اقوام متحدہ فلسطینیوں کا قتل عام رکوائے
فلسطینیوں نے بھی عجب قسمت پائی ہے کہ وہ اپنی ہی سرزمین پر بے اماں اور بے وطن ہیں اور ایک جبر مسلسل کا انھیں سامنا ہے
فلسطینی صدر محمود عباس نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دبائو بڑھائے تاکہ وہ بمباری سے باز رہے۔ فوٹو: رائٹرز
فلسطینیوں نے بھی عجب قسمت پائی ہے کہ وہ اپنی ہی سرزمین پر بے اماں اور بے وطن ہیں اور ایک جبر مسلسل کا انھیں سامنا ہے، رمضان المبارک عالم اسلام کے لیے رب کائنات کی رحمتوں کے حصول ، عبادات اور امن کا مہینہ ہے ، لیکن نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں مزید 17فلسطینی شہریوں کو شہید اور100سے زائد کو زخمی کرنے کی اطلاعات نے مسلمانوں کو دل گرفتہ کردیا ہے۔ اس موقعے پر فلسطینی صدر محمود عباس نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دبائو بڑھائے تاکہ وہ بمباری سے باز رہے۔
بظاہر تو ان حملوں کی وجہ تسمیہ اسرائیل نے حماس کے ٹھکانوں کو ختم کرنا بتایا ہے لیکن سوچ کا انداز وہی متکبرانہ اور ظالمانہ ہے کہ نشانہ نہتے اور معصوم شہریوں کے گھروں کو بنایا جاتا ہے اور اس میں بچوں یا خواتین یا ضعیف افراد کی موجودگی کی پرواہ نہیں کی جاتی ۔اخباری اطلاعات کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ نے غزہ کی سرحد پر تعینات کرنے کے لیے مزید 40 ہزار مخصوص فوجیوں کو طلب کرتے ہوئے حماس کے خلاف '' پروٹیکٹیو ایج '' کے نام سے فضائی آپریشن کا آغاز کردیا۔
ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کا ثبوت اسرائیلی وزیر خارجہ کا بیان ہے کہ ہمارے پاس80 کلومیٹر تک مار کرنے والے سیکڑوں میزائل موجود ہیں جو یقینا اسرائیل نہتے شہریوں پر برسانا چاہتا ہے ، دراصل مسلمان ممالک اور بالخصوص عرب ممالک کے درمیان اتحاد ویکجہتی کا فقدان ہے جس کا فائدہ اسرائیل امریکا کی سرپرستی میں اٹھا رہا ہے اوردست قاتل کو روکنے والا کوئی نہیں،عرب لیگ تو صرف موجودہ صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا روایتی مطالبہ کر رہی ہے جب کہ دوسری جانب امریکا اور اقوام متحدہ نے غزہ سے اسرائیلی علاقے میں راکٹ فائرکرنے کی مذمت کی ہے۔
مقام حیرت ہے کہ انھیں اسرائیل کی نہتے شہریوں پر بمباری کے نتیجے میں ہونے والا کثیرجانی ومالی نقصان نظر نہیں آرہا یا ان کی آنکھوں پر عصبیت کی پٹی بندھی ہوئی ہے ۔ اقوام عالم کے ضمیرکے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اسرائیل کو جارحیت اور بمباری سے روکے اور نہتے فلسطینیوں کا قتل عام رکوائے۔ عالم اسلام اور اسلامی تنظیمیں بھی عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ اسرائیل کو لگام تو دینی پڑے گی۔
بظاہر تو ان حملوں کی وجہ تسمیہ اسرائیل نے حماس کے ٹھکانوں کو ختم کرنا بتایا ہے لیکن سوچ کا انداز وہی متکبرانہ اور ظالمانہ ہے کہ نشانہ نہتے اور معصوم شہریوں کے گھروں کو بنایا جاتا ہے اور اس میں بچوں یا خواتین یا ضعیف افراد کی موجودگی کی پرواہ نہیں کی جاتی ۔اخباری اطلاعات کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ نے غزہ کی سرحد پر تعینات کرنے کے لیے مزید 40 ہزار مخصوص فوجیوں کو طلب کرتے ہوئے حماس کے خلاف '' پروٹیکٹیو ایج '' کے نام سے فضائی آپریشن کا آغاز کردیا۔
ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کا ثبوت اسرائیلی وزیر خارجہ کا بیان ہے کہ ہمارے پاس80 کلومیٹر تک مار کرنے والے سیکڑوں میزائل موجود ہیں جو یقینا اسرائیل نہتے شہریوں پر برسانا چاہتا ہے ، دراصل مسلمان ممالک اور بالخصوص عرب ممالک کے درمیان اتحاد ویکجہتی کا فقدان ہے جس کا فائدہ اسرائیل امریکا کی سرپرستی میں اٹھا رہا ہے اوردست قاتل کو روکنے والا کوئی نہیں،عرب لیگ تو صرف موجودہ صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا روایتی مطالبہ کر رہی ہے جب کہ دوسری جانب امریکا اور اقوام متحدہ نے غزہ سے اسرائیلی علاقے میں راکٹ فائرکرنے کی مذمت کی ہے۔
مقام حیرت ہے کہ انھیں اسرائیل کی نہتے شہریوں پر بمباری کے نتیجے میں ہونے والا کثیرجانی ومالی نقصان نظر نہیں آرہا یا ان کی آنکھوں پر عصبیت کی پٹی بندھی ہوئی ہے ۔ اقوام عالم کے ضمیرکے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اسرائیل کو جارحیت اور بمباری سے روکے اور نہتے فلسطینیوں کا قتل عام رکوائے۔ عالم اسلام اور اسلامی تنظیمیں بھی عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ اسرائیل کو لگام تو دینی پڑے گی۔