افغانستان میں اشرف غنی کی جیت
افغان صدارتی انتخابات کے ابتدائی اور غیرحتمی نتائج کے مطابق ماہرِ اقتصادیات اشرف غنی افغانستان کے صدر منتخب ہوگئے ہیں
صدارتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں اشرف غنی نے56.4 فیصد ووٹ لیے جب کہ سابق وزیرِ خارجہ عبداللہ عبداللہ43.5 فیصد ووٹ لے سکے۔ فوٹو؛فائل
افغان صدارتی انتخابات کے ابتدائی اور غیرحتمی نتائج کے مطابق ماہرِ اقتصادیات اشرف غنی افغانستان کے صدر منتخب ہوگئے ہیں جب کہ عبداللہ عبداللہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ افغانستان کے الیکشن کمیشن کے سربراہ احمد یوسف نورستانی نے کئی گھنٹوں کی تاخیر کے بعد کابل میں پریس کانفرنس کے دوران انتخابی نتائج کا اعلان کیا، انھوں نے بتایا کہ صدارتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں اشرف غنی نے56.4 فیصد ووٹ لیے جب کہ سابق وزیرِ خارجہ عبداللہ عبداللہ43.5 فیصد ووٹ لے سکے۔
ووٹر ٹرن آؤٹ 80 لاکھ سے زیادہ تھا، جو اندازوں سے کہیں بڑھ کر ہے تاہم احمد یوسف نورستانی نے دھاندلی کے الزامات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کچھ کیسز میں سیکیورٹی فورسز، گورنر اور حکومتی آفیشلز فراڈ میں ملوث تھے' ابھی مزید ووٹوں کی گنتی باقی ہے۔ حتمی نتائج جاری کرنے سے قبل ان الزامات کی وسیع پیمانے پر تحقیقات اور آڈٹ کریں گے۔ انتخابی عمل کے دوران تکنیکی مسائل اور فراڈ کو نظر انداز نہیں کر رہے۔ ہم انتخابات میں دھاندلی کو رد نہیں کر رہے، ان نتائج کو حتمی تصور نہ کیا جائے، تمام شکایات، اعتراضات اور ان کی تحقیقات کے بعد نتائج تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔
ادھر عبداللہ عبداللہ نے ابتدائی نتائج کو مسترد کر دیاہے ۔ انھوں نے الزام لگایا کہ حامد کرزئی نے اشرف غنی کو کامیاب کرانے کے لیے دھاندلی کرائی، انھوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں11ہزار پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی جائے۔ مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو انتخابی عمل تسلیم نہیں کریں گے، ادھر اشرف غنی نے کہا ہے کہ انھوں نے سخت محنت کی جس کا نتیجہ سامنے آگیا۔
ادھر امریکا نے افغان الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کی مکمل اور جامع تحقیقات پر زور دیا ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں تحقیقات میں تعاون کریں، امریکا کسی امیدوار کی حمایت نہیں کرتا۔ افغان عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رکھا جائے، شیڈول کے مطابق حتمی نتائج کا اعلان 22 جولائی کو ہونا ہے جب کہ نئے صدر 2اگست کو حلف اٹھائیں گے۔
اشرف غنی کی کامیابی کا اعلان یقیناً حیران کن ہے کیونکہ پہلے مرحلے میں عبداللہ عبداللہ سب سے آگے تھے جب کہ اشرف غنی دوسرے نمبر پر تھے اور ان کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد بھی خاصی کم تھی جب کہ تیسرے صدارتی امیدوار زلمے رسول خلیل زاد دوسرے مرحلے سے باہر ہو گئے تھے' دوسرے مرحلے کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ عبداللہ عبداللہ کامیاب ہو جائیں گے لیکن اگلے روز سامنے آنے والے نتائج نے سب کو حیران کر دیا ہے' افغان الیکشن کمیشن کے سربراہ کا بیان بھی خاصا مبہم ہے۔
انھوں نے الیکشن میں فراڈ یا دھاندلی کو کسی حد تک تسلیم کر لیا ہے' سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر یہ نتائج حتمی نہیں اور تبدیل بھی ہو سکتے ہیں اور ان میں دھاندلی کے امکانات بھی موجود ہیں تو پھر اشرف غنی کی کامیابی کا اعلان کیوں کیا گیا۔ یہ صورت حال یقینی طور پر خاصی مبہم ہے۔ ادھر عبداللہ عبداللہ نے بھی ان الیکشن کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے زیادہ انھوں نے فی الحال کچھ نہیں کہا تاہم افغانستان کی صورت حال کو بغور دیکھا جائے تو یہ ملک ایک نئے بحران کی طرف بڑھتا نظر آ رہا ہے اور خطرہ ہے کہ کہیں ملک میں خانہ جنگی نہ شروع ہو جائے۔
اشرف غنی افغانستان کی پشتون بیلٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے امریکا کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ وہ 1949 میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اعلیٰ تعلیم بھی امریکا سے حاصل کی۔ وہ ایک ماہر اقتصادیات ہیں' انھوں نے 1990ء میں عالمی بینک میں ملازمت اختیار کی' 2001 میں موجودہ صدر حامد کرزئی کے چیف ایڈوائزر کا عہدہ سنبھالا۔ 2002 سے 2004 کے دوران انھوں نے افغانستان کے وزیر خزانہ اور کابل یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یوں دیکھا جائے تو ان کا جھکائو واضح طور پر امریکا اور حامد کرزئی کی طرف نظر آتا ہے' اس کے برعکس عبداللہ عبداللہ کے شمالی اتحاد کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔
وہ سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے شمالی اتحاد کے گوریلا لیڈر احمد شاہ مسعود کے قریبی دوست رہے ہیں۔ 2001 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ ملک کے وزیر خارجہ بنے اور 2005 تک اس عہدے پر رہے' 2004 کے صدارتی الیکشن میں انھوں نے صدارتی الیکشن میں بطور آزاد امیدوار حصہ لیا تھا۔ اس الیکشن میں وہ دوسرے نمبر پر رہے تھے اور انھوں نے 30.5 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے تاہم انھوں نے دوسرے مرحلے کے الیکشن سے دستبرداری اختیار کر لی تھی' یوں حامد کرزئی کے صدر بننے کا راستہ صاف ہو گیا۔ حالیہ الیکشن میں وہ افغانستان کی متحدہ اپوزیشن کے لیڈر تھے جن میں افغانستان کی کئی پارٹیاں شامل ہیں۔
یوں دیکھا جائے تو عبداللہ عبداللہ حالیہ الیکشن میں انتہائی مضبوط امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے تھے' ان کی ہار کو افغانستان کے شمالی علاقوں میں رہنے والے لوگ بمشکل تسلیم کریں گے' شاید یہی وجہ ہے کہ امریکا نے بھی کھل کر اشرف غنی کی حمایت نہیں کی' اشرف غنی شاید امریکا کے لیے زیادہ قابل قبول ہیں لیکن ان کی متنازعہ جیت افغانستان کے لیے بہت سے مسائل کا باعث بن سکتی ہے' اس لیے امریکا نے بھی کھل کر ان کی حمایت نہیں کی۔ اگر موجودہ صورت حال کو سنبھالا نہ گیا تو افغانستان میں شمالی اتحاد امریکا کے خلاف ہو سکتا ہے جس سے افغانستان کے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔
اس صورت حال میں طالبان کی تحریک زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے جو امریکا کے لیے خاصی خطر ناک ہو گی۔ پاکستان کو اس صورت حال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ شمالی اتحاد روایتی طور پر پاکستان مخالف سمجھا جاتا ہے۔ ادھر افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا بھی ہونا ہے۔ پاکستان شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہا ہے۔ اس موقعے پر پاکستان کو غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے تاکہ کوئی افغان گروپ پاکستان پر انگلی نہ اٹھا سکے۔
ادھر افغانستان کے صدارتی امیدواروں اور ان کے حامیوں کو بھی چاہیے کہ وہ موجودہ صورت حال کا سامنا تدبر اور صبر و تحمل سے کریں۔ افغانستان برسوں سے عدم استحکام کا شکار چلا آ ہا ہے لیکن اس کی وحدت پوری طرح برقرار رہی ہے۔ اگر موجودہ صورت حال کو سنبھالا نہ گیا اور معاملات بگڑے تو پھر افغانستان میں ایک نئی چپقلش شروع ہو جائے گی اور ملک واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ اس صورت حال سے بچنے کا بہتر طریقہ یہی ہے کہ افغانستان کے تمام لسانی اور نسلی گروہ افہام و تفہیم سے کام لیں اور کسی ایک امید وار کی جیت پر اتفاق کر لیں تاکہ افغانستان میں جمہوری عمل جاری رہے۔
ووٹر ٹرن آؤٹ 80 لاکھ سے زیادہ تھا، جو اندازوں سے کہیں بڑھ کر ہے تاہم احمد یوسف نورستانی نے دھاندلی کے الزامات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کچھ کیسز میں سیکیورٹی فورسز، گورنر اور حکومتی آفیشلز فراڈ میں ملوث تھے' ابھی مزید ووٹوں کی گنتی باقی ہے۔ حتمی نتائج جاری کرنے سے قبل ان الزامات کی وسیع پیمانے پر تحقیقات اور آڈٹ کریں گے۔ انتخابی عمل کے دوران تکنیکی مسائل اور فراڈ کو نظر انداز نہیں کر رہے۔ ہم انتخابات میں دھاندلی کو رد نہیں کر رہے، ان نتائج کو حتمی تصور نہ کیا جائے، تمام شکایات، اعتراضات اور ان کی تحقیقات کے بعد نتائج تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔
ادھر عبداللہ عبداللہ نے ابتدائی نتائج کو مسترد کر دیاہے ۔ انھوں نے الزام لگایا کہ حامد کرزئی نے اشرف غنی کو کامیاب کرانے کے لیے دھاندلی کرائی، انھوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں11ہزار پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی جائے۔ مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو انتخابی عمل تسلیم نہیں کریں گے، ادھر اشرف غنی نے کہا ہے کہ انھوں نے سخت محنت کی جس کا نتیجہ سامنے آگیا۔
ادھر امریکا نے افغان الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کی مکمل اور جامع تحقیقات پر زور دیا ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں تحقیقات میں تعاون کریں، امریکا کسی امیدوار کی حمایت نہیں کرتا۔ افغان عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رکھا جائے، شیڈول کے مطابق حتمی نتائج کا اعلان 22 جولائی کو ہونا ہے جب کہ نئے صدر 2اگست کو حلف اٹھائیں گے۔
اشرف غنی کی کامیابی کا اعلان یقیناً حیران کن ہے کیونکہ پہلے مرحلے میں عبداللہ عبداللہ سب سے آگے تھے جب کہ اشرف غنی دوسرے نمبر پر تھے اور ان کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد بھی خاصی کم تھی جب کہ تیسرے صدارتی امیدوار زلمے رسول خلیل زاد دوسرے مرحلے سے باہر ہو گئے تھے' دوسرے مرحلے کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ عبداللہ عبداللہ کامیاب ہو جائیں گے لیکن اگلے روز سامنے آنے والے نتائج نے سب کو حیران کر دیا ہے' افغان الیکشن کمیشن کے سربراہ کا بیان بھی خاصا مبہم ہے۔
انھوں نے الیکشن میں فراڈ یا دھاندلی کو کسی حد تک تسلیم کر لیا ہے' سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر یہ نتائج حتمی نہیں اور تبدیل بھی ہو سکتے ہیں اور ان میں دھاندلی کے امکانات بھی موجود ہیں تو پھر اشرف غنی کی کامیابی کا اعلان کیوں کیا گیا۔ یہ صورت حال یقینی طور پر خاصی مبہم ہے۔ ادھر عبداللہ عبداللہ نے بھی ان الیکشن کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس سے زیادہ انھوں نے فی الحال کچھ نہیں کہا تاہم افغانستان کی صورت حال کو بغور دیکھا جائے تو یہ ملک ایک نئے بحران کی طرف بڑھتا نظر آ رہا ہے اور خطرہ ہے کہ کہیں ملک میں خانہ جنگی نہ شروع ہو جائے۔
اشرف غنی افغانستان کی پشتون بیلٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے امریکا کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ وہ 1949 میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اعلیٰ تعلیم بھی امریکا سے حاصل کی۔ وہ ایک ماہر اقتصادیات ہیں' انھوں نے 1990ء میں عالمی بینک میں ملازمت اختیار کی' 2001 میں موجودہ صدر حامد کرزئی کے چیف ایڈوائزر کا عہدہ سنبھالا۔ 2002 سے 2004 کے دوران انھوں نے افغانستان کے وزیر خزانہ اور کابل یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یوں دیکھا جائے تو ان کا جھکائو واضح طور پر امریکا اور حامد کرزئی کی طرف نظر آتا ہے' اس کے برعکس عبداللہ عبداللہ کے شمالی اتحاد کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔
وہ سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے شمالی اتحاد کے گوریلا لیڈر احمد شاہ مسعود کے قریبی دوست رہے ہیں۔ 2001 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ ملک کے وزیر خارجہ بنے اور 2005 تک اس عہدے پر رہے' 2004 کے صدارتی الیکشن میں انھوں نے صدارتی الیکشن میں بطور آزاد امیدوار حصہ لیا تھا۔ اس الیکشن میں وہ دوسرے نمبر پر رہے تھے اور انھوں نے 30.5 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے تاہم انھوں نے دوسرے مرحلے کے الیکشن سے دستبرداری اختیار کر لی تھی' یوں حامد کرزئی کے صدر بننے کا راستہ صاف ہو گیا۔ حالیہ الیکشن میں وہ افغانستان کی متحدہ اپوزیشن کے لیڈر تھے جن میں افغانستان کی کئی پارٹیاں شامل ہیں۔
یوں دیکھا جائے تو عبداللہ عبداللہ حالیہ الیکشن میں انتہائی مضبوط امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے تھے' ان کی ہار کو افغانستان کے شمالی علاقوں میں رہنے والے لوگ بمشکل تسلیم کریں گے' شاید یہی وجہ ہے کہ امریکا نے بھی کھل کر اشرف غنی کی حمایت نہیں کی' اشرف غنی شاید امریکا کے لیے زیادہ قابل قبول ہیں لیکن ان کی متنازعہ جیت افغانستان کے لیے بہت سے مسائل کا باعث بن سکتی ہے' اس لیے امریکا نے بھی کھل کر ان کی حمایت نہیں کی۔ اگر موجودہ صورت حال کو سنبھالا نہ گیا تو افغانستان میں شمالی اتحاد امریکا کے خلاف ہو سکتا ہے جس سے افغانستان کے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔
اس صورت حال میں طالبان کی تحریک زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے جو امریکا کے لیے خاصی خطر ناک ہو گی۔ پاکستان کو اس صورت حال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ شمالی اتحاد روایتی طور پر پاکستان مخالف سمجھا جاتا ہے۔ ادھر افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا بھی ہونا ہے۔ پاکستان شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہا ہے۔ اس موقعے پر پاکستان کو غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے تاکہ کوئی افغان گروپ پاکستان پر انگلی نہ اٹھا سکے۔
ادھر افغانستان کے صدارتی امیدواروں اور ان کے حامیوں کو بھی چاہیے کہ وہ موجودہ صورت حال کا سامنا تدبر اور صبر و تحمل سے کریں۔ افغانستان برسوں سے عدم استحکام کا شکار چلا آ ہا ہے لیکن اس کی وحدت پوری طرح برقرار رہی ہے۔ اگر موجودہ صورت حال کو سنبھالا نہ گیا اور معاملات بگڑے تو پھر افغانستان میں ایک نئی چپقلش شروع ہو جائے گی اور ملک واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ اس صورت حال سے بچنے کا بہتر طریقہ یہی ہے کہ افغانستان کے تمام لسانی اور نسلی گروہ افہام و تفہیم سے کام لیں اور کسی ایک امید وار کی جیت پر اتفاق کر لیں تاکہ افغانستان میں جمہوری عمل جاری رہے۔