بصارت نہیں بصیرت اہم ہوتی ہے پاکستان رمضان میں عامر لیاقت کی نابینا افراد سے گفتگو

IDA Rieu میں زیر تعلیم قوت بصارت سے محروم طلباء نے دلچسپ گفتگو اور ثناخوانی سے ناظرین کے دل موہ لیے

IDA Rieu میں زیر تعلیم قوت بصارت سے محروم طلباء نے دلچسپ گفتگو اور ثناخوانی سے ناظرین کے دل موہ لیے

ایکسپریس کی براہ راست خصوصی نشریات ''پاکستان رمضان''میں لوگوں کی دلچسپی بتدریج بڑھتی ہی جارہی ہے جس کی بڑی وجہ ایکسپریس میڈیا گروپ کے پریذیڈنٹ اورعالمی شہرت یافتہ براڈ کاسٹر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کادلچسپ اورمنفرداندازہے۔

شہررمضان کی انفرادیت برقرارکھتے ہوئے ہردلعزیزمیزبان ایسے مہمانوں کو بھی بطورخاص مدعوکررہے ہیں جنھیںمعاشرے کااہم حصہ ہونے کے باوجودنظرانداز کردیا گیاہے۔اس سلسلے میں اپنی تاریخ ساز نشریات کے ساتویں روزشہررمضان میںانھوں نےIDA Rieuنامی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے تحت قائم تعلیمی ادارے میں زیرتعلیم اُن نابیناطلباء وطالبات کومدعوکیاجوقوت بصارت سے محروم ہونے کے باوجود جرأت مندی کے ساتھ معاشرے میں اپنامقام بنارہے ہیں اورعلم وہنرکے شعبوں میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

قوت بینائی سے محروم معاشرے کے ان باہمت کرداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ڈاکٹرعامرلیاقت حسین نے کہاکہ بصارت سے زیادہ بصیرت کی اہمیت ہوتی ہے اوریہ ایمانی بصیرت سے مالامال ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے چہروں پراطمینان اورسکون کی کیفیت ہے۔باہمت افراد کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سب کے پسندیدہ میزبان کاکہناتھاکہ اللہ کی نعمتوں پرشکرکاطریقہ ہمیں ان افرادسے سیکھناچاہیے جوقوت بصارت سے محروم ہونے کے باوجودشکرکے جذبات سے لبریزہیں۔ اس موقع پرہرڈاکٹر عامر لیاقت حسین ان باہمت طالبعلموںمیں گھل مل گئے اوران سے ان کی تعلیم اورروزمرہ معمولات پر گفتگو کی اور کم سن نعت خواں سے نعت بھی سنی اور انھیں تحائف بھی دیے۔

اس موقع پر نابینا طالبعلموں کو علم کے زیور سے آراستہ کرنے والی خواتین اساتذہ مس فرحت اورمس نسیم صادق بھی موجود تھیں جنھوں نے میزبان سے گفتگو کے دوران بتایا کہIDA Rieu ،1922ء سے قائم ہے اور یہاں800سے زائد نابیناطلبہ و طالبات کو مونٹیسوری سے یونیورسٹی کی سطح تک مفت تعلیم دی جارہی ہے ۔ حالیہ رمضان نشریات کے دوران اتوار کو پہلی ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر ''پاکستان گھر'' میں عام دنوں کی بہ نسبت عوام کی زیادہ بڑی تعداد انعامات کی برسات سے فیض یاب ہوئی ،پروگرام میں عوام کی دلچسپی کے پیش نظر اس کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے اور ساتویں روز سیکڑوں شرکا نے براہ راست سوالات کے درست جوابات دے کرلاکھوں روپے مالیت کے قیمتی انعامات جیتے۔نشریات کی خاص بات پاکستان رمضان کے عظیم الشان سیٹ پر اصلی شیر کی آمد ہوئی ہے جو چندروز نشریات کا مہمان رہے گا۔


ایکسپریس کے مقبول دینی پروگرام ''عالم آن ایئر'' میں جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی ، جمعیت علماء اسلام پاکستان سمیع الحق گروپ کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی،شیعہ علماء کونسل کراچی ڈویژن کے جنرل سیکریٹر ی علامہ فیاض حسین مطہری اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب کے نائب ناظم مفتی سید عتیق الرحمن شاہ کشمیری نے شرکت کی اور شرکاکے سوالات کے جوابات دیے جبکہ پروگرام کے اختتام سے قبل ممتاز عالم دین علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی بھی پاکستان رمضان نشریات کا حصہ بنے اور حاضرین کی جانب سے ایصال ثواب کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیا،افطار کی بابرکت ساعتوں میں دعاکرائی ،بعدازاں سیکڑوں شرکا نے ان کی امامت میں نماز مغرب اداکی۔

دکھی انسانیت کی خدمت پر مبنی پاکستان رمضان کے مقبول پروگرام ''راہِ نیکی'' میں ساتویں روز بھی مختلف مسائل میں مبتلا خاندانوں کی امداد کا سلسلہ جاری رہا، جس کے دوران لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے سفید پوش معلم امیر علی ہمدانی نے عارضہ قلب میں مبتلا ڈیڑھ سالہ بیٹے کے ساتھ شرکت کی۔ لختِ جگر کے دل کے آپریشن کیلیے درکار5 لاکھ روپے کی خطیر رقم کیلیے باپ کی التجائوں نے میزبان سمیت تمام حاضرین کو افسردہ کردیا۔

امیر علی ہمدانی نے دوران گفتگو بتایا کہ ان کی ماہانہ آمدنی صرف7 ہزار روپے ہے جبکہ دو روز بعد بچے کے آپریشن کی تاریخ مل گئی ہے، وہ اتنی بڑی رقم کا انتظام نہیں کر سکتے، اس موقع پر دکھی باپ کو تسلی دیتے ہوئے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اعلان کیاکہ بچے کے علاج اور آپریشن کے تمام اخراجات محمودہ سلطانہ فائونڈیشن برداشت کرے گی۔ اس دوران دو روز قبل پیدائشی طور پر بائیں جبڑے سے محروم کم سن فاطمہ کے علاج کیلیے دبئی میں مقیم نیک دل خاتون نے نشریات کے دوران ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے رابطہ کیا اور فاطمہ کی سرجری کیلیے درکار رقم کا انتظام ہونے کی خوشخبری سنائی۔ پروگرام کے دوران پیدائشی طور پر دورے پڑنے کے مرض میں مبتلا کم سن شان کے غریب والد عبدالحمید کی مالی امداد بھی کی گئی۔

''پاکستان رمضان'' میں ایدھی سینٹر میں مقیم گمشدہ بچوں کو ان کے اصل گھر تک پہنچانے اور گھر والوں سے ملانے کا نیک سلسلہ جاری ہے جس کی بدولت اب تک دو بچے اپنے والدین سے مل چکے ہیں۔ اس حوالے سے ایک پیش رفت ساتویں روز بھی دیکھنے میں آئی جب کم سن بچے شہباز کو ٹی وی اسکرین پر دیکھ کر ملتان میں مقیم اس کے تایا، تائی نے پہچان لیا اور ایکسپریس کے توسط سے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے رابطہ کر لیا۔

نشریات کے دوران تایا، تائی سے شہباز کی براہ راست گفتگو کرائی گئی۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ والد کے انتقال اور والدہ کی دوسری شادی کے بعد تایا، تائی کے ساتھ زندگی بسر کرنے والا شہباز ایکسپریس آفس ملتان کے دفتر میں بیٹھے تایا تائی کو اسکرین پر دیکھ کر ان سے ملنے کے لیے بے قرار ہو گیا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے گمشدہ بچے کو تایا سے ملانے کیلیے ذاتی خرچ پر اس کے تایا کو ملتان سے کراچی بلا لیا ہے جہاں نشریات کے دوران ہی بچے کو تحائف کے ساتھ تایا کے حوالے کیا جائے گا۔
Load Next Story