پرتشددواقعات اورلوٹ مارشہرجلتارہارینجرزغائب رہی
رینجرزہیڈکوارٹرکے قریب بینک،ریسٹورنٹ،پولیس موبائلیں جلیں،اہلکارتماشادیکھتے رہے
رینجرزہیڈکوارٹرکے قریب بینک،ریسٹورنٹ،پولیس موبائلیں جلیں،اہلکارتماشادیکھتے رہے : فوٹو : ایکسپریس
کراچی میں بدترین بدنظمی، لوٹ مار،پرتشددواقعات کے دوران رینجرزگدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوگئی۔
رینجرز ہیڈکوارٹرسے صرف چند قدم کے فاصلے پرامریکی قونصل خانے جانے کی کوشش پرپولیس ومسلح احتجاجی مظاہرین میں شدیدفائرنگ کے تبادلے اوراس کے بعد مظاہرین کی جانب سے پولیس موبائلز،نجی بینک اورریسٹورنٹس جلادیے گئے لیکن رینجر ز اہلکارتماشادیکھتے رہے۔ گستاخانہ فلم کیخلاف احتجاج کے دوران شرپسندعناصر کی جانب سے بڑے پیمانے پر ملاک کونقصان پہنچایا ،ایم اے جناح روڈ سمیت شہر کے متعددمقامات پر شرپسند عناصرنے سینماگھروں کونذر آتش کیا،پورے دن شہرمیں لوٹ مارکاسلسلہ جاری رہا،سڑکوں پر دکھائی دینے والی گاڑیوں پرپتھرائوکیاگیا۔
پولیس کی ساری توجہ امریکی قونصل خانے جانیوالے راستوں پرمرکوز تھی تاہم دیگرمقامات پرقانون نافذ کرنیوالے ادارے موجودہی نہیں تھے،ایسالگتاتھاکہ شہریوں کوشرپسندعناصرکے رحم و کرم پرچھوڑ دیاگیاہے،رینجرز اہلکار سارا دن جاری رہنے والے پرتشدد واقعات کے دوران کہیں دکھائی نہیں دیے،ایسا لگتا تھاکہ شہر کی سیکیورٹی کی ذمے دارصرف پولیس ہے اورپولیس کی ذمے داری بھی صرف امریکی قونصل خانے کی حفاظت تک محدودہے ۔
نمازجمعہ کے بعد جب احتجاجی مظاہروں نے انتہائی شدت آگئی اورمسلح مظاہرین نے پی آئی ڈی سی پل کے قریب سے امریکی قونصل خانے جانے کی کوشش کی تو پولیس اورمظاہرین کے درمیان شدید فائرنگ کاتبادلہ ہوا، مظاہرین نے3 پولیس موبائلوں سمیت قریب واقع بینکس اورریسٹورنٹس کونذرآتش کر دیاتاہم رینجرز ہیڈکوارٹر صرف چندقدم کے فاصلے پر موجود ہونے کے باوجودرینجرزپولیس کی مددکیلیے نہیں آئی۔واضح رہے کہ رینجرز کے اخراجات کے لیے ہرسال سندھ حکومت بجٹ میں اربوں روپے مختص کرتی ہے اور شہرکی انتہائی قیمتی اراضی پررینجرزکے دفاترفراہم کیے گئے ہیں جبکہ رینجرزکی کالونی کے قیام کیلیے سندھ حکومت نے حال ہی میں زمین بھی الاٹ کی ہے۔
رینجرز ہیڈکوارٹرسے صرف چند قدم کے فاصلے پرامریکی قونصل خانے جانے کی کوشش پرپولیس ومسلح احتجاجی مظاہرین میں شدیدفائرنگ کے تبادلے اوراس کے بعد مظاہرین کی جانب سے پولیس موبائلز،نجی بینک اورریسٹورنٹس جلادیے گئے لیکن رینجر ز اہلکارتماشادیکھتے رہے۔ گستاخانہ فلم کیخلاف احتجاج کے دوران شرپسندعناصر کی جانب سے بڑے پیمانے پر ملاک کونقصان پہنچایا ،ایم اے جناح روڈ سمیت شہر کے متعددمقامات پر شرپسند عناصرنے سینماگھروں کونذر آتش کیا،پورے دن شہرمیں لوٹ مارکاسلسلہ جاری رہا،سڑکوں پر دکھائی دینے والی گاڑیوں پرپتھرائوکیاگیا۔
پولیس کی ساری توجہ امریکی قونصل خانے جانیوالے راستوں پرمرکوز تھی تاہم دیگرمقامات پرقانون نافذ کرنیوالے ادارے موجودہی نہیں تھے،ایسالگتاتھاکہ شہریوں کوشرپسندعناصرکے رحم و کرم پرچھوڑ دیاگیاہے،رینجرز اہلکار سارا دن جاری رہنے والے پرتشدد واقعات کے دوران کہیں دکھائی نہیں دیے،ایسا لگتا تھاکہ شہر کی سیکیورٹی کی ذمے دارصرف پولیس ہے اورپولیس کی ذمے داری بھی صرف امریکی قونصل خانے کی حفاظت تک محدودہے ۔
نمازجمعہ کے بعد جب احتجاجی مظاہروں نے انتہائی شدت آگئی اورمسلح مظاہرین نے پی آئی ڈی سی پل کے قریب سے امریکی قونصل خانے جانے کی کوشش کی تو پولیس اورمظاہرین کے درمیان شدید فائرنگ کاتبادلہ ہوا، مظاہرین نے3 پولیس موبائلوں سمیت قریب واقع بینکس اورریسٹورنٹس کونذرآتش کر دیاتاہم رینجرز ہیڈکوارٹر صرف چندقدم کے فاصلے پر موجود ہونے کے باوجودرینجرزپولیس کی مددکیلیے نہیں آئی۔واضح رہے کہ رینجرز کے اخراجات کے لیے ہرسال سندھ حکومت بجٹ میں اربوں روپے مختص کرتی ہے اور شہرکی انتہائی قیمتی اراضی پررینجرزکے دفاترفراہم کیے گئے ہیں جبکہ رینجرزکی کالونی کے قیام کیلیے سندھ حکومت نے حال ہی میں زمین بھی الاٹ کی ہے۔