برما میں مسلم کش فسادات
ایک مسلمان نوجوان کو جمعرات کی صبح جب وہ نماز فجر کے لیے جا رہا تھا، ہجوم نے مار مار کر ہلاک کر دیا
کشیدگی کے بڑھنے پر بہت سے مسلمان اپنا علاقہ چھوڑ کر دیگر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو گئے،فوٹو:فائل
لاہور:
میانمار (برما) میں اس ہفتہ کے آغاز میں فسادات ہوئے جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے، جمعہ کے دن بدھ مت کے پرامن مذہب کو ماننے والوں نے تلواریں، خنجر، بھالے اور ڈنڈے نکال کر مسلمانوں کی بستی کو گھیر لیا۔ یہ واقعہ برما کے دوسرے بڑے شہر منڈالے میں پیش آیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق منڈالے میں جمعہ کو تین سو سے زائد بودھ نوجوان موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر شہر میں چکر لگاتے اور مسلمانوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق دو روز قبل ایک بودھ مت کے ماننے والے شخص کو خنجر مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، اس کا شبہ مسلمانوں پر ظاہر کیا گیا۔ اس کے جنازے میں شریک نوجوان نعرے لگا رہے تھے کہ ہم تمام مسلمانوں کو ختم کر دیں گے۔
ایک مسلمان نوجوان کو جمعرات کی صبح جب وہ نماز فجر کے لیے جا رہا تھا، ہجوم نے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ پولیس نے مسلمانوں کے علاقے کی حفاظت کے لیے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں تاہم موٹرسائیکل سوار بودھوں سے اسلحہ نہیں لے رہی تھی۔ کشیدگی کے بڑھنے پر بہت سے مسلمان اپنا علاقہ چھوڑ کر دیگر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو گئے اور کئی لوگ شہر چھوڑ گئے ہیں۔ جمعہ کے دن بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ بودھوں کی طرف سے ایک مسلمان نوجوان پر ایک بودھ عورت سے زیادتی کا الزام بھی لگایا گیا ہے تاکہ بودھوں کو مسلمانوں کے خلاف زیادہ مشتعل کیا جا سکے۔یوں دیکھا جائے تو شرپسند گروہ مسلمانوں کے خلاف بودھ مت کے پیروکاروں کو اشتعال دلا رہا ہے۔
برما میں جون 2012ء میں مسلمانوں کے خلاف گھیراؤ جلاؤ کی مہم شروع ہوئی تھی، اس مہم میں ڈھائی سو افراد مارے گئے جب کہ ڈیڑھ لاکھ بے گھر ہوگئے لیکن برما کی حکومت نے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے خاطرخوا انتظامات نہیں کیے، اب منڈالے میں بھی صورت حال کشیدہ ہے۔ میانمار میں مسلمانوں پر خاصا ظلم ہو رہا ہے مگر مسلمان ملکوں کی طرف سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی۔ عالم اسلام کو چاہیے کہ وہ برما میں مسلمانوں کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھائے۔
میانمار (برما) میں اس ہفتہ کے آغاز میں فسادات ہوئے جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے، جمعہ کے دن بدھ مت کے پرامن مذہب کو ماننے والوں نے تلواریں، خنجر، بھالے اور ڈنڈے نکال کر مسلمانوں کی بستی کو گھیر لیا۔ یہ واقعہ برما کے دوسرے بڑے شہر منڈالے میں پیش آیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق منڈالے میں جمعہ کو تین سو سے زائد بودھ نوجوان موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر شہر میں چکر لگاتے اور مسلمانوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق دو روز قبل ایک بودھ مت کے ماننے والے شخص کو خنجر مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، اس کا شبہ مسلمانوں پر ظاہر کیا گیا۔ اس کے جنازے میں شریک نوجوان نعرے لگا رہے تھے کہ ہم تمام مسلمانوں کو ختم کر دیں گے۔
ایک مسلمان نوجوان کو جمعرات کی صبح جب وہ نماز فجر کے لیے جا رہا تھا، ہجوم نے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ پولیس نے مسلمانوں کے علاقے کی حفاظت کے لیے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں تاہم موٹرسائیکل سوار بودھوں سے اسلحہ نہیں لے رہی تھی۔ کشیدگی کے بڑھنے پر بہت سے مسلمان اپنا علاقہ چھوڑ کر دیگر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو گئے اور کئی لوگ شہر چھوڑ گئے ہیں۔ جمعہ کے دن بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ بودھوں کی طرف سے ایک مسلمان نوجوان پر ایک بودھ عورت سے زیادتی کا الزام بھی لگایا گیا ہے تاکہ بودھوں کو مسلمانوں کے خلاف زیادہ مشتعل کیا جا سکے۔یوں دیکھا جائے تو شرپسند گروہ مسلمانوں کے خلاف بودھ مت کے پیروکاروں کو اشتعال دلا رہا ہے۔
برما میں جون 2012ء میں مسلمانوں کے خلاف گھیراؤ جلاؤ کی مہم شروع ہوئی تھی، اس مہم میں ڈھائی سو افراد مارے گئے جب کہ ڈیڑھ لاکھ بے گھر ہوگئے لیکن برما کی حکومت نے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے خاطرخوا انتظامات نہیں کیے، اب منڈالے میں بھی صورت حال کشیدہ ہے۔ میانمار میں مسلمانوں پر خاصا ظلم ہو رہا ہے مگر مسلمان ملکوں کی طرف سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی۔ عالم اسلام کو چاہیے کہ وہ برما میں مسلمانوں کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھائے۔