گیس بحران کے باوجود سی این جی کٹس اور سلنڈرز درآمد کرنے کی اجازت
فیصلہ حیران کن قرار، کٹس درآمد کرکے فروخت کرنے والی غیرملکی کمپنیوں اور کار مینوفیکچررز کو فائدہ پہنچے گا
صارفین کی مشکلات برقرار رہیں گی، اجازت جاپان اور اٹلی کے سرمایہ کاروں کے ڈپلومیٹک دباؤ پر دی گئی، ذرائع۔ فوٹو: فائل
ملک میں گیس کی شدید قلت اور ہفتے میں سی این جی کی 2 سے تین روز کی بندش کے باوجود سی این جی کٹس اور سلنڈرز کی درآمد کی اجازت دے دی گئی ہے۔
انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ سی این جی کٹس اور سلنڈر کی درآمد کی اجازت جاپان اور اٹلی کے سرمایہ کاروں کی جانب سے ڈپلومیٹک دبائو کے تحت دی گئی جس کا مقصد جاپان اور اٹلی کی سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق ملک میں قدرتی گیس کے بحران کے باوجود کٹس اور سلنڈرز کی درآمد کی اجازت حیران کن فیصلہ ہے، اس فیصلے سے ملک میں سی این جی کٹس درآمد کرکے فروخت کرنے والی غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ کارمینوفیکچرنگ کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا تاہم صارفین کی مشکلات بدستور برقرار رہیں گی۔
سی این جی کٹس فروخت کرنے والی اٹلی کی کمپنیاں اور جاپانی کار کمپنیاں گزشتہ 2 سال سے سی این جی کٹس اور سلنڈرز پر عائد پابندی کے خاتمے کی منتظر تھیں، فیکٹری فٹڈ سی این جی نہ ہونے کی وجہ سے کاروں کی فروخت میں بھی کمی کا سامنا تھا۔ ماہرین کے مطابق ملک میں گیس کی صورتحال میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوئی، گیس کا کوئی نیا ذخیرہ دریافت ہوا ہے نہ ہی ملک کے انرجی مکس میں کسی قسم کی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔
اس کے باوجود سی این جی کی حوصلہ افزائی کی پالیسی حیران کن ہے، صنعتوں میں گیس کی ہفتہ وار لوڈشیڈنگ بدستور نافذ ہے جبکہ ملک کے بیشتر شہروں میں صنعتی یونٹس پیداوار کے لیے گیس کے بجائے دیگر مہنگے ذرائع پر انحصار کرنے پرمجبور ہیں، حکومت کی جانب سے کٹ اور سلنڈرز کی درآمد کی اجازت ملنے کے بعد گیس کا ٹرانسپورٹ سیکٹر میں استعمال بڑھے گاجس سے کمرشل اور صنعتی صارفین کو مزید دبائو کا سامنا ہوگا۔
انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ سی این جی کٹس اور سلنڈر کی درآمد کی اجازت جاپان اور اٹلی کے سرمایہ کاروں کی جانب سے ڈپلومیٹک دبائو کے تحت دی گئی جس کا مقصد جاپان اور اٹلی کی سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق ملک میں قدرتی گیس کے بحران کے باوجود کٹس اور سلنڈرز کی درآمد کی اجازت حیران کن فیصلہ ہے، اس فیصلے سے ملک میں سی این جی کٹس درآمد کرکے فروخت کرنے والی غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ کارمینوفیکچرنگ کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا تاہم صارفین کی مشکلات بدستور برقرار رہیں گی۔
سی این جی کٹس فروخت کرنے والی اٹلی کی کمپنیاں اور جاپانی کار کمپنیاں گزشتہ 2 سال سے سی این جی کٹس اور سلنڈرز پر عائد پابندی کے خاتمے کی منتظر تھیں، فیکٹری فٹڈ سی این جی نہ ہونے کی وجہ سے کاروں کی فروخت میں بھی کمی کا سامنا تھا۔ ماہرین کے مطابق ملک میں گیس کی صورتحال میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوئی، گیس کا کوئی نیا ذخیرہ دریافت ہوا ہے نہ ہی ملک کے انرجی مکس میں کسی قسم کی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔
اس کے باوجود سی این جی کی حوصلہ افزائی کی پالیسی حیران کن ہے، صنعتوں میں گیس کی ہفتہ وار لوڈشیڈنگ بدستور نافذ ہے جبکہ ملک کے بیشتر شہروں میں صنعتی یونٹس پیداوار کے لیے گیس کے بجائے دیگر مہنگے ذرائع پر انحصار کرنے پرمجبور ہیں، حکومت کی جانب سے کٹ اور سلنڈرز کی درآمد کی اجازت ملنے کے بعد گیس کا ٹرانسپورٹ سیکٹر میں استعمال بڑھے گاجس سے کمرشل اور صنعتی صارفین کو مزید دبائو کا سامنا ہوگا۔