افغان حکومت نے فیس بک پر پابندی کی تجاویز مسترد کردیں
فیس بک پراپ لوڈکی جانے والی تصاویراور وڈیوزسے ملک میںنسلی منافرت شدید ہونے کاخطرہ پیداہوگیاہے
دھاندلی الزامات پر تلخ کلامی کے بعد امیدواروں کے حامیوں میں پرتشدد تصادم کا خطرہ۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل
افغان حکومت نے صدارتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میںدھاندلی کے الزامات کے تناظر میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پرپابندی کی تجاویز کو مسترد کردیاہے۔
نائب صدارتی ترجمان فائق واحدی کا کہناتھاکہ فیس بک پربہت سے لوگ ایسے ہیں جو نفرت کوہوادے رہے ہیں اور نیشنل سیکیورٹی کونسل نے فیس بک پر پابندی کی تجاویز پر غورکیا تاہم کونسل نے تمام تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے فیس بک پر پابندی نہ لگانے کافیصلہ کیاگیا۔
دوسری جانب فیس بک پراپ لوڈکی جانے والی تصاویراور وڈیوزسے ملک میںنسلی منافرت شدید ہونے کاخطرہ پیداہوگیاہے۔دھاندلی کے الزامات پر صدارتی امیدواروں اشرف غنی اورعبداللہ عبداللہ کے حامیوں کے درمیان انٹرنیٹ پرتلخ جملوں کے تبادلوں کے بعد خطرہ ہے کہ دونوں گروپوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوجائے۔
نائب صدارتی ترجمان فائق واحدی کا کہناتھاکہ فیس بک پربہت سے لوگ ایسے ہیں جو نفرت کوہوادے رہے ہیں اور نیشنل سیکیورٹی کونسل نے فیس بک پر پابندی کی تجاویز پر غورکیا تاہم کونسل نے تمام تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے فیس بک پر پابندی نہ لگانے کافیصلہ کیاگیا۔
دوسری جانب فیس بک پراپ لوڈکی جانے والی تصاویراور وڈیوزسے ملک میںنسلی منافرت شدید ہونے کاخطرہ پیداہوگیاہے۔دھاندلی کے الزامات پر صدارتی امیدواروں اشرف غنی اورعبداللہ عبداللہ کے حامیوں کے درمیان انٹرنیٹ پرتلخ جملوں کے تبادلوں کے بعد خطرہ ہے کہ دونوں گروپوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوجائے۔