ محمد عارف ہلاک ہوگئے۔
مائی کلاچی روڈ پر پولیس کی جانب سے فائر کیا جانے والا شیل سر پر لگنے سے 14 سالہ اجمل شدید زخمی ہوگیا جسے جناح اسپتال لایا گیا جہاں وہ دم توڑ دیا،ہنگامہ آرائی کے دوران فائرنگ سے زخمی ہونے والے 30 سالہ امجد نے بھی جناح اسپتال میں دم توڑ دیا ، ماڑی پور روڈ ابراہیم آرکیڈ کی تیسری منزل پر گیلری میں کھڑی ہوئی 22 سالہ فائزہ امین گولی لگنے سے ہلاک ہوگئی ، آئی سی آئی پل کے قریب فائرنگ سے وسیم وہاب جبکہ محمد خان کے علاوہ ایک نامعلوم شخص ہلاک ہوگیا ، جیکسن کے علاقے تارا چند روڈ غریب شاہ مزار کے قریب مغرب کی نماز پڑھ کر نکلنے والا 18 سالہ محسن بٹ فائرنگ سے ہلاک ہوگیا،جبکہ پرتشدد واقعات میں زخمی ہونے والے 83 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لایا گیا۔
احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان پر براہ راست فائرنگ کی ہے،گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاجی کے دوران ایم ٹی خان روڈ سے بھی مظاہرین نے مائی کلاچی جانے کی کوشش کی جسے وہاں پر تعینات پولیس نے ان کی کوشش ناکام بنا دی اور اس دوران پولیس کی جانب سے شیلنگ ، لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ کی گئی اس موقع پر نامعلوم افراد کی جانب سے بھی پولیس پر فائرنگ کی گئی اور دو طرفہ فائرنگ سے پورا علاقے گونج اٹھا اور اس دوران پی آئی ڈی سی اور سلطان آباد کا علاقہ کسی میدان جنگ سے کم دکھائی نہیں دے رہا تھا ، احتجاجی مظاہرین میں شامل نامعلوم شرپسندوں نے پی آئی ڈی سی چوک کے قریب 3 نجی بینکوں پر دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کی اور لوٹ مار کے بعد نذر آتش کر دیا جس میں ایک بینک مکمل طور پر جبکہ 2 کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔
بعدازاں قریب ہی واقع کھانے پینے اور پان سگریٹ کی دکانوں کو بھی توڑ پھوڑ کے بعد لوٹ لیا اور اس میں موجود قیمتی سامان بھی اپنے ہمراہ لے گئے،ہنگامہ آرائی کے دوران شرپسندوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے والی شارع کو کنٹینر لگا کر حفاظت کے لیے کھڑی کی جانے والی 3 پولیس موبائلوں کو نذر آتش کر دیا جبکہ قریب ہی واقع سرکاری بینک میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اس دوران شرپسندوں نے پی آئی ڈی سی چوک کے قریب ہوٹل کی دکانوں کے شیشے بھی توڑ دیے جبکہ پی آئی ڈی سی چوک قائم ٹریفک پولیس چوکی میں گھس کر شرپسندوں نے توڑ پھوڑ کی اور تمام ریکارڈ اور دیگر اشیا باہر نکال کر اسے نذر آتش کر دیا ، پی آئی ڈی سی چوک سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع رینجرز ہیڈ کوارٹرز کے قریب لوٹ مار ، جلاؤ گھیراؤ اور بدامنی کے بدترین واقعات کے باوجود رینجرز اہلکاروں نے باہر نکل کر صورتحال پر قابو پانے کی زحمت تک گوارا نہیں کی اور ایسا لگتا تھا کہ رینجرز سندھ کو ان تمام صورتحال کو کنٹرول کرنے سے بری الزمہ قرار دیا گیا ہو۔
احتجاجی مظاہروں کے دوران نامعلوم شرپسندوں نے ایم اے جناح روڈ پر بھی شدید ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے املاک کو نقصان پہنچایا اور اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں سے پورا علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا اور شرپسندوں نے 4 سینما گھروں کیپری ، نشاط ، بمبینو اور پرنس میں گھس کر لوٹ مار کے بعد توڑ پھوڑ کی اور انھیں نذر آتش کر دیا اس دوران مشتعل افراد نے قریب ہی واقع ایک نجی بینک پر بھی پتھراؤ کیا اور توڑ پھوڑ کر کے اس کا سامان باہر نکال کر اسے نذر آتش کر دیا ، گستاخانہ فلم کے خلاف جاری احتجاج کے دوران سولجر بازار ، بولٹن مارکیٹ ، لائٹ ہاؤس ، ڈینسو ہال اور کھارادر سمیت ملحقہ علاقوں میں نامعلوم افراد کی جانب سے شدید ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے باعث موقع پر موجود افراد میں بھگدڑ مچ گئی اور خوف و ہراس پھیل گیا۔
ٹاور کے قریب نامعلوم شرپسندوں نے ایدھی ہیڈ آفس کے قریب ایمبولینسوں پر پتھراؤ کر کے متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے جبکہ ٹاؤر پر بھی ایک نجی بینک کو نذر آتش کر دیا اس موقع پر مشتعل افراد نے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع سینٹرل پولیس آفس پر بھی شدید پتھراؤ کیا تاہم قریبی عمارتوں پر قائم پولیس چوکیوں پر تعینات اہلکاروں کی ہوائی فائرنگ کے بعد مشتعل افراد منتشر ہوگئے ، ٹاور کے قریب بھی نامعلوم ملزمان نے ایک گاڑی کو نذر آتش کر دیا،شیریں جناح کالونی میں بھی شرپسندوں نے ایک پولیس چوکی اور موبائل وین کو نذر آتش کر دیا ، قائد آباد میں بھی ہنگامہ آرائی کے دوران نامعلوم شرپسندوں نے گلستان اور نرگس سینما گھروں کو نذر آتش کر دیا۔
مشتعل مظاہرین نے پی آئی ڈی سی کے قریب واقع غیر ملکی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور لوٹ مار کے بعد قیمتی اشیاء لے گئے جبکہ سائٹ کے علاقے سیمنز چورنگی کے قریب غیر ملکی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کو شرپسندوں نے توڑ پھوڑ کے بعد نذر آتش کر دیا ، پی آئی بی کالونی میں شرپسندوں نے ایک نجی بینک میں توڑ پھوڑ کے بعد اسے نذر آتش کردیا، کھارادر اور لی مارکیٹ کے قریب نامعلوم شرپسندوں نے 2 بکتر بندوں کو بھی نذر آتش کر دیا جبکہ کھارادر کے قریب ایک پولیس چوکی کو بھی نذر آتش کر دیا گیا جہاں ایف سی اہلکار تعینات تھے ، شہر میں ہنگامہ آرائی کے دوران نامعلوم شرپسندوں نے قائد آباد کے قریب کوچ ، شارع فیصل گورا قبرستان کے قریب ایک کار ، پرانی سبزی منڈی کے قریب ایک بس کو نذر آتش کر دیا۔
ماڑی پور روڈ پر واقع کراؤن سینما کو بھی مشتعل افراد نے نذر آتش کرنے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی گارڈز اور دیگر افراد نے شدید فائرنگ کر کے ان کی کوشش کو ناکام بنا دیا ، احتجاج کے دوران نامعلوم افراد نے گھاس منڈی اور کورنگی میں واقع شراب خانوں کو بھی توڑ پھوڑ کے بعد نذر آتش کر دیا جبکہ کیماڑی کے علاقے گھاس بندر کے قریب اسلحہ کی دکان کو بھی لوٹ مار کے بعد آگ لگا دی،درجنوں مشتعل افراد نے جیکسن تھانے پر بھی حملہ کر دیا جس کے باعث تھانے میں موجود عملے میں بھگدڑ مچ گئی تاہم انھوں نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شدید ہوائی فائرنگ کر کے مشتعل افراد کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ، منگھوپیر کے علاقے میں بھی احتجاجی ریلی کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی اور پولیس کی فائرنگ سے ریلی میں شریک 5 بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
بعدازاں نامعلوم افراد نے منگھوپیر تھانے کا گھیراؤ کر کے مورچہ بند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں منگھوپیر ٹریفک سیکشن کا سب انسپکٹر الیاس کمال ہلاک ہوگیا، شہر کے مختلف علاقوں میں آتشزدگی کے اطلاعات پر روانہ ہونے والی فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر مشتعل افراد نے پتھراؤ کر کے واپس جانے پر مجبور کر دیا اور جبکہ 6 سے زائد فائر مین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ جیکسن کے علاقے گلشن سکندر آباد سے نکلنے والی ریلی میں پولیس اور نامعلوم افراد کی فائرنگ کی زد میں آکر 30 سالہ قاری خالد ، 25 سالہ کاشف ، عبد الغفار اور اصغر خان زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے ضیاء الدین کلفٹن لے جایا گیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔
تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان جمال صدیقی نے ایکسپریس کو بتایا کہ جاں بحق ہونے والے قاری خالد کیماڑی گلشن سکندر آباد کے رہائشی اور ان سلطان آباد یوسی2 کے جوائنٹ سیکریٹری تھے ،جبکہ کاشف کیماڑی گلشن سکندر آباد اور عبد الغفار کیماڑی اشفاق کالونی سبحان اﷲ مسجد کے قریب کے رہائشی اور تحریک انصاف کے سرگرم کارکن تھے جبکہ جاں بحق ہونے والا اصغر خان گلشن سکندر آباد کا رہائشی اور مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ کا کارکن تھا۔جمعے کوشہر میں تمام سرکاری ونیم سرکاری ادارے بشمول تعلیمی ادارے بند تھے جبکہ ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ وصنعتی وتجارتی ادارے اور بازار چھوٹی بڑی تمام مارکیٹوں سمیت گلیوں اور محلوں کی دکانیں بھی بند تھیں۔