نئی فصل کی آمد میں تاخیر روئی کی قیمتوں میں معمولی تیزی

100 روپے فی من اضافے سے بھاؤ 6 ہزار 400 سے 6 ہزار 500 روپے،اسپاٹ ریٹ 250 روپے کمی سے 6350 روپے من ہوگئی۔

پنجاب میں اب تک 125 سے زائد ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکیں،بیشتر نان آپریشنل ہونے پر غور کر رہی ہیں،احسان الحق۔ فوٹو: فائل

دنیا کے مختلف ممالک کی امریکا سے خریدی گئی کپاس کے سودے بڑی تعداد میں منسوخ ہونے اور چین کی جانب سے 15-2014 کے دوران کاٹن درآمدات میں ریکارڈ کمی کے اعلان کے بعد گزشتہ ہفتے کے دوران بھی امریکا اور چین کی کپاس کی منڈیوں میں مسلسل چوتھے ہفتے بھی زبردست مندی کا رجحان دیکھا گیا۔

پاکستان میں کپاس کی نئی فصل کی آمد میں غیر متوقع تاخیرکے باعث معمولی تیزی جبکہ بھارتی کاٹن برآمدات میں 27 فیصد اضافے کی اطلاعات کے بعد بھارت میں کپاس کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے کے دوران زبردست تیزی کا رجحان دیکھا گیا۔ ممبر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ چین، ترکی، ویت نام اور دیگر ممالک کی جانب سے امریکا سے خریدی گئی کپاس کے سودے گزشتہ ہفتے کے دوران بڑی تعداد میں منسوخ ہونے کے باعث امریکا میں جاری ہونے والی منفی کاٹن رپورٹ کے بعد نیویارک کاٹن ایکسچینج میں غیر معمولی مندی کا رجحان سامنے آنے سے نیویارک کاٹن ایکسچینج میں روئی کی قیمتیں پچھلے دو سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں ہفتے کے دوران بھی امریکا میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان جاری رہے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کپاس کی نئی فصل کی آمد میں متوقع تیزی کے رجحان کے باعث سندھ کے بڑے کاٹن زونز میں 25 کے قریب جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہو گئی تھیں لیکن غیر متوقع موسمی حالات کے باعث پھٹی کی آمد میں غیر معمولی کمی واقع ہونے سے گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں 100 روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار 400 سے 6ہزار 500روپے فی من تک پہنچ گئیں تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے کہ بجلی اور گیس کی غیر معمولی کمی کے باوجود اس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث بیشتر ٹیکسٹائل ملز نان آپریشنل ہونے کے بارے میں غور کر رہی ہیں اور اطلاعات کے مطابق پنجاب میں اب تک 125 سے زائد ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ روئی کی قیمتوں میں رواں ہفتے کے دوران دوبارہ مندی کا رجحان سامنے آ سکتا ہے۔


انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے ریکارڈ 4.55سینٹ فی پائونڈ کمی کے بعد 86.90 سیبنٹ، اکتوبر ڈلیوری روئی کے سودے 2.51 سینٹ فی پاؤنڈ کمی کے بعد 71.79 سینٹ فی پائونڈ جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 250 روپے فی من مندی کے بعد 6ہزار 350روپے فی من تک گر گئے تاہم بھارت میں روئی کی قیمتیں زبردست تیزی کے رجحان کے باعث 631 روپے فی کینڈی اضافے کے بعد 42 ہزار 623 روپے فی کینڈی تک بڑھ گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ نیویارک کاٹن ایکسچینج کی سیکڑوں سالہ تاریخ میں پہلی بار حاضر ڈلیوری اور اکتوبر ڈلیوری روئی کے سودوں میں ریکارڈ 15.11 سینٹ فی پائونڈ کا فرق ہے جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں سال اکتوبر نومبر میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان غالب رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی حکومت کی بروقت، مثبت اور تاجر دوست پالیسیوں کے باعث بھارت میں رواں سال بھارتی تاریخ کی کپاس کی سب سے زیادہ پیداوار 39ملین بیلز (170 کلو گرام) ہونے کے ساتھ ساتھ بھارتی کاٹن ایکسپورٹس بھی ریکارڈ 27فیصد اضافے کے ساتھ 11.4 ملین بیلز ہونے جا رہی ہے جس سے بھارت میں روئی کی قیمتوں میں مزید تیزی کا رجحان متوقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق چین، بنگلہ دیش، ترکی، انڈونیشیا اور دیگر چند ممالک میں قائم بھارتی سفارت خانوں کے کمرشل اتاشیز نے ان ملکوں کو بھارت سے کاٹن ایکسپورٹس بڑھانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ بھارتی حکومت کی جانب سے زرعی مداخل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کے باعث بھارت میں 2013-14 کے دوران کپاس کے قابل کاشت رقبے میں تقریب 7لاکھ ایکڑ کمی ہونے کے باوجود بھارت میں رواں سال کپاس کی ریکارڈ پیداوار متوقع ہے۔

جبکہ پاکستان میں زرعی مداخل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ان پر جی ایس ٹی کے نفاذ کے باعث پاکستانی کسانوں میں زرعی مداخل کے استعمال کے رجحان میں روز بروز کمی ہونے کے باعث یہاں کپاس سمیت بیشتر اجناس کی فی ایکڑ پیداوار میں ہر سال کمی واقع ہو رہی ہے اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ ہر قسم کے زرعی مداخل پر عائد تمام ٹیکسز ختم کرے تاکہ ان کا استعمال بہتر ہونے سے پاکستان میں بھی فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ سامنے آ سکے۔
Load Next Story