گورنر ہائوس میں علماء کا اجلاس گستاخانہ فلم کا معاملہ ہر سطح پر اٹھایا جائے گا عشرت العباد
احتجاج وقت کا تقاضاہےاسے رسول اللہؐ سے عشق کے تقاضےسےمزین ہونا چاہیے،گورنرسندھ،مسلم ممالک کےسفارتکاروں کوبلانےکافیصلہ
احتجاج وقت کا تقاضا ہے اسے رسول اللہؐ سے عشق کے تقاضے سے مزین ہونا چاہیے،گورنرسندھ،مسلم ممالک کے سفارتکاروں کوبلانے کا فیصلہ۔ فوٹو: فائل
گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان کی زیرصدارت گورنر ہائوس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام کی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کہاگیا کہ دل آزار فلم کے اجراء کے باعث دنیا بھر میں ڈیرھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور اس کے خلاف ان کا احتجاج فطری رد عمل ہے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ حکومت خود بھی اس احتجاج میں شامل ہے ۔ عالم اسلام کو اس عمل سے دکھ پہنچا ہے، صدر پاکستان نے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ حکومت کا یہ عزم ہے کہ اس معاملے کو ہر سطح پر اٹھایا جائے گا اور اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک ایسے عوامل کا سدباب نہ ہوجائے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ احتجاج وقت کا تقاضا ضرور ہے لیکن اس کو رسول اللہ ؐ سے عشق کے تقاضے سے مزین ہوناچاہیے۔احتجاج کرتے وقت جان مال ، عزت و آبرو کی حفاظت اس محبت و عشق کا اولین تقاضاہے ۔ عشرت العبادنے کہاکہ گورنر ہائوس میں کراچی میں متعین تمام اسلامی ممالک کے سفارت کاروں اور پھر دیگر ممالک کے سفارت کاروں کو مدعو کیا جائے گا اور اس حوالے سے پاکستانیوں اور مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کیا جائے گا۔
علمائے کرام کی نمائندگی کرتے ہوئے ممتاز عالم دین اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ یوم عشق رسول ؐ منانا حکومت کا ایک احسن اقدام ہے لیکن ایک روز مناکر یا احتجاج کرکے اپنے فرض سے عہدہ براں نہیں ہوسکتے بلکہ ناموس رسالت ؐ کیلیے بھرپور جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ کسی ملعون کو ایسی جرات نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ اجلاس میں طے پایا ہے کہ اسلامی کانفرنس کا اجلاس فوری بلایا جائے اور اقوام متحدہ پر دبائو بڑھایا جائے کہ کسی بھی نبی ، رسول یا آسمانی کتاب کی توہین کو بد ترین جرم قرار دیا جائے اور ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ ایسے ممالک جہاں سے ایسے فتنے سر اٹھاتے ہیں ان ممالک کا پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک بھی مکمل بائیکاٹ کریں ۔ اجلاس میں مشترکہ طور پر درج ذیل قرار دادیں منظور کی گئیں۔
اسلام پوری دنیا کیلیے امن و سلامتی کا مذہب ہے اور پوری دنیا کی سلامتی کی ضمانت دیتا ہے،بنی کریم ؐ پوری کائنات کے رحمت العالمین ہیں ان کی ذات اقدس انسانیت کی بقا کی علامت ہے۔ آپ ؐ کی ذات پوری انسانیت خصوصاً مسلمانوں کے لیے اولین حیثیت کی حامل ہے جس پر ہر مسلمان کی جان و مال بھی قربان ہے۔ ہم حکومت پاکستان سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ باضابطہ طورپرامریکی حکومت کو مسلمانوں خصوصاً پاکستانیوں کے جذبات سے آگاہ کریں اور توہین آمیز فلم اور خاکوں کی تشہیر کو روکے اور اسے سوشل میڈیا سے نکالا جائے اور او آئی سی کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے یو این او کو پابند کیا جائے کہ وہ اس سلسلے میں قانون سازی کرے تاکہ کسی کو آئندہ ایسی جرات نہ ہوسکے ۔
علماء کرام مسلم دنیا باالخصوص پاکستانیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے مسلم بھائیوں اور سرکاری املاک کو ہرگز نقصان نہ پہنچائیں پر امن احتجاج سب کا حق ہے اور یہی عشق رسول ؐ کا تقاضا بھی ہے ۔ عشق رسول ؐ کی عظمت کو سمجھتے ہوئے اپنی اور اپنے مسلم بھائیوں کی جان ومال کی حفاظت کریں ۔علماء کرام نے پر تشدد واقعات کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحقیقا ت کی جائے اور ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔ اقوام متحدہ میں او آئی سی مشترکہ قرارداد لائے ایسے تمام ممالک کا بائیکاٹ کیا جائے جو ان کی سرپرستی کرتے ہیں۔ ایسی قانون سازی کی جائے جس میں کسی بھی بنی ؐ یا آسمانی کتاب کی ادنیٰ سی گستاخی کرنے پر اسے عبرتناک سزا دی جائے ۔
علمائے کرام اور معروف قانون دان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو قانون سازی کے عمل کو مکمل کرے ۔ کانفرنس میں مفتی منیب الرحمن ، مولانا یعقوب عطاری ، حافظ محمد سلفی ، مولانا محمود سلفی ، علامہ عباس کمیلی ، شبر رضا ،علامہ شبیر الحسن ، سلمان مجتبیٰ ، علامہ باقر زیدی ، مفتی محمد تقی عثمانی ، مفتی محمد رفیع عثمانی ، قاری محمد عثمان ،مولانا عبد الکریم عابد ، مولانا حما د اللہ شاہ ، مولانا اسد تھانوی ، ضمیر اختر ، متین اختر، فیرو الدین رحمنی ، مفتی محمد نعیم اور دیگر علما کے علاوہ صوبائی وزیر رضا ہارون ، کمشنر کراچی روشن علی شیخ اور دیگر حکام نے بھی شرکت کی ۔
گورنر سندھ نے کہا کہ حکومت خود بھی اس احتجاج میں شامل ہے ۔ عالم اسلام کو اس عمل سے دکھ پہنچا ہے، صدر پاکستان نے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ حکومت کا یہ عزم ہے کہ اس معاملے کو ہر سطح پر اٹھایا جائے گا اور اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک ایسے عوامل کا سدباب نہ ہوجائے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ احتجاج وقت کا تقاضا ضرور ہے لیکن اس کو رسول اللہ ؐ سے عشق کے تقاضے سے مزین ہوناچاہیے۔احتجاج کرتے وقت جان مال ، عزت و آبرو کی حفاظت اس محبت و عشق کا اولین تقاضاہے ۔ عشرت العبادنے کہاکہ گورنر ہائوس میں کراچی میں متعین تمام اسلامی ممالک کے سفارت کاروں اور پھر دیگر ممالک کے سفارت کاروں کو مدعو کیا جائے گا اور اس حوالے سے پاکستانیوں اور مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کیا جائے گا۔
علمائے کرام کی نمائندگی کرتے ہوئے ممتاز عالم دین اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ یوم عشق رسول ؐ منانا حکومت کا ایک احسن اقدام ہے لیکن ایک روز مناکر یا احتجاج کرکے اپنے فرض سے عہدہ براں نہیں ہوسکتے بلکہ ناموس رسالت ؐ کیلیے بھرپور جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ کسی ملعون کو ایسی جرات نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ اجلاس میں طے پایا ہے کہ اسلامی کانفرنس کا اجلاس فوری بلایا جائے اور اقوام متحدہ پر دبائو بڑھایا جائے کہ کسی بھی نبی ، رسول یا آسمانی کتاب کی توہین کو بد ترین جرم قرار دیا جائے اور ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ ایسے ممالک جہاں سے ایسے فتنے سر اٹھاتے ہیں ان ممالک کا پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک بھی مکمل بائیکاٹ کریں ۔ اجلاس میں مشترکہ طور پر درج ذیل قرار دادیں منظور کی گئیں۔
اسلام پوری دنیا کیلیے امن و سلامتی کا مذہب ہے اور پوری دنیا کی سلامتی کی ضمانت دیتا ہے،بنی کریم ؐ پوری کائنات کے رحمت العالمین ہیں ان کی ذات اقدس انسانیت کی بقا کی علامت ہے۔ آپ ؐ کی ذات پوری انسانیت خصوصاً مسلمانوں کے لیے اولین حیثیت کی حامل ہے جس پر ہر مسلمان کی جان و مال بھی قربان ہے۔ ہم حکومت پاکستان سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ باضابطہ طورپرامریکی حکومت کو مسلمانوں خصوصاً پاکستانیوں کے جذبات سے آگاہ کریں اور توہین آمیز فلم اور خاکوں کی تشہیر کو روکے اور اسے سوشل میڈیا سے نکالا جائے اور او آئی سی کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے یو این او کو پابند کیا جائے کہ وہ اس سلسلے میں قانون سازی کرے تاکہ کسی کو آئندہ ایسی جرات نہ ہوسکے ۔
علماء کرام مسلم دنیا باالخصوص پاکستانیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے مسلم بھائیوں اور سرکاری املاک کو ہرگز نقصان نہ پہنچائیں پر امن احتجاج سب کا حق ہے اور یہی عشق رسول ؐ کا تقاضا بھی ہے ۔ عشق رسول ؐ کی عظمت کو سمجھتے ہوئے اپنی اور اپنے مسلم بھائیوں کی جان ومال کی حفاظت کریں ۔علماء کرام نے پر تشدد واقعات کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحقیقا ت کی جائے اور ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔ اقوام متحدہ میں او آئی سی مشترکہ قرارداد لائے ایسے تمام ممالک کا بائیکاٹ کیا جائے جو ان کی سرپرستی کرتے ہیں۔ ایسی قانون سازی کی جائے جس میں کسی بھی بنی ؐ یا آسمانی کتاب کی ادنیٰ سی گستاخی کرنے پر اسے عبرتناک سزا دی جائے ۔
علمائے کرام اور معروف قانون دان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو قانون سازی کے عمل کو مکمل کرے ۔ کانفرنس میں مفتی منیب الرحمن ، مولانا یعقوب عطاری ، حافظ محمد سلفی ، مولانا محمود سلفی ، علامہ عباس کمیلی ، شبر رضا ،علامہ شبیر الحسن ، سلمان مجتبیٰ ، علامہ باقر زیدی ، مفتی محمد تقی عثمانی ، مفتی محمد رفیع عثمانی ، قاری محمد عثمان ،مولانا عبد الکریم عابد ، مولانا حما د اللہ شاہ ، مولانا اسد تھانوی ، ضمیر اختر ، متین اختر، فیرو الدین رحمنی ، مفتی محمد نعیم اور دیگر علما کے علاوہ صوبائی وزیر رضا ہارون ، کمشنر کراچی روشن علی شیخ اور دیگر حکام نے بھی شرکت کی ۔