اتفاق رائے یکجہتی کا عظیم مظاہرہ
پاکستان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے عفریت سے نجات دلانے کے لیے آپریشن ضرب عضب
پوری قوم پاک فوج کے ساتھ اور دہشت گردوں کے خلاف ہے، الطاف حسین فوٹو؛ایم کیو ایم
پاکستان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے عفریت سے نجات دلانے کے لیے آپریشن ضرب عضب سے مکمل یکجہتی اور وسیع تر قومی اتفاق رائے کا بھر پور اظہار پورے ملکی سیاست کی بنیادی حقیقت بنتی جارہی ہے، اس ضمن میں اتوار کو کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ایک عظیم اجتماع منعقد کیا گیا جس میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف پوری قوم فوج کے ساتھ ہے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے بعد ملکی دولت لوٹنے والے اور کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف احتساب کا عمل شروع کیا جائے گا۔
فوج سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسے سے ٹیلیفونک خطاب میں الطاف حسین نے مزید کہا کہ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ اور دہشت گردوں کے خلاف ہے، ایک ایک فوجی، ایک ایک جرنیل ، ایک ایک کور کمانڈر، ایک ایک افسر دیکھ لے کہ پوری پاکستانی قوم آپ سے محبت کرتی ہے، ہم مسلح افواج کے لیے نہ صرف ہر قسم کا غیر مشروط تعاون پیش کرتے ہیں بلکہ ان کی کامیابی کے لیے دعاگو بھی ہیں، ملک دشمن عناصر نے ملک میں فرقہ واریت کے نفرت انگیز بیج بوئے، یہ ملک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں،فوج نے دہشت گردی پر بہت صبر کیا، کسی کو کلاشنکوف اور ڈنڈے، بدمعاشی اور تلوار کے ذریعے اپنی خود ساختہ شریعت یا نظریہ دوسروں پر مسلط کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے، پوری قوم اور مسلح افواج ایک پیچ پر ہیں ۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قوم نے جس عزم اور پختہ ارادے کے ساتھ پاک افواج کے مشن اور آپریشن کا ساتھ دینے کا عہد کیا ہے وہ سیاسی ،سماجی اور فکری سطح پر ابھرتے ہوئے قابل تقلید قومی سوچ اور کردار کے ایک نئے باب کا وا ہونا ہے ۔ ملک کو جن بڑے چیلنجز کاسامنا ہے اس میں سب سے اہم پیش رفت دہشت گردی کے خاتمے کی ٹھوس عملی عسکری کوششیں ہیں جن کی حمایت میں وہ سیاسی جماعتیں بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد اور ایستادہ ہیں جو اختلافات کی دھند میں لپٹی ہوئی تھیں۔
قومی مفاد میں لڑی جانے والی اس داخلی جنگ میں سرخروئی کسی غیر ملکی جارح ملک یا باطل طاقتوں کے خلاف حاصل نہیں ہوگی بلکہ (بد قسمتی سے) اپنوں نے ملک کو ایک خلفشار،شورش اور دہشت و وحشت کے جنگل میں دھیکیل دیا ہے، ان کا ایجنڈا ملک پر خود ساختہ نظریات اور ناقابل قبول سماجی ، مذہبی اور مسلکی ضابطوں کا ایسا عذاب مسلط کرنا ہے جس کی عہد جدید کی کسی مہذب ریاست و تہذیب میں اجازت نہیں دی جاسکتی ،اورکہاں اسلام کا وہ مقدس نام و مقام اور اس کی روشن دلیلوں پر مبنی تعلیمات اور اقدار جسے دہشت گرد اپنی انا کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں ایسی خرد دشمن مہم جوئی سے زیر کی جاسکتی ہیں۔
چنانچہ آپریشن ضرب عضب کی یہی وہ منطقی اور فکری و عسکری بنیاد ہے جس نے تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کو یک جان و یک زبان کردیا ہے اور ساتھ ہی دنیا پر یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند، جمہوری آدرش اور کثیرالمشربی نظام حیات و متحرک سماج کے عالمی کمٹمنٹ سے بدستور مربوط و منسلک ملک ہے اور انسانیت کے خلاف دہشت گردی کو سب سے بڑا حملہ تصور کرتا ہے۔دریں اثنا وزیراعظم نواز شریف نے مسلح افواج کے سربراہان کو اس بات کا یقین دلایا کہ حکومت، پوری قوم ، ملکی سلامتی بالخصوص شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح افواج پاکستان کے پیچھے کھڑی ہے،انھوں نے یقین دلایا کہ حکومت افواج پاکستان کی تمام ضروریات کو پورا کرے گی۔
حکومت اور ملک بھر کی سیاسی قوتوں کا وطن عزیز کے دفاع اور دہشت گردوں کو شکست عظیم سے دوچار کرنے کا عزم اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پاکستان کی دھرتی اب امن کی خواہش میں ایک انقلاب انگیز کروٹ لے رہی ہے۔ قوم دہشتگردی سے نمٹنے کی ہر کوشش اور محاذ پر اپنی مسلح افواج اور حکومت کے دوش بدوش رہے گی۔ وزیراعظم نے افواج پاکستان سے مکمل تعاون جاری رکھنے کے جس عزم کا اعادہ کیا وہ قوم کے جذبات کی حقیقی ترجمانی ہے ۔الطاف حسین نے کہا کہ پاک فوج کے سربراہ، ان کی ٹیم، افسروں اور جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو جان ہتھیلی پر رکھ کر وزیرستان میں آپریشن کررہے ہیں، انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایک وقت کا کھانا آئی ڈی پیزکو دیںیااس کے مساوی رقم چندے کی صورت میں انھیں بھیجیں۔
بلاشبہ ذمے دارانہ صحافت،مضبوط جمہوریت، مستحکم پاکستان سے مشروط ہے، پورا ملک دہشت گردی سے متاثر ہے اور فوج کی جانب سے اس حوالے سے شروع کیا گیا آپریشن ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے ہے اس لیے پوری قوم کو اس کی مکمل حمایت کرنی چاہیے ۔ سیاسی رہنمائوں نے جس مثالی انداز مین آپریشن ضرب عضب کی حمایت کی ہے اس کے دور رس اثرات جلد برآمد ہوں گے۔ اس موقع پر شیخ رشید نے خطاب میں کہا کہ ایم کیوایم نے فوج کے ساتھ کھڑے ہوکر حب الوطنی کا حق ادا کردیا، ، آئی ڈی پیز کا مسئلہ بہت نازک ہے، ان کا دل جیتنا بہت ضروری ہے، پاک فوج کے خلاف ہر سازش ناکام ہوگی۔
قوم اندر کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اختلافات ختم کردے ۔ الہیٰ بخش سومرو نے کہا کہ الطاف حسین نے افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسہ کرکے بڑا کام کیا ہے، پیپلزپارٹی کی صوبائی وزیر روبینہ قائم خانی نے کہا کہ دہشتگردوں کے مذموم عزائم خاک میں مل جائیں گے ، احمد رضا قصوری، احسان شاہ، حلیم عادل شیخ، کامران ٹیسوری، خرم نواز گنڈا پور اور جے سالک نے بھی خطاب کیا۔ الطاف حسین کے خطاب سے قبل شرکائے جلسہ نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھا اور پاک فوج کی خدمات پر انھیں سلام پیش کیا اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی، بعدازاں شرکاء کو افطاری کروائی گئی ۔
امید کی جانی چاہیے کہ قومی مفادات کو ذاتی ان اور ترجیحات پر مقدم رکھنے کی جس نئی روایت کا آج بیج بویا جارہا ہے اس کی فصل دہشت گردی کے خاتمے کے جشن کے ساتھ ہی قوم کاٹے گی۔اس روز قوم کا ہر فرد مسرور و شادمان ہوگا جب کہ دشمنوں کے چہرے لٹکے ہوئے ہوںگے۔
فوج سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسے سے ٹیلیفونک خطاب میں الطاف حسین نے مزید کہا کہ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ اور دہشت گردوں کے خلاف ہے، ایک ایک فوجی، ایک ایک جرنیل ، ایک ایک کور کمانڈر، ایک ایک افسر دیکھ لے کہ پوری پاکستانی قوم آپ سے محبت کرتی ہے، ہم مسلح افواج کے لیے نہ صرف ہر قسم کا غیر مشروط تعاون پیش کرتے ہیں بلکہ ان کی کامیابی کے لیے دعاگو بھی ہیں، ملک دشمن عناصر نے ملک میں فرقہ واریت کے نفرت انگیز بیج بوئے، یہ ملک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں،فوج نے دہشت گردی پر بہت صبر کیا، کسی کو کلاشنکوف اور ڈنڈے، بدمعاشی اور تلوار کے ذریعے اپنی خود ساختہ شریعت یا نظریہ دوسروں پر مسلط کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے، پوری قوم اور مسلح افواج ایک پیچ پر ہیں ۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قوم نے جس عزم اور پختہ ارادے کے ساتھ پاک افواج کے مشن اور آپریشن کا ساتھ دینے کا عہد کیا ہے وہ سیاسی ،سماجی اور فکری سطح پر ابھرتے ہوئے قابل تقلید قومی سوچ اور کردار کے ایک نئے باب کا وا ہونا ہے ۔ ملک کو جن بڑے چیلنجز کاسامنا ہے اس میں سب سے اہم پیش رفت دہشت گردی کے خاتمے کی ٹھوس عملی عسکری کوششیں ہیں جن کی حمایت میں وہ سیاسی جماعتیں بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد اور ایستادہ ہیں جو اختلافات کی دھند میں لپٹی ہوئی تھیں۔
قومی مفاد میں لڑی جانے والی اس داخلی جنگ میں سرخروئی کسی غیر ملکی جارح ملک یا باطل طاقتوں کے خلاف حاصل نہیں ہوگی بلکہ (بد قسمتی سے) اپنوں نے ملک کو ایک خلفشار،شورش اور دہشت و وحشت کے جنگل میں دھیکیل دیا ہے، ان کا ایجنڈا ملک پر خود ساختہ نظریات اور ناقابل قبول سماجی ، مذہبی اور مسلکی ضابطوں کا ایسا عذاب مسلط کرنا ہے جس کی عہد جدید کی کسی مہذب ریاست و تہذیب میں اجازت نہیں دی جاسکتی ،اورکہاں اسلام کا وہ مقدس نام و مقام اور اس کی روشن دلیلوں پر مبنی تعلیمات اور اقدار جسے دہشت گرد اپنی انا کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں ایسی خرد دشمن مہم جوئی سے زیر کی جاسکتی ہیں۔
چنانچہ آپریشن ضرب عضب کی یہی وہ منطقی اور فکری و عسکری بنیاد ہے جس نے تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کو یک جان و یک زبان کردیا ہے اور ساتھ ہی دنیا پر یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند، جمہوری آدرش اور کثیرالمشربی نظام حیات و متحرک سماج کے عالمی کمٹمنٹ سے بدستور مربوط و منسلک ملک ہے اور انسانیت کے خلاف دہشت گردی کو سب سے بڑا حملہ تصور کرتا ہے۔دریں اثنا وزیراعظم نواز شریف نے مسلح افواج کے سربراہان کو اس بات کا یقین دلایا کہ حکومت، پوری قوم ، ملکی سلامتی بالخصوص شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح افواج پاکستان کے پیچھے کھڑی ہے،انھوں نے یقین دلایا کہ حکومت افواج پاکستان کی تمام ضروریات کو پورا کرے گی۔
حکومت اور ملک بھر کی سیاسی قوتوں کا وطن عزیز کے دفاع اور دہشت گردوں کو شکست عظیم سے دوچار کرنے کا عزم اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پاکستان کی دھرتی اب امن کی خواہش میں ایک انقلاب انگیز کروٹ لے رہی ہے۔ قوم دہشتگردی سے نمٹنے کی ہر کوشش اور محاذ پر اپنی مسلح افواج اور حکومت کے دوش بدوش رہے گی۔ وزیراعظم نے افواج پاکستان سے مکمل تعاون جاری رکھنے کے جس عزم کا اعادہ کیا وہ قوم کے جذبات کی حقیقی ترجمانی ہے ۔الطاف حسین نے کہا کہ پاک فوج کے سربراہ، ان کی ٹیم، افسروں اور جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو جان ہتھیلی پر رکھ کر وزیرستان میں آپریشن کررہے ہیں، انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایک وقت کا کھانا آئی ڈی پیزکو دیںیااس کے مساوی رقم چندے کی صورت میں انھیں بھیجیں۔
بلاشبہ ذمے دارانہ صحافت،مضبوط جمہوریت، مستحکم پاکستان سے مشروط ہے، پورا ملک دہشت گردی سے متاثر ہے اور فوج کی جانب سے اس حوالے سے شروع کیا گیا آپریشن ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے ہے اس لیے پوری قوم کو اس کی مکمل حمایت کرنی چاہیے ۔ سیاسی رہنمائوں نے جس مثالی انداز مین آپریشن ضرب عضب کی حمایت کی ہے اس کے دور رس اثرات جلد برآمد ہوں گے۔ اس موقع پر شیخ رشید نے خطاب میں کہا کہ ایم کیوایم نے فوج کے ساتھ کھڑے ہوکر حب الوطنی کا حق ادا کردیا، ، آئی ڈی پیز کا مسئلہ بہت نازک ہے، ان کا دل جیتنا بہت ضروری ہے، پاک فوج کے خلاف ہر سازش ناکام ہوگی۔
قوم اندر کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اختلافات ختم کردے ۔ الہیٰ بخش سومرو نے کہا کہ الطاف حسین نے افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسہ کرکے بڑا کام کیا ہے، پیپلزپارٹی کی صوبائی وزیر روبینہ قائم خانی نے کہا کہ دہشتگردوں کے مذموم عزائم خاک میں مل جائیں گے ، احمد رضا قصوری، احسان شاہ، حلیم عادل شیخ، کامران ٹیسوری، خرم نواز گنڈا پور اور جے سالک نے بھی خطاب کیا۔ الطاف حسین کے خطاب سے قبل شرکائے جلسہ نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھا اور پاک فوج کی خدمات پر انھیں سلام پیش کیا اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی، بعدازاں شرکاء کو افطاری کروائی گئی ۔
امید کی جانی چاہیے کہ قومی مفادات کو ذاتی ان اور ترجیحات پر مقدم رکھنے کی جس نئی روایت کا آج بیج بویا جارہا ہے اس کی فصل دہشت گردی کے خاتمے کے جشن کے ساتھ ہی قوم کاٹے گی۔اس روز قوم کا ہر فرد مسرور و شادمان ہوگا جب کہ دشمنوں کے چہرے لٹکے ہوئے ہوںگے۔