سرکاری اسپتالوں میں دواؤں کا بحران مریض طبی سہولتوں سے محروم
وزیر اور سیکریٹری میں سرد جنگ جاری، محکمہ صحت کے انتظامی امورٹھپ ہوگئے،نرسنگ امتحانی بورڈاوردیگر شعبے عملاًغیرفعال
ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمنسٹریشن سمیت 4اہم اسامیاں خالی ہیں،تعینات افسران نے چارج نہیں چھوڑا، دفاتر سے غائب ہیں فوٹو: فائل
سیکریٹری صحت اوروزیرصحت میں جاری سردجنگ کے باعث محکمہ صحت کے تمام انتظامی امورٹھپ ہوگئے ہیں ۔
جس کے باعث بیشترسرکاری اسپتالوں میں دواؤں کا بحران شدت اختیارکرگیا،کوالٹی کنٹرول بورڈ، نرسنگ امتحانی بورڈ شعبہ سمیت دیگراہم شعبے بھی عملاً غیر فعال ہے، 5 سال گزرنے کے بعدٹراماسینٹر تعمیر نہیں کیا جاسکا، محکمہ صحت کے سیکریٹریٹ میں4اہم اسامیوں پرکوئی افسر تعینات نہیں اور سیکریٹری صحت بھی بیرون ملک سرکاری خرچ پر چلے گئے،تفصیلات کے مطابق ،محکمہ صحت میں اسپیشل سیکریٹری ایڈمن، اسپیشل سیکریٹری پبلک ہیلتھ ، ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمن اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی اسامیاںخالی پڑی ہیں۔
محکمہ کے ایک افسر نے اپنی مرضی سے ایک اوایس ڈی افسر ڈاکٹر اطہر کو تبادلہ کرواکرمحکمہ صحت میں رپورٹ کروائی گئی وہاں سے میڈیکو لیگل آفیسرکی سمری بنواکر متعلقہ حکام بھیجی گئی تھی جس کے بعد محکمے کے ایک اسپیشل سیکریٹری نے 2ماہ بعد ڈاکٹر اطہر کو گریڈ 18 میں دوبارہ محکمہ صحت میں اوایس ڈی بنواکرگاڑی اور تنخواہ جاری کرادی ، مذکورہ او ایس ڈی 5ماہ سے کوئی کام کیے بغیر حکومت سے تنخواہ اور گاڑی کا ڈیزل حاصل کررہاہے،محکمہ صحت کے افسران میں سرد جنگ کی وجہ سے سندھ گورنمنٹ لیاری اسپتال، سول اسپتال، ابراہیم حیدری اسپتال، این آئی سی ایچ اسپتال، سمیت سرکاری اسپتالوں میں ادویات کا بحران شدت اختیار کرگیا اوران اسپتالوں کے انتظامی امور بھی درہم برہم ہوگئے ۔
اندرون سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں ادویات ناپیدہوگئیں ہیں جبکہ دوسری جانب محکمہ صحت کے سیکریٹریٹ میں اسپیشل سیکریٹری صحت ایڈمن،اسپیشل سیکریٹری پبلک ہیلتھ ، ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمنسٹریشن اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی اسامیاں بھی خالی پڑی ہیں ان اسامیوں پر تعینات افسران نے چارچ نہیں چھوڑالیکن چاروں افسران گزشتہ کئی دنوںسے اپنے دفترسے بھی غائب ہیں،سیکریٹری صحت اقبال درانی سرکاری خرچ پر بیرون ملک رخصت پرہیں،وزیر صحت نے ان چاروں افسران کے خلاف گورنر سندھ اوروزیر اعلیٰ سندھ سمیت دیگر حکام سے محکمہ میں کی جانے والی تبدیلیوں پراپنے تحفظات کا اظہارکیاہے، 5سال ہونے کے بعدٹراماسینٹر تعمیر نہیں کیاجاسکا۔
معلوم ہواہے کہ سیکریٹری صحت اقبال درانی جووزیراعلیٰ سندھ کے دامادہیں ان کی جانب سے اس سرد جنگ کا آغازمن پسند ڈاکٹروںکوغیر ملکی امداد سے چلنے والے مختلف پروجکٹس ڈائریکٹران کی تعیناتیوں سے ہوا،سیکریٹری صحت اقبال درانی نے اپنے ذاتی دوست ڈاکٹر احسن کوکنٹریکٹ کی بنیاد پرہیلتھ ریفارمزیونٹ گریڈ20میں غیر قانونی تعیناتی کرادی ۔
جس پر وزیر صحت نے شدید اعتراضات کرتے ہوئے متعلقہ حکام کومطلع کیا جس پرسیکریٹری صحت نے غیر اعلانیہ سرد جنگ کاآغازکردیاجس کی وجہ سے محکمہ کے دفاتری امورٹھپ اورانتظامی امورمفلوج ہوکر رہ گئے ہیں،صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے صحت کے منصوبوں کے سربراہوںکی تبدیلیوںکا مسئلہ 4 ماہ سے جاری ہے ،محکمہ میں سربراہوں کی تعیناتیوں کی وجہ سے افسران 2حصوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔
جس کے باعث بیشترسرکاری اسپتالوں میں دواؤں کا بحران شدت اختیارکرگیا،کوالٹی کنٹرول بورڈ، نرسنگ امتحانی بورڈ شعبہ سمیت دیگراہم شعبے بھی عملاً غیر فعال ہے، 5 سال گزرنے کے بعدٹراماسینٹر تعمیر نہیں کیا جاسکا، محکمہ صحت کے سیکریٹریٹ میں4اہم اسامیوں پرکوئی افسر تعینات نہیں اور سیکریٹری صحت بھی بیرون ملک سرکاری خرچ پر چلے گئے،تفصیلات کے مطابق ،محکمہ صحت میں اسپیشل سیکریٹری ایڈمن، اسپیشل سیکریٹری پبلک ہیلتھ ، ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمن اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی اسامیاںخالی پڑی ہیں۔
محکمہ کے ایک افسر نے اپنی مرضی سے ایک اوایس ڈی افسر ڈاکٹر اطہر کو تبادلہ کرواکرمحکمہ صحت میں رپورٹ کروائی گئی وہاں سے میڈیکو لیگل آفیسرکی سمری بنواکر متعلقہ حکام بھیجی گئی تھی جس کے بعد محکمے کے ایک اسپیشل سیکریٹری نے 2ماہ بعد ڈاکٹر اطہر کو گریڈ 18 میں دوبارہ محکمہ صحت میں اوایس ڈی بنواکرگاڑی اور تنخواہ جاری کرادی ، مذکورہ او ایس ڈی 5ماہ سے کوئی کام کیے بغیر حکومت سے تنخواہ اور گاڑی کا ڈیزل حاصل کررہاہے،محکمہ صحت کے افسران میں سرد جنگ کی وجہ سے سندھ گورنمنٹ لیاری اسپتال، سول اسپتال، ابراہیم حیدری اسپتال، این آئی سی ایچ اسپتال، سمیت سرکاری اسپتالوں میں ادویات کا بحران شدت اختیار کرگیا اوران اسپتالوں کے انتظامی امور بھی درہم برہم ہوگئے ۔
اندرون سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں ادویات ناپیدہوگئیں ہیں جبکہ دوسری جانب محکمہ صحت کے سیکریٹریٹ میں اسپیشل سیکریٹری صحت ایڈمن،اسپیشل سیکریٹری پبلک ہیلتھ ، ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمنسٹریشن اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی اسامیاں بھی خالی پڑی ہیں ان اسامیوں پر تعینات افسران نے چارچ نہیں چھوڑالیکن چاروں افسران گزشتہ کئی دنوںسے اپنے دفترسے بھی غائب ہیں،سیکریٹری صحت اقبال درانی سرکاری خرچ پر بیرون ملک رخصت پرہیں،وزیر صحت نے ان چاروں افسران کے خلاف گورنر سندھ اوروزیر اعلیٰ سندھ سمیت دیگر حکام سے محکمہ میں کی جانے والی تبدیلیوں پراپنے تحفظات کا اظہارکیاہے، 5سال ہونے کے بعدٹراماسینٹر تعمیر نہیں کیاجاسکا۔
معلوم ہواہے کہ سیکریٹری صحت اقبال درانی جووزیراعلیٰ سندھ کے دامادہیں ان کی جانب سے اس سرد جنگ کا آغازمن پسند ڈاکٹروںکوغیر ملکی امداد سے چلنے والے مختلف پروجکٹس ڈائریکٹران کی تعیناتیوں سے ہوا،سیکریٹری صحت اقبال درانی نے اپنے ذاتی دوست ڈاکٹر احسن کوکنٹریکٹ کی بنیاد پرہیلتھ ریفارمزیونٹ گریڈ20میں غیر قانونی تعیناتی کرادی ۔
جس پر وزیر صحت نے شدید اعتراضات کرتے ہوئے متعلقہ حکام کومطلع کیا جس پرسیکریٹری صحت نے غیر اعلانیہ سرد جنگ کاآغازکردیاجس کی وجہ سے محکمہ کے دفاتری امورٹھپ اورانتظامی امورمفلوج ہوکر رہ گئے ہیں،صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے صحت کے منصوبوں کے سربراہوںکی تبدیلیوںکا مسئلہ 4 ماہ سے جاری ہے ،محکمہ میں سربراہوں کی تعیناتیوں کی وجہ سے افسران 2حصوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔