کراچی میں پولیس کی کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آئی
نامعلوم افراد اطمینان کے ساتھ دفاترکے شیشے توڑکر قیمتی سامان لوٹ کرفرار ہوتے رہے
نامعلوم افراد اطمینان کے ساتھ دفاترکے شیشے توڑکر قیمتی سامان لوٹ کرفرار ہوتے رہے۔ فوٹو: سمرا آمر/فائل
کراچی جمعے کو دن بھر پرتشدد واقعات کی زدمیں رہا، املاک لوٹی اورعمارات نذرآتش کی جاتی رہیں۔
لیکن پولیس کی جانب سے اس قسم کے واقعات کے سدباب یا ان پر قابو پانے کیلیے کسی بھی قسم کی حکمت عملی سامنے نہیں آئی،یوں لگتا تھاکہ شہرکو نامعلوم شرپسند عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑدیاگیا ہے،اعلیٰ پولیس افسران کی روایتی بے حسی بھرپور طریقے سے برقرار رہی ، سڑکوں پر مظاہرین کا سامنا کرنے کیلیے ٹریننگ سینٹروں سے بلائے گئے زیر تربیت اہلکاروں کو علی الصبح سے ہی تعینات کردیا گیا لیکن اس کے بعد ان سے رابطہ تک نہ کیا گیا کہ ان کی کیا پوزیشن ہے ، اعلیٰ افسران نے شہر کے کسی بھی مقام پر موجود اپنے جوانوں سے صورتحال معلوم کرنے تک گوارا نہ کیا۔
متعدد مقامات پر پولیس کے سپاہی بلوائیوں کے نرغے میں پھنسے رہے ، نیٹی جیٹی پل اور پی آئی ڈی سی سب سے زیادہ متاثرہ علاقے تھے ، پی آئی ڈی سی پر بینک ، دفاتر ، دکانیں اور دیگر عمارات لوٹی جاتی رہیں اور انھیں نذر آتش کرنے کا سلسلہ جاری رہا،مقامی ہوٹلوں کے شورومز کے شیشے توڑ دیے گئے جبکہ3 پولیس موبائلیں نذرآتش کی گئیں لیکن اس دوران پولیس کی عملداری یا کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آسکی ، پی آئی ڈی سی پر موجود چند اہلکار ہی مجمع کو منتشر کرنے کی اپنی سی کوششیں کرتے رہے لیکن اعلیٰ افسران نے وہاں مزید کمک بھیجنا گوارا نہ کی ، بالآخر چند جوان بھی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل ختم ہوجانے پر پسپا ہوگئے اور پی آئی ڈی سی چوک پر کئی گھنٹے تک نامعلوم شرپسند عناصر کا قبضہ رہا ، نامعلوم افراد اطمینان کے ساتھ دفاتر کے شیشے توڑ کر ان میں موجود قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوتے رہے ۔
لیکن پولیس کی جانب سے اس قسم کے واقعات کے سدباب یا ان پر قابو پانے کیلیے کسی بھی قسم کی حکمت عملی سامنے نہیں آئی،یوں لگتا تھاکہ شہرکو نامعلوم شرپسند عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑدیاگیا ہے،اعلیٰ پولیس افسران کی روایتی بے حسی بھرپور طریقے سے برقرار رہی ، سڑکوں پر مظاہرین کا سامنا کرنے کیلیے ٹریننگ سینٹروں سے بلائے گئے زیر تربیت اہلکاروں کو علی الصبح سے ہی تعینات کردیا گیا لیکن اس کے بعد ان سے رابطہ تک نہ کیا گیا کہ ان کی کیا پوزیشن ہے ، اعلیٰ افسران نے شہر کے کسی بھی مقام پر موجود اپنے جوانوں سے صورتحال معلوم کرنے تک گوارا نہ کیا۔
متعدد مقامات پر پولیس کے سپاہی بلوائیوں کے نرغے میں پھنسے رہے ، نیٹی جیٹی پل اور پی آئی ڈی سی سب سے زیادہ متاثرہ علاقے تھے ، پی آئی ڈی سی پر بینک ، دفاتر ، دکانیں اور دیگر عمارات لوٹی جاتی رہیں اور انھیں نذر آتش کرنے کا سلسلہ جاری رہا،مقامی ہوٹلوں کے شورومز کے شیشے توڑ دیے گئے جبکہ3 پولیس موبائلیں نذرآتش کی گئیں لیکن اس دوران پولیس کی عملداری یا کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آسکی ، پی آئی ڈی سی پر موجود چند اہلکار ہی مجمع کو منتشر کرنے کی اپنی سی کوششیں کرتے رہے لیکن اعلیٰ افسران نے وہاں مزید کمک بھیجنا گوارا نہ کی ، بالآخر چند جوان بھی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل ختم ہوجانے پر پسپا ہوگئے اور پی آئی ڈی سی چوک پر کئی گھنٹے تک نامعلوم شرپسند عناصر کا قبضہ رہا ، نامعلوم افراد اطمینان کے ساتھ دفاتر کے شیشے توڑ کر ان میں موجود قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوتے رہے ۔