افغان طالبان کی ہلمند میں انسداد پولیو قطرے پلانے پرپابندی

افغانستان سے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں پولیو وائرس منتقل ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں

افغانستان سے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں پولیو وائرس منتقل ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں فوٹو: فائل

افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند میں افغان طالبان کی جانب سے انسداد پولیو قطرے پلانے پرپابندی لگانے کے بعد پولیو وائرس پاکستان میں منتقل ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

افغان حکام کے مطابق افغانستان میں حکومت کے خلاف برسر پیکارطالبان نے افغانستان کے جنوبی اور سرحدی صوبہ ہلمند میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے پر پابندی عائد کرنے کے بعد افغانستان سے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں پولیو وائرس منتقل ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں اور سرحدی علاقوں میں پولیو کیسز میں اضافہ ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔


چمن میں محکمہ صحت کے اہلکاروں نے پولیو وائرس کو سرحدپارسے روکنے کے لیے بھی اپنی کوششیں مزید تیز کردی ہے اور پاک افغان سرحد کو کراس کرنے والے چھوٹے بچوں کوپولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانیوالی ٹیموں کومتحرک اورسرحد پارکرنے والے بچوں کی مانیٹرنگ سخت کردی ہے۔

دریں اثناافغان طالبان نے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کو پولیوقطرے پلانے کے لیے مذاکرات کی دعوت دے دی، طالبان اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں اس شرط پرپولیوقطرے پلانے کی اجازت دینگے اگراقوام متحدہ کے ادارے جاسوسی نہ کرنے کی ضمانت دیں ایک بیان میں طالبان نے کہاکہ طالبان اقوام متحدہ کے اداروں کواس مسئلے پر بات چیت کی دعوت دیتے ہیں،کارکنان کو پولیوقطرے پلانے کی تربیت کی تجویزبھی دی تھی لیکن اس کوبھی قبول نہیں کیاگیا،طالبان نے الزام عائدکیاکہ اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیمیںپولیوقطروں کو سیاست اورطالبان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کررہی ہیں۔
Load Next Story