اپٹما کا بجلی گیس کے نئے لوڈمینجمنٹ شیڈول پر احتجاج

متعدد صنعتیں بند ہونے کا خدشہ، حکومت سب سے بڑے برآمدی شعبے کو بچائے، یاسین صدیق

متعدد صنعتیں بند ہونے کا خدشہ، حکومت سب سے بڑے برآمدی شعبے کو بچائے، یاسین صدیق فوٹو: فائل

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما ) کے سینٹرل چیئرمین محمد یاسین صدیق نے کہا ہے کہ نئے لوڈ مینجمنٹ شیڈول سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اوربجلی کی روزانہ 10 گھنٹے کی بندش اور گیس کی صرف 6 گھنٹے فراہمی سے صنعتیں تباہی سے دوچارہوں گی اور متعدد صنعتیں بند ہونے کا یقینی خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔


انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے برآمدی سیکٹر کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں ورنہ ملک کی برآمدات میں نمایاں کمی ہونے کے علاوہ بڑے پیمانے پر بیروزگاری پھیلنے کا خدشہ ہوگا۔ انہوں نے حکومت کو یاد دلایا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر نہ صرف ملک کا سب سے بڑا برآمدی سیکٹر ہے بلکہ ملک میں زراعت کے بعد سب سے زیادہ روزگار مہیا کرنے والا سیکٹر بھی ہے۔چیئرمین اپٹما کا کہنا تھا کہ سوئی ناردرن گیس اور واپڈا کی جانب سے اعلان کردہ نئے لوڈ مینجمنٹ شیڈول کے مطابق بجلی کی روزانہ 10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ اورگیس کی صرف 6 گھنٹے روزانہ سپلائی کسی طرح بھی انڈسٹری کی ضروریات پوری نہیں کرسکتی کیونکہ ملک کی انڈسٹری بقا اس کو 24 گھنٹے رواں رکھنے میں ہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹے کی فزیبلٹی پر قائم ٹیکسٹائل سیکٹر کو صرف 14 گھنٹے بجلی و گیس فراہم کی جارہی ہے جو کسی بھی طرح انڈسٹری کے لیے قابل عمل نہیں ہے۔ یاسین صدیق کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں نمایاں اضافے اور بجلی و گیس کے ٹیرف بڑھانے کے بعد جی آئی ڈی سی میں 45 فیصد اضافے نے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جس سے پاکستانی مصنوعات مسابقت کے قابل نہیں رہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نئے لوڈ مینجمنٹ پلان کے تحت بجلی گیس کی قلت سے آرڈرز کی بروقت تکمیل نہ کرنے کی صورت میں کئی منڈیاں ہاتھ سے نکل جانے کا خدشہ ہے چنانچہ حکومت صورتحال کانوٹس لے اور ملک کی سب سے بڑی برآمدی انڈسٹری کو تباہی سے بچانے کیلیے اقدامات کرے۔
Load Next Story