قتل کرنااملاک جلاناکونساعشق نبیؐ ہےاحسن اقبال
شدت پسندوں نے ماحول کوخراب کیا،اسلم مسیح گل ’’تکرار‘‘میں ڈاکٹر عثمان کی بھی گفتگو.
شدت پسندوں نے ماحول کوخراب کیا،اسلم مسیح گل ’’تکرار‘‘میں ڈاکٹر عثمان کی بھی گفتگو. فوٹو: این این آئی/فائل
مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہاہے کہ شرمناک فلم کی بھرپورمذمت کرتے ہیں لیکن آج کے مناظر دیکھ کر میرا بہت دل دکھاہے ۔
پروگرام تکرارمیں اینکر پرسن عمران خان سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ پوری دنیا کے لیے رحمت بن کرآنے والی شخصیت کی محبت میں ہم نے کون سارویہ اختیار کیاہے یہ کون سا عشق نبیؐ ہے جس میں بینک لوٹنے کی اجازت ہے ،جس میں لوگوں کوقتل کرنا جائزہے،جس میںمسلمانوں کی املاک کونقصان پہنچایاجائے۔آج دل دہلا دینے والے مناظردیکھے ہیں ۔1960 تک یہودیوں کی امریکامیں پوزیشن اتنی اچھی نہیں تھی لیکن انھوں نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلائی امریکی تھنک ٹینک میں اپنی جگہ بنائی اپنے آپ کو اس قابل کیا کہ امریکاکویہودیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنا پڑی۔
جنھوں نے گستاخانہ فلم بنائی وہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اسلام ایک شدت پسند مذہب ہے اورہم نے ان کو جوازفراہم کردیاہے ۔اگر ہم نے غلبہ لینا ہے تو ہمیں علم تحقیق ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنا ہوگا تمام قوموں سے زیادہ دیانت اورمحنت کرنا ہوگی یہ مسل پاورکادور نہیں برین پاورکادورہے ۔عالم دین علامہ راغب نعیمی نے کہاکہ میں آج کے واقعات کی شدید مذمت کرتاہوں آج سارے پاکستان کا سرشرم سے جھک گیا۔ ہم نے بھی احتجاج کیاہے پانچ سے چھ ہزار لوگوں کے ساتھ ہم بھی نکلے تھے مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ جب عوام کسی لیڈرکے بغیر نکلیںگے تو پھر اس طرح کے واقعات کا ہونا کچھ بڑی بات نہیں ہے۔
اقلیتی وزیر اسلم مسیح گل نے کہاکہ ہم گستاخانہ فلم کی بھرپورمذمت کرتے ہیں شدت پسنددنیا بھر میں موجود ہیں جو مذاہب کو لڑانا چاہتے ہیںعیسائیت میں تمام مذاہب کے احترام کی تعلیم دی جاتی ہے ۔آج غصہ دکھانے کادن نہیںتھا۔چند شدت پسندوں نے سارے ماحول کو خراب کردیا ۔اسکالر ڈاکٹر عثمان نے کہاکہ ہمارے ملک میں تعلیم کی شدید کمی ہے کسی بھی حکومت نے تعلیم پر توجہ نہیں دی ۔گستاخانہ فلم کا مقصد یہی تھا کہ مسلمانوں کو مشتعل کریں اور ان کا مقصد حل ہوگیا ۔
پروگرام تکرارمیں اینکر پرسن عمران خان سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ پوری دنیا کے لیے رحمت بن کرآنے والی شخصیت کی محبت میں ہم نے کون سارویہ اختیار کیاہے یہ کون سا عشق نبیؐ ہے جس میں بینک لوٹنے کی اجازت ہے ،جس میں لوگوں کوقتل کرنا جائزہے،جس میںمسلمانوں کی املاک کونقصان پہنچایاجائے۔آج دل دہلا دینے والے مناظردیکھے ہیں ۔1960 تک یہودیوں کی امریکامیں پوزیشن اتنی اچھی نہیں تھی لیکن انھوں نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلائی امریکی تھنک ٹینک میں اپنی جگہ بنائی اپنے آپ کو اس قابل کیا کہ امریکاکویہودیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنا پڑی۔
جنھوں نے گستاخانہ فلم بنائی وہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اسلام ایک شدت پسند مذہب ہے اورہم نے ان کو جوازفراہم کردیاہے ۔اگر ہم نے غلبہ لینا ہے تو ہمیں علم تحقیق ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنا ہوگا تمام قوموں سے زیادہ دیانت اورمحنت کرنا ہوگی یہ مسل پاورکادور نہیں برین پاورکادورہے ۔عالم دین علامہ راغب نعیمی نے کہاکہ میں آج کے واقعات کی شدید مذمت کرتاہوں آج سارے پاکستان کا سرشرم سے جھک گیا۔ ہم نے بھی احتجاج کیاہے پانچ سے چھ ہزار لوگوں کے ساتھ ہم بھی نکلے تھے مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ جب عوام کسی لیڈرکے بغیر نکلیںگے تو پھر اس طرح کے واقعات کا ہونا کچھ بڑی بات نہیں ہے۔
اقلیتی وزیر اسلم مسیح گل نے کہاکہ ہم گستاخانہ فلم کی بھرپورمذمت کرتے ہیں شدت پسنددنیا بھر میں موجود ہیں جو مذاہب کو لڑانا چاہتے ہیںعیسائیت میں تمام مذاہب کے احترام کی تعلیم دی جاتی ہے ۔آج غصہ دکھانے کادن نہیںتھا۔چند شدت پسندوں نے سارے ماحول کو خراب کردیا ۔اسکالر ڈاکٹر عثمان نے کہاکہ ہمارے ملک میں تعلیم کی شدید کمی ہے کسی بھی حکومت نے تعلیم پر توجہ نہیں دی ۔گستاخانہ فلم کا مقصد یہی تھا کہ مسلمانوں کو مشتعل کریں اور ان کا مقصد حل ہوگیا ۔