مجاہدین کی افطاری

یہ ہر روز ہوتا ہے اور ہر روز ہی یہ کیفیت مجھ پر گزرتی ہے۔ شام کے وقت گھر میں افطاری کے لیے دسترخوان سج جاتا ہے۔

Abdulqhasan@hotmail.com

یہ ہر روز ہوتا ہے اور ہر روز ہی یہ کیفیت مجھ پر گزرتی ہے۔ شام کے وقت گھر میں افطاری کے لیے دسترخوان سج جاتا ہے۔ جو کچھ میّسر ہوتا ہے وہ اس دسترخوان کی زینت بن جاتا ہے۔ یہ واحد کھانا ہے جس کا کھانا باعث ثواب بھی ہے اور جس کی تیاری میں عبادت بھی کارفرما ہوتی ہے لیکن افسوس کہ مجھے اس افطاری میں لطف نہیں آتا بلکہ رشک اور حسد کے جذبات بے چین کر دیتے ہیں۔

اس وقت میری نظروں کے سامنے وہ خوش نصیب پاکستانی گھوم پھر رہے ہوتے ہیں جو پاکستان کی کسی پہاڑی پر یا کسی پناہ گاہ میں چھپ چھپا کر افطاری کا سامان جمع کرتے ہیں اور پھر میدان جہاد میں باجماعت افطار کرتے ہیں۔ افطار تو ہم بھی کرتے ہیں لیکن ملا کی اذان اور ہے اور جہاد کی اللہ اکبر اور ہے۔ میدان جہاد میں افطار کی سعادت کسی کسی کی قسمت میں لکھی ہوتی ہے اور وہ کتنے خوش نصیب ہیں جو اللہ کی راہ میں تلوار بھی اٹھائے ہوئے ہیں اور روزے سے بھی ہیں۔ یہ ان کے ہاتھ ہیں جن کو چومنا کسی مسلمان کی سعادت ہے اور خوش نصیبی کی انتہا دیکھئے کہ رمضان کا مہینہ ہے اور اسی مہینے میں ایک جہاد ایسا بھی ہو رہا تھا کہ حضور پاکؐ نے جو اس فوج کی قیادت فرما رہے تھے ۔

اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ یا اللہ یہ ختم ہو گئے تو تمہارا نام لینے والا کون ہو گا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے سچ پوچھئے تو آزاد پاکستان کا یہ آخری لشکر ہے جو پاکستان کے دشمن کے خلاف معرکہ آراء ہے اور جس کی تلوار ایک سرکاری تلوار ہے عضب جس کی ضرب کاری ہوتی ہے اور جو رسول پاکؐ کی طرف سے ہمیں ورثہ میں ملی ہے یعنی اس تلوار کا تقدس اور اس کی عظمت ہمارا ورثہ ہے اور اس ورثے پر ہم خواہ گھروں میں بیٹھے ہیں یا میدان جنگ میں، فخر کرتے ہیں اور اس فخر کی کیفیت میں جھومتے رہتے ہیں کیونکہ یہ اعزاز ہمیں اسی کی طرف سے ملا ہے جس کا وجود ہی ہمارے لیے ایک اعزاز ہے۔

ہمارے اس جہاد کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو وہی روایتی پہلو جو میدان جنگ میں شعلہ فشاں ہے اور دوسرا وہ پہلو جو اس جہاد کی وجہ سے ہزاروں نہیں لاکھوں پاکستانی بے گھر ہو کر ملک بھر میں پھیلتے جا رہے ہیں ان کے پاس سوائے تن کے کپڑوں کے اور کچھ نہیں اور جو ہے وہ اتنا ناقص اور تھوڑا جو ان کی روزمرہ کی ضرورت کے لیے ناکافی ہے۔ ہم پاکستانیوں نے اپنے ان بے گھر پاکستانیوں کا استعمال کیا ہے اور کر رہے ہیں کیونکہ اگر ہم انھیں پناہ نہ دیں ان کا سہارا نہ بنیں تو وہ کہاں جائیں۔ ان کا شمار بھی مہاجرین میں ہوتا ہے اور ہم انصار ہیں جن کا دینی فرض ہے کہ ان کی خبرگیری کریں اور ان کے مشکل دنوں کو آسان کریں۔


ہم پر جہاد کی آزمائش اور مہاجرین کی ذمے داری اس وقت پڑی ہے جب ہماری حکومت کو ذاتی طور پر اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ سب کچھ قومی خزانے سے ہو رہا ہے جب کہ ہمارا کوئی ایک حکمران بھی اپنی دولت سے ان مہاجرین کی کفالت کر سکتا ہے کتنے ہی افسوس بلکہ شرم کی بات ہے کہ ہمارے کئی حکمرانوں نے ذاتی طور پر ان مہاجرین کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ تعجب ہے کہ ہم عام پاکستانیوں نے حسب توفیق جو بھی ہو سکا وہ اس فنڈ میں پیش کر دیا۔ ہمارے حکمران ہم غریبوں کے اس فنڈ کو تصویریں اتروا کر مہاجرین کے کیمپوں میں دے دیں گے۔

اگر کوئی مجھ سے پوچھے مگر کیوں پوچھے تو ان حکمرانوں کے اہل و عیال کو مہاجرین کے ان کیمپوں میں رکھا جائے جب تک کہ حالات نارمل نہیں ہو جاتے۔ ایک صاحبزادے نے لندن کے انتہائی قیمتی مقام پر اپنی جائیداد فروخت کرنے کا پروگرام بنایا ہے جو ہمارے اخباروں میں بھی چھپا ہے۔ میں نے کئی بار یہ جائیداد باہر سے دیکھی ہے۔ یہ شارع عام میں پڑی ہے۔ اس خبر سے حیرت ہوئی کہ ہم اس کے مالک ہیں۔ سبحان تیری قدرت۔ چند دن ہوئے اس خاندان کی ایک خاتون نے بتایا کہ ان کا خاندان ایشیا کا کتنا بڑا کاروباری خاندان ہے۔ یہ بالکل درست بیان تھا۔

ہمارے سابقہ قاضی القضاۃ جو بدنامیاں لے کر رخصت ہوئے اگر قومی خدمت کا کوئی کام کر جاتے جس میں کسی چور کو پکڑا جاتا اور دنیا میں کہیں اس کی جائیداد کے بارے میں اس سے پوچھا جاتا کہ جناب یہ کہاں سے آئی کیونکہ پاکستان میں تو آپ کا نہ اتنا کاروبار تھا اور نہ اتنی جائیداد تھی۔ اگر یہ ملک ان لوگوں سے بچ گیا تو یہ یوم الحساب بھی لازماً آئے گا اور دنیا بھر سے دھونڈ کر ان قومی چوروں کو واپس لایا جائے گا اور ملک کے کسی چوراہے پر کھڑا کر کے پوچھا جائے گا کہ جناب ذرا ان سوالوں کا جواب دے دیں۔ بات جہاد سے بے گھر ہونے والے پاکستانیوں اور ان کی آبادکاری کی ہو رہی تھی جس کے لیے بڑا سرمایہ درکار ہے قوم ہمت کر کے بہت کچھ دے رہی ہے لیکن ضرورت اس سے زیادہ کی ہے۔

لاکھوں بے گھر لوگوں کا تصور کیجیے کہ ان کو کس طرح آباد کیا جائے۔ آباد نہیں ان کو ان مشکل دنوں میں کس طرح رکھا جائے۔ ان کے علاج معالجے کا کیا بندوبست ہو، بچوں کی تعلیم کا کیا بنے، ان کی پردہ دار عورتوں کو کس طرح سنبھال کر رکھا جائے اور پھر ان مہاجرین کے عارضی روزگار کا بندوبست کیا جائے۔ یہ سب اس قوم کی ذمے داری ہے جس کی حفاظت اور سلامتی کے لیے اس کے فوجی جوان پہاڑوں پر بھٹک رہے ہیں، جانیں دے رہے ہیں اور ان کے عزیز و اقارب کو بھی کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے گھر کا جوان کس حال میں ہے۔ زندہ سلامت واپس آئے گا یا اللہ کے پاس واپس چلا جائے گا جس نے شہید کے لیے لاتعداد انعامات کا وعدہ کر رکھا ہے اور اس کا ہر وعدہ پورا ہوتا ہے۔

ہمارا دشمن ہمارے اپنے لوگو ں میں سے ہے۔ یوں کہیں کہ ہمارا ہموطن ہے لیکن بعض وجوہ کی بناء پر وہ ہمارے دوست سے دشمن بن گیا ہے۔ وہ جسے ہم اپنا بازوئے شمشیر زن کہا کرتے تھے اس کے ہاتھ کی شمشیر ہماری جان لے رہی ہے۔ اس پر بھی غور ہو گا اور وجوہات تلاش ہوں گی لیکن فی الوقت تو مجھے مجاہدوں کے ساتھ افطاری کرنی ہے اور بے گھر پاکستانیوں کو گھر دینا ہے جس میں وہ عزت کے ساتھ رہ سکیں اور رمضان گزار سکیں۔
Load Next Story