حکومت طفل تسلیاں نہ دے

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں نادار افراد کے لیے فوڈ سیکیورٹی کا موثر نظام قائم کرنے سے متعلق

یہ حقیقت ہے کہ غریب تک سستا آٹا پہنچنا ہر قیمت پر ضروری ہے۔ اس کے حصول میں شہریوں کی عزت نفس مجروح نہیں ہونی چاہیے فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں نادار افراد کے لیے فوڈ سیکیورٹی کا موثر نظام قائم کرنے سے متعلق وفاق اور چاروں صوبائی حکومتوں کو آخری مہلت دیتے ہوئے17جولائی سے پہلے کم قیمت پر خوراک کی فراہمی کا پروگرام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں3رکنی بنچ نے وفاق، سندھ اور بلوچستان حکومت کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جب کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومت کی کوششوں کو سراہا۔

یہ ایک تلخ سماجی حقیقت ہے کہ ملک کے کروڑوں مفلوک الحال، بے وسیلہ اور بنیادی خوراک سے محروم عوام کی فوڈ سیکیورٹی کے لیے عدالت عظمیٰ پریشان ہے، گزشتہ دس ماہ سے ایک مقدمہ کی سماعت کر رہی ہے جس سے متعلق ریاست ، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور خوراک کی فراہمی پر مامور اداروں کی بے حسی، مجرمانہ غفلت اور ظالمانہ رویے کے خلاف عدالتی کوریج اور ججز کے درد انگیز ریمارکس ایک تازیانہ ہیں جس سے نہ صرف ملک میں پھیلی ہوئی غربت اور بیروزگاری کے ستائے ہوئے عوام کی حالت زار ، بھوک ، بیماری اور معاشی بدحالی کا دہکتا جہنم آنکھوں کے سامنے آتا ہے بلکہ اس کا اثر یہ ہونا چاہیے کہ حکومت کو اپنی معاشی، غذائی پالیسی اور روزمرہ کی ضروری اشیا کی فراہمی کے ایک ٹھوس ، مستقل اور پائیدار و شفاف میکنزم کی تیاری پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے مگر شاید حکمرانوں کو شہریوں کی غربت، کسمپرسی اور فاقہ کشی کی اذیتوں کو دور کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ عدلیہ پورے سماجی اور معاشی سسٹم کو للکار رہی ہے کہ حکومت بتائے وہ وقت کب آئے گا جب کوئی شہری بھوکا نہیں سوئے گا ۔ نوکر شاہی کی عوام بیزار پالیسیوں اور معاشی تضادات سے پیدا ہونے والی محرومیوں نے ملک کی عجب حالت بنا دی ہے ، بظاہر ایٹمی صلاحیت سے مالامال ملک مگر معاشی زبوں حالی سے چور چور۔اس پر مستزاد یہ کہ کشکول بردار و کاسہ لیس! جب کہ عوام اور اشرافیہ کے مابین ہولناک طبقاتی تقسیم جڑ پکڑ چکی ہے اس کا احساس و ادراک نہ ہونے سے صورتحال کے ابتر ہونے کا اندیشہ سوہان روح بنا ہوا ہے۔بلاشبہ دنیا کی کوئی جمہوریت اپنے شہریوں کو بھوکا مار کر تہذیبی ، پارلیمانی،اور سیاسی اقدار کا ڈھنڈورا نہیں پیٹ سکتی۔

ریاست و حکومت کا بنیادی فرض ہے کہ وہ ہر شہری کی خوراک،اس کی رہائش اور زندگی کے تحفظ کو یقینی بنائے، عدم مساوات اور امیر و غریب میں بڑھتے ہوئے فرق نے جرائم کی ایسی آگ بھڑکائی ہے کہ اس میں پورا نظام اقدار بھسم ہونے کے قریب ہے ۔ارباب اختیار کو مژگاں کھول کر زمینی حقائق اور عدلیہ کے بار بار کے انتباہ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔ قانون و انصاف کے تقاضوں سے کھلواڑ کا ارادہ ریاستی و حکومتی مفاد میں نہیں ۔مفاد سب کا اسی میں ہے کہ عوام کو ریلیف ملے، غربت کم ہو، آٹے جیسی بنیادی سہولت دہلیز تک خود چل کر آئے ۔ تاجرانہ اخلاقیات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے ، رمضان پیکیج کہاں ہے؟ مارکیٹ میں ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے، منی پاکستان میں کھٹے ، گلے سڑے انگور 400 روپے فی کلو بک رہے ہیں،بھنڈی جتنے کیلے اور آڑو100 روپے کلو دستیاب ہیں۔


آلو 80 روپے کلو بیچا جا رہا ہے، باقی شہروں کا کیا حال ہے خدا بہتر جانتا ہے ۔ کہیں بھی فوڈ سیکیورٹی کی کوئی روشنی نظر نہیں آتی ، مانیٹرنگ اور احتساب کے محکمے خانہ پری کرتے ہیں ۔ ادھر عدالت نے قرار دیا کہ8ماہ سے مقدمہ سن رہے ہیں، اپنے شہریوں کو مناسب قیمت پر خوراک کی فراہمی ریاست کی ذمے داری ہے، وہ ایسا کرکے عدالت پر احسان نہیں کریں گی، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بار بار ان کی ذمے داری سے آگاہ کیا لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور تمام حکومتیں ٹائم لائن دینے میں ناکام رہیں، کیسی ریاستی بے نیازی ہے کہ عدلیہ نے وارننگ دی کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے ٹائم فریم نہ دیا تو نتائج بھگتنا پڑیں گے۔اب قانون و انصاف کے صبر کا ارباب اختیار مزید کتنا امتحان لیں گے۔ ایسا نہ ہو کہیں دیر ہوجائے۔

عدالتیں اور خاص طور پر سپریم کورٹ آئین کے تحفظ ، ملکی سلامتی ، عوام کی جان و مال کی نگہبان ، جمہوریت، عوام کے حقوق کی پاسبان ہیں ۔ حکومتی اہلکار باتوں ، وضاحتوں یا فرضی رپورٹوں سے کام نہ چلائیں ،یہ رویہ ملکی مفاد میں نہیں۔ عدلیہ کے استفسار پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے اشیاء خور و نوش پرعمومی رعایت کے لیے 127ارب روپے مختص کیے ہیں ، عدالت نے اعداد وشمار مسترد کردیے، جسٹس جواد نے کہا ہمیں اس میں دلچسپی نہیں، بتایا جائے فوڈ سیکیورٹی پروگرام کب تک شروع ہو جائے گا جس پر انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ساڑھے 8 لاکھ نادار خاندانوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی پر کام شروع کردیا ہے۔

ہر خاندان کو 14کلو آٹا دس روپے فی کلو اور 5کلو گھی 40روپے فی کلو کے حساب سے یوٹیلٹی اسٹوروں سے ملے گا، ہر خاندان کو 2,2 وائوچر دیے جائیں گے جو ناقابل انتقال ہوں گے ۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رزاق اے مرزا نے بھی مثبت رپورٹ پیش کی، عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری افسران افسری چھوڑ کر عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں'اب تسلیوں سے کام نہیںچلے گا' عدالت نے متعلقہ سیکریٹریز فوڈ اور ایڈووکیٹ جنرلز کو ہدایت کی کہ وہ باہمی مشاورت کے بعد عدالت کو پلان سے آگاہ کریں ۔

یہ حقیقت ہے کہ غریب تک سستا آٹا پہنچنا ہر قیمت پر ضروری ہے۔ اس کے حصول میں شہریوں کی عزت نفس مجروح نہیں ہونی چاہیے جب کہ عدالت عظمیٰ جن سہولتوں کی فراہمی پر زور دے رہی ہے ان کی دستیابی کو یقینی نہ بنایاگیا توطفل تسلیوں کا نتیجہ حکمرانوں کے لیے سبق آموز ہوسکتا ہے۔
Load Next Story