ہمارے پڑوس میں کیا ہونے والا ہے
آج بات تو صرف اور صرف قبلہ شاہ صاحب کے ذکر سے شروع کرنی تھی لیکن ابھی
Abdulqhasan@hotmail.com
آج بات تو صرف اور صرف قبلہ شاہ صاحب کے ذکر سے شروع کرنی تھی لیکن ابھی میں اس اچانک کرمفرمائی سے بحال نہیں ہوا کہ بات سید سرفراز شاہ صاحب کی غریب خانے پر تشریف سے شروع کروں اور اسی کے ذکر میں کالم پر کالم لکھتا چلا جاؤں۔
اپنے اس وطن عزیز کو کئی ایسے مسائل لاحق ہوگئے ہیں کہ شاہ صاحب کی اجازت سے کچھ ان کا ذکر بھی لیکن ہم لوگ جو بات بات پر شاہ صاحب کی دعائوں کے طلب گار رہتے ہیں اور جن کے کشف کے کمالات کو دیکھتے رہتے ہیں شاہ صاحب کی اس علالت پر ہمیں پریشان ہونا چاہیے جو خطرناک بھی ہے اور خود شاہ صاحب بھی اس سے پریشان ہیں لیکن جن کی دعائوں کے سہارے ہم وقت گزار رہے ہیں ہم ان کے لیے کیا دعا کریں، بہر کیف دنیا واقعی امید پر قائم ہے اور شاہ صاحب ہماری دنیا ہیں جس کی امید پر ہم قائم ہیں۔
ہمارے ایک معروف سیاستدان جناب خورشید شاہ صاحب نے کہا ہے کہ اگر حکومت کی مدت پانچ سال کی جگہ چار سال کر دی جائے تو کسی کو سازش کا موقع نہیں ملے گا۔ کیا اس سے بہتر یہ نہیں کہ ہمارے لیڈروں کی لیڈری کی مدت بھی کم کر دی جائے تاکہ سازش کی مدت میں اتنی کمی ہو جائے۔ ایسی ہی منطق اور دانش سے مرصع ہمارے لیڈر ملک کو نہ جانے کس مقام تک لے گئے ہیں۔ اب تو اس علاقے کی سیاست کسی حکومت کی مدت تک نہیں کسی دوسری مصلحت کے تحت پہنچ گئی ہے۔ افغانستان میں صدارتی الیکشن ہوئے اور امریکا کی مرضی کے خلاف نتیجہ نکلا۔
ماہر امراض چشم ڈاکٹر عبداللہ ہار گئے اور بھارت میں صف ماتم بچھ گئی چونکہ افغانستان کے مسئلہ پر بھارت اور امریکا ایک ہیں اس لیے صدر امریکا نے بنفس نفیس مداخلت کی اور امید دلائی کہ فکر مند نہ ہوں نتائج بدل سکتے ہیں۔یہ ہے دنیا کی ایک سب سے بڑی اور دوسری سب سے طاقت ور مملکت کا سیاسی نظریہ اور رویہ۔ امریکا کی برسوں کی جنگ اور کھربوں کے خرچ کا نتیجہ اگر یہ نکلنا ہے تو پھر ایسے الیکشن کے نتیجے بدلنے ہوں گے۔ افسوس کہ امریکا کی عقل بھی روس کی طرح ماری گئی ہے اور وہ افغان قوم سے براہ راست جنگ کی بات کر رہا ہے۔
دنیا کی ہر بات کا پتہ رکھنے والے امریکا کے دانشور بھول گئے کہ روسی فوجی سربراہ نے افغانستان سے نامراد لوٹتے ہوئے دریائے آمو کے پل پر کیا کہا تھا کہ ہم تو اپنی نسلوں سے بھی کہہ جائیں گے کہ افغانستان کا رخ نہ کرنا مگر امریکا یہاں سے نامراد جاتے جاتے روس والی غلطی کر رہا ہے۔ امریکا سے ایسی ہی کسی غلطی کی توقع بے جا نہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ ایسی کسی امریکی غلطی کی سزا ہمیں ملے گی اور ہماری نسلوں کو۔ پہلے ہی لاکھوں 'افغان' ضرب عضب کی وجہ سے پاکستان آ رہے ہیں۔
آٹھ نو لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ان کو سنبھالیں گے کیسے کیونکہ ہمارے حکمران تو ملک کی تجارت میں مصروف ہیں اور دنیا بھر سے وارداتیے ادھر کا رخ کرچکے ہیں جن کے ساتھی یہاں پہلے سے موجود ہیں اور ان کی پذیرائی کر رہے ہیں۔ افغانستان کے صدارتی الیکشن کے نتیجے میں اگر بے چینی پیدا ہوئی تو وہ امریکا کے لیے نہیں پاکستان کے لیے خطرناک ہو گی۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اس صورت حال کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے نہ ہم میں اس کی اہلیت ہے اور نہ ہی شاید اس کا کوئی ارادہ ہے۔ میں سخت خوفزدہ ہوں بھارت کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہو گا جس میں امریکا اس کے ساتھ کھڑا ہو گا اور ہم ان دو دشمنوں کے سامنے گھگھیا رہے ہوں گے۔
آج کی طرح 67 برس پہلے رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور اس ستائیسویں تاریخ کو جو بہت مبارک سمجھی جاتی ہے اسی تاریخ اور اسی مہینے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔ دنیا کی پہلی ایسی ریاست جو ریاست مدینہ کے بعد اللہ اور رسولؐ کے نام پر قائم ہوئی لیکن معلوم نہیں بعد میں تو اس بارے میں کچھ عرض کرنے سے بالکل قاصر ہوں کہ قدرت کو مسلمانوں کی آزمائش درکار تھی یا انھیں کوئی انعام دیا جا رہا تھا جو بھی تھا اس کا نتیجہ بڑی حد تک آپ کے سامنے ہے۔
ہم نے نام تو اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھ دیا لیکن نہ اسلام آیا نہ جمہوریت آئی اور نہ پاکستان سلامت رہا۔ ہم نے اللہ کے ساتھ جو عہد کیا تھا اسے بہت جلد بھول گئے اور خود اسلام کو ہی متنازع بنا دیا بجائے اس کے کہ اسلام کے فروغ کے لیے اس دنیا میں معرکے برپا کرتے ہم نے ایک ناکام اسلامی ریاست کا نقشہ پیش کر دیا۔ ہمیں وہ حلف پھاڑ دینا چاہیے جو ہمارے حکمران ہماری حکومت پر سرفراز ہونے سے پہلے قوم کے سامنے پڑھتے ہیں اور مذاق کرتے ہیں۔
کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ہمارا اسلامی ملک ایک پڑوسی اسلامی ملک افغانستان کی وجہ سے ایک مشکل میں پھنسنے والا ہے۔ ایسی مشکلیں آتی رہتی ہیں لیکن ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک قوم زندہ ہوتی ہے اور اس کی قیادت میں مقابلے کی سکت اور اہلیت ہوتی ہے۔ قوم کی حالت اسی مبارک مہینے رمضان میں ہی دیکھ لیں کہ منڈیوں میں روزہ دار مسلمانوں کو کس طرح لوٹا جا رہا ہے اور یہ لٹیرے سب کے سب مسلمان ہیں۔ ایک لطیفہ کسی اخبار میں چھپا ہے کہ وزیر اعظم نے اس گرانی کا نوٹس لے لیا ہے اور ان کو اطلاع دے دی گئی ہے کہ ان کی رعایا مہنگائی کی وجہ سے کسی عذاب میں پھنسی ہوئی ہے۔
چند کروڑ روپے کی گھڑی ان کو مبارک ہو۔ قوم کی حالت یہ ہے کہ اس کی اخلاقی حالت دگرگوں ہے اور اس کی قیادت قوم کے ان معاملات میں مصروف ہے جن کا تعلق کسی دوسرے وقت سے بھی ہوسکتا ہے۔ چلتے چلتے عرض کر دوں کہ ان دنوں رمضان کے مہینے میں بجلی کے بارے میں کوئی منصوبہ چل رہا ہے جس سے پہروں بجلی بند رہتی ہے، کیا یہ چند دن بعد یعنی رمضان کے بعد نہیں ہو سکتا۔ ایسی کتنی ہی مثالیں ہیں جو حکمرانوں کے روز مرہ میں مل جاتی ہیں اور جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سب غورو فکر اور کسی سوچ اور منصوبے کے بغیر ہو رہا ہے۔ کیا بیس کروڑ لوگوں کا ملک چلانے کے لیے اس قدر لاپرواہی برتی جا سکتی ہے جب کہ یہ ملک ایک ایسے خطے میں واقعے ہے جہاں چاروں طرف طوفان برپا رہتے ہیں۔
روس گیا تو امریکا آ گیا اور یہ دونوں عالمی طاقتیں برسوں تک اپنی طاقت اور ڈپلومیسی کرتی رہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے علاوہ ازیں ہمارا ہوشیار دشمن بھارت ہر وقت چوکنا ہو کر ہماری ہر حرکت کو دیکھتا رہتا ہے اور اب تو اس نے دنیا کے اسلحہ سازوں کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی جس کے جواب میں اس کی طرف ایک ہجوم بڑھتا چلا آ رہا ہے۔ بھارت کے اس منصوبے میں سرفہرست پاکستان ہے اس کے بعد اسے پرانے منصوبے کے تحت بڑھنا ہے۔ نہایت ہی مختصر الفاظ میں جو سمجھ میں آتا ہے اس سے اپنے ہموطنوں کو آگاہ کرنا ہے کہ خود بھی اور حکمرانوں کو بھی تیار رکھو!
اپنے اس وطن عزیز کو کئی ایسے مسائل لاحق ہوگئے ہیں کہ شاہ صاحب کی اجازت سے کچھ ان کا ذکر بھی لیکن ہم لوگ جو بات بات پر شاہ صاحب کی دعائوں کے طلب گار رہتے ہیں اور جن کے کشف کے کمالات کو دیکھتے رہتے ہیں شاہ صاحب کی اس علالت پر ہمیں پریشان ہونا چاہیے جو خطرناک بھی ہے اور خود شاہ صاحب بھی اس سے پریشان ہیں لیکن جن کی دعائوں کے سہارے ہم وقت گزار رہے ہیں ہم ان کے لیے کیا دعا کریں، بہر کیف دنیا واقعی امید پر قائم ہے اور شاہ صاحب ہماری دنیا ہیں جس کی امید پر ہم قائم ہیں۔
ہمارے ایک معروف سیاستدان جناب خورشید شاہ صاحب نے کہا ہے کہ اگر حکومت کی مدت پانچ سال کی جگہ چار سال کر دی جائے تو کسی کو سازش کا موقع نہیں ملے گا۔ کیا اس سے بہتر یہ نہیں کہ ہمارے لیڈروں کی لیڈری کی مدت بھی کم کر دی جائے تاکہ سازش کی مدت میں اتنی کمی ہو جائے۔ ایسی ہی منطق اور دانش سے مرصع ہمارے لیڈر ملک کو نہ جانے کس مقام تک لے گئے ہیں۔ اب تو اس علاقے کی سیاست کسی حکومت کی مدت تک نہیں کسی دوسری مصلحت کے تحت پہنچ گئی ہے۔ افغانستان میں صدارتی الیکشن ہوئے اور امریکا کی مرضی کے خلاف نتیجہ نکلا۔
ماہر امراض چشم ڈاکٹر عبداللہ ہار گئے اور بھارت میں صف ماتم بچھ گئی چونکہ افغانستان کے مسئلہ پر بھارت اور امریکا ایک ہیں اس لیے صدر امریکا نے بنفس نفیس مداخلت کی اور امید دلائی کہ فکر مند نہ ہوں نتائج بدل سکتے ہیں۔یہ ہے دنیا کی ایک سب سے بڑی اور دوسری سب سے طاقت ور مملکت کا سیاسی نظریہ اور رویہ۔ امریکا کی برسوں کی جنگ اور کھربوں کے خرچ کا نتیجہ اگر یہ نکلنا ہے تو پھر ایسے الیکشن کے نتیجے بدلنے ہوں گے۔ افسوس کہ امریکا کی عقل بھی روس کی طرح ماری گئی ہے اور وہ افغان قوم سے براہ راست جنگ کی بات کر رہا ہے۔
دنیا کی ہر بات کا پتہ رکھنے والے امریکا کے دانشور بھول گئے کہ روسی فوجی سربراہ نے افغانستان سے نامراد لوٹتے ہوئے دریائے آمو کے پل پر کیا کہا تھا کہ ہم تو اپنی نسلوں سے بھی کہہ جائیں گے کہ افغانستان کا رخ نہ کرنا مگر امریکا یہاں سے نامراد جاتے جاتے روس والی غلطی کر رہا ہے۔ امریکا سے ایسی ہی کسی غلطی کی توقع بے جا نہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ ایسی کسی امریکی غلطی کی سزا ہمیں ملے گی اور ہماری نسلوں کو۔ پہلے ہی لاکھوں 'افغان' ضرب عضب کی وجہ سے پاکستان آ رہے ہیں۔
آٹھ نو لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ان کو سنبھالیں گے کیسے کیونکہ ہمارے حکمران تو ملک کی تجارت میں مصروف ہیں اور دنیا بھر سے وارداتیے ادھر کا رخ کرچکے ہیں جن کے ساتھی یہاں پہلے سے موجود ہیں اور ان کی پذیرائی کر رہے ہیں۔ افغانستان کے صدارتی الیکشن کے نتیجے میں اگر بے چینی پیدا ہوئی تو وہ امریکا کے لیے نہیں پاکستان کے لیے خطرناک ہو گی۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اس صورت حال کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے نہ ہم میں اس کی اہلیت ہے اور نہ ہی شاید اس کا کوئی ارادہ ہے۔ میں سخت خوفزدہ ہوں بھارت کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہو گا جس میں امریکا اس کے ساتھ کھڑا ہو گا اور ہم ان دو دشمنوں کے سامنے گھگھیا رہے ہوں گے۔
آج کی طرح 67 برس پہلے رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور اس ستائیسویں تاریخ کو جو بہت مبارک سمجھی جاتی ہے اسی تاریخ اور اسی مہینے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔ دنیا کی پہلی ایسی ریاست جو ریاست مدینہ کے بعد اللہ اور رسولؐ کے نام پر قائم ہوئی لیکن معلوم نہیں بعد میں تو اس بارے میں کچھ عرض کرنے سے بالکل قاصر ہوں کہ قدرت کو مسلمانوں کی آزمائش درکار تھی یا انھیں کوئی انعام دیا جا رہا تھا جو بھی تھا اس کا نتیجہ بڑی حد تک آپ کے سامنے ہے۔
ہم نے نام تو اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھ دیا لیکن نہ اسلام آیا نہ جمہوریت آئی اور نہ پاکستان سلامت رہا۔ ہم نے اللہ کے ساتھ جو عہد کیا تھا اسے بہت جلد بھول گئے اور خود اسلام کو ہی متنازع بنا دیا بجائے اس کے کہ اسلام کے فروغ کے لیے اس دنیا میں معرکے برپا کرتے ہم نے ایک ناکام اسلامی ریاست کا نقشہ پیش کر دیا۔ ہمیں وہ حلف پھاڑ دینا چاہیے جو ہمارے حکمران ہماری حکومت پر سرفراز ہونے سے پہلے قوم کے سامنے پڑھتے ہیں اور مذاق کرتے ہیں۔
کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ہمارا اسلامی ملک ایک پڑوسی اسلامی ملک افغانستان کی وجہ سے ایک مشکل میں پھنسنے والا ہے۔ ایسی مشکلیں آتی رہتی ہیں لیکن ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک قوم زندہ ہوتی ہے اور اس کی قیادت میں مقابلے کی سکت اور اہلیت ہوتی ہے۔ قوم کی حالت اسی مبارک مہینے رمضان میں ہی دیکھ لیں کہ منڈیوں میں روزہ دار مسلمانوں کو کس طرح لوٹا جا رہا ہے اور یہ لٹیرے سب کے سب مسلمان ہیں۔ ایک لطیفہ کسی اخبار میں چھپا ہے کہ وزیر اعظم نے اس گرانی کا نوٹس لے لیا ہے اور ان کو اطلاع دے دی گئی ہے کہ ان کی رعایا مہنگائی کی وجہ سے کسی عذاب میں پھنسی ہوئی ہے۔
چند کروڑ روپے کی گھڑی ان کو مبارک ہو۔ قوم کی حالت یہ ہے کہ اس کی اخلاقی حالت دگرگوں ہے اور اس کی قیادت قوم کے ان معاملات میں مصروف ہے جن کا تعلق کسی دوسرے وقت سے بھی ہوسکتا ہے۔ چلتے چلتے عرض کر دوں کہ ان دنوں رمضان کے مہینے میں بجلی کے بارے میں کوئی منصوبہ چل رہا ہے جس سے پہروں بجلی بند رہتی ہے، کیا یہ چند دن بعد یعنی رمضان کے بعد نہیں ہو سکتا۔ ایسی کتنی ہی مثالیں ہیں جو حکمرانوں کے روز مرہ میں مل جاتی ہیں اور جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سب غورو فکر اور کسی سوچ اور منصوبے کے بغیر ہو رہا ہے۔ کیا بیس کروڑ لوگوں کا ملک چلانے کے لیے اس قدر لاپرواہی برتی جا سکتی ہے جب کہ یہ ملک ایک ایسے خطے میں واقعے ہے جہاں چاروں طرف طوفان برپا رہتے ہیں۔
روس گیا تو امریکا آ گیا اور یہ دونوں عالمی طاقتیں برسوں تک اپنی طاقت اور ڈپلومیسی کرتی رہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے علاوہ ازیں ہمارا ہوشیار دشمن بھارت ہر وقت چوکنا ہو کر ہماری ہر حرکت کو دیکھتا رہتا ہے اور اب تو اس نے دنیا کے اسلحہ سازوں کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی جس کے جواب میں اس کی طرف ایک ہجوم بڑھتا چلا آ رہا ہے۔ بھارت کے اس منصوبے میں سرفہرست پاکستان ہے اس کے بعد اسے پرانے منصوبے کے تحت بڑھنا ہے۔ نہایت ہی مختصر الفاظ میں جو سمجھ میں آتا ہے اس سے اپنے ہموطنوں کو آگاہ کرنا ہے کہ خود بھی اور حکمرانوں کو بھی تیار رکھو!