امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ میں طلبی گستاخانہ فلم پر شدید احتجاج

یوٹیوب سے ہٹایاجائے،فلم عالمی امن کے خلاف منظم سازش اور بدنیتی پرمبنی ہے، امریکا مصنف کے خلاف کارروائی کرے، دفتر خارجہ

یوٹیوب سے ہٹایاجائے،فلم عالمی امن کے خلاف منظم سازش اور بدنیتی پرمبنی ہے، امریکا مصنف کے خلاف کارروائی کرے، دفتر خارجہ ، فوٹو: فائل

KARACHI/HYDERABAD/DADU:
حکومت پاکستان نے امریکی ناظم الامور رچرڈ ہوگلینڈ کو دفترخارجہ طلب کرکے گستاخانہ امریکی فلم پر اپنا احتجاج باضابطہ طور پر ریکارڈ کرادیا ہے۔


امریکی قائم مقام سفیرکو اس گستاخانہ فلم کے خلاف حکومت اور عوام کے جذبات سے آگاہ کیا گیا اور انھیں احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا،دفترخارجہ کے حکام نے توہین آمیز فلم پر شدید احتجاج کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور کو باور کرایا کہ یہ گستاخانہ فلم عالمی امن کے خلاف منظم سازش ہے، پاکستان نے امریکی حکومت سے یوٹیوب پر توہین آمیز وڈیو ہٹانے کیلیے فوری اقدامات اور اس کے مصنف کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، امریکی ناظم الامور کو بتایا گیا کہ یہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر حملہ اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان نفرت اور تشدد پھیلانے کی مذموم کوشش ہے، انھیں یاد دلایا گیا کہ تمام مذاہب کو مذھبی ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ، مذاہب کے درمیان دانستہ نفرت پھیلانا انسانیت پر حملہ ہے ۔ بی بی سی نے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے حوالے سے کہا کہ فلم ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر حملے کے مترادف ہے۔

یہ فلم بدنیتی پر مبنی ہے اور اس کا مقصد تشدد کے جذبات ابھارنا ہے اور یہ مختلف مذاہب کے درمیان نفرت پھیلانے کی سازش ہے۔ آئی این پی کے مطابق حکومت پاکستان کی طرف سے قائم مقام امریکی سفیر کو بتایا گیا کہ آزادی اظہار کے نام پر کسی کو بھی کسی مذہب یا ایسی شخصیت جس سے اربوں لوگوں کا روحانی تعلق ہے ،کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس موقع پر امریکی قائم مقام سفیر نے کہا کہ امریکی حکومت کا فلم کے مواد سے کوئی تعلق نہیں،وہ پہلے ہی فلم کے مواد کی شدید مذمت کرچکی ہے، یہ اقدام فرد واحد کا نفرت پھیلانے کیلیے انتہائی غیرذمے دارانہ فعل ہے، امریکی حکومت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتی ہے۔ انھوں نے اپنی حکومت کے ساتھ امریکی قیادت کے موقف کا اعادہ کیا کہ وہ اس وڈیو کی شدید مذمت کرتے ہیںاور امریکی عوام کی بڑی اکثریت نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔
Load Next Story