تعطیل پرامن احتجاج کیلیے کی تھیتشددکیلیے نہیںکائرہ
ن لیگ،پیپلزپارٹی ،پی ٹی آئی کسی کالیڈرنظرنہیں آیا،مظہرعباس’’ٹودی پوائنٹ‘‘میں گفتگو.
ن لیگ،پیپلزپارٹی ،پی ٹی آئی کسی کالیڈرنظرنہیں آیا،مظہرعباس’’ٹودی پوائنٹ‘‘میں گفتگو۔ فوٹو: ای پی اے/فائل
وفاقی وزیراطلاعا ت قمرزمان کائرہ نے کہاہے کہ جس دن گستاخانہ فلم کا واقعہ رونما ہوا تودفترخارجہ کی طرف سے مذمتی بیان جاری کیا گیا۔
پاکستان تمام اسلامی ملکوں میںواحد ملک ہے جس نے سرکاری سطح پر گستاخانہ فلم پراحتجاج کیا ۔پروگرام ٹودی پوائنٹ میں اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں انھوںنے کہاکہ ہم نے اقوام عالم سے کہاکہ اس طرح کے واقعات نہ ہونے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ امریکاکی طرف سے مذمتی بیانات ایسے ہی جاری نہیں ہورہے ۔جو لوگ پولیس کوبرداشت نہیں کررہے تھے اگر وہاں پر پیپلزپارٹی ہوتی توپھر شاید فساد ہوتا ۔ پرامن احتجاج کے لیے تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا نہ کہ اس طرح کے بدترین پرتشدد احتجاج کے لیے ۔مذہبی اسکالر ڈاکٹرعامر لیاقت نے کہاکہ آج پاکستان میں جوکچھ ہوا اس سے سب کے سر شرم سے جھک گئے ہیں ۔
جب پرنسپل یہ کہہ کرچلا جائے کہ آج چھٹی ہے تو پھر طلباجومرضی آئے وہ کریں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب ایک سازش کے تحت کیا گیاہے تاکہ باہر یہ پیغام دیاجائے کہ اگرہم نے عوام کوایسے ہی چھوڑدیا تو پھر یہ جاہلوں جیساری ایکٹ کرسکتے ہیں،صحافی انصارعباسی نے کہاکہ جو شخص دین کی سمجھ رکھتاہے وہ اس قسم کا پرتشدد احتجاج کرتا ہی نہیں وہ اس طرح کافعل کرتا ہی نہیں ۔احتجاج ہوناچاہیے لیکن وہ پرتشدد نہیں پرامن ہونا چاہیے تاکہ دنیا کو یہ پیغام ملے کہ مسلمان ایک سمجھدار قوم ہیں۔اگر حکومت کے اعلان پر ہونے والے احتجاج کو منظم انداز میں کیا جاتا تو یہ نتائج نہ نکلتے۔ آج ساری قیادت غائب تھی نہ حکومت تھی اورنہ اپوزیشن کہیں نظر آئی ۔صحافی مظہر عباس نے کہاکہ جتنا پاکستان آج لیڈر لیس نظر آیا کبھی اتنا محسوس نہیں ہوا تھا ۔جن لوگوں نے احتجاج کی کال دی تھی وہ لیڈرشپ کہاں تھی مسلم لیگ ،تحریک انصاف ،پیپلزپارٹی کوئی بھی نظر نہیں آئی ۔
پاکستان تمام اسلامی ملکوں میںواحد ملک ہے جس نے سرکاری سطح پر گستاخانہ فلم پراحتجاج کیا ۔پروگرام ٹودی پوائنٹ میں اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں انھوںنے کہاکہ ہم نے اقوام عالم سے کہاکہ اس طرح کے واقعات نہ ہونے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ امریکاکی طرف سے مذمتی بیانات ایسے ہی جاری نہیں ہورہے ۔جو لوگ پولیس کوبرداشت نہیں کررہے تھے اگر وہاں پر پیپلزپارٹی ہوتی توپھر شاید فساد ہوتا ۔ پرامن احتجاج کے لیے تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا نہ کہ اس طرح کے بدترین پرتشدد احتجاج کے لیے ۔مذہبی اسکالر ڈاکٹرعامر لیاقت نے کہاکہ آج پاکستان میں جوکچھ ہوا اس سے سب کے سر شرم سے جھک گئے ہیں ۔
جب پرنسپل یہ کہہ کرچلا جائے کہ آج چھٹی ہے تو پھر طلباجومرضی آئے وہ کریں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب ایک سازش کے تحت کیا گیاہے تاکہ باہر یہ پیغام دیاجائے کہ اگرہم نے عوام کوایسے ہی چھوڑدیا تو پھر یہ جاہلوں جیساری ایکٹ کرسکتے ہیں،صحافی انصارعباسی نے کہاکہ جو شخص دین کی سمجھ رکھتاہے وہ اس قسم کا پرتشدد احتجاج کرتا ہی نہیں وہ اس طرح کافعل کرتا ہی نہیں ۔احتجاج ہوناچاہیے لیکن وہ پرتشدد نہیں پرامن ہونا چاہیے تاکہ دنیا کو یہ پیغام ملے کہ مسلمان ایک سمجھدار قوم ہیں۔اگر حکومت کے اعلان پر ہونے والے احتجاج کو منظم انداز میں کیا جاتا تو یہ نتائج نہ نکلتے۔ آج ساری قیادت غائب تھی نہ حکومت تھی اورنہ اپوزیشن کہیں نظر آئی ۔صحافی مظہر عباس نے کہاکہ جتنا پاکستان آج لیڈر لیس نظر آیا کبھی اتنا محسوس نہیں ہوا تھا ۔جن لوگوں نے احتجاج کی کال دی تھی وہ لیڈرشپ کہاں تھی مسلم لیگ ،تحریک انصاف ،پیپلزپارٹی کوئی بھی نظر نہیں آئی ۔