آج کا پائڈ پائپر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

’’پاکستان رمضان‘‘، خوشیاں بانٹتے پروگرام نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے

’’پاکستان رمضان‘‘، خوشیاں بانٹتے پروگرام نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
بزرگوں کا بیٹا، بہنوں کا بھائی نوجوانوں کا دوست، بچوں کا انکل، دولت مند اور صاحبانِ اقتدار گھمنڈیوں کو خاطر میں نہ لانے والا مگر بے حیثیت بے۔

سہاروں اور ناداروں کو سر آنکھوں پر بٹھانے والا۔ روتوں کو ہنسانے اور شیطانی ہنسی ہنسنے والے ظالموں کو رلانے والا، مغربی دنیا کا سانتاکلاز مشرق اور بالخصوص عالم اسلام کا ممتاز ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ایسا ''پائڈ پائپر'' بن چکا ہے جس کے پیچھے دنیا کے ساتوں براعظموں کی بے شمار خلقت چلتی چلی آرہی ہے۔

اُسے دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں میں سے پانچ سو بااثر ترین شخصیات میں ایک مانا گیا ہے۔ وہ جب قرآنی آیات کی تلاوت اور درودوسلام کا ورد کرتے ہوئے ٹی وی اسکرینوں پر نمودار اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے فضاؤں میں داؤدی لہن کے ساتھ اپنی آواز بکھیرتا ہے تو خلقت محوِحیرت اور فضاء جھوم اٹھتی ہے۔ دشمنوں کو دوست اور دوستوں کو جاں نثار بنالینے میں اسے یدِطولیٰ حاصل ہے۔ بغض، کینہ اور دشمنی جیسی بشری کمزوریوں سے پاک عامر لیاقت حسین کی اگر کسی سے دشمنی اور نفرت ہے تو صرف ان شیطان صفتوں سے جو اﷲ کی قائم کردہ حدود توڑتے اور نبی کریم سرور کائنات آقائے دوجہاں حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرتے ہیں۔



اﷲ کے دشمنوں اور رسول ﷺ کے شاتموں کے لیے اس کے دل میں اس وقت تک ذرہ برابر بھی گنجائش نہیں ہے جب تک وہ سچے دل سے توبہ نہ کرلیں۔ دنیاوی دولت اور بڑے سے بڑے عہدے واقتدار کو وہ ایک بار نہیں بار بار پائے حقارت وکراہت سے ٹھکراچکا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ وہ اصل بارودی سرنگیں ہیں جن پر قدم رکھنے والا دنیاوی موت کے ساتھ ساتھ ابدی آگ میں بھی جلتا رہے گا۔ خودکش بمبار صرف وہ ہی نہیں جو بارود سے بھری جیکٹیں پہن کر بے گناہوں کے ساتھ ساتھ خود کو بھی اڑالیتے ہیں بلکہ وہ سب بھی ہیں جو دولت اور اقتدار کی لالچ مین اندھے ہوکر ان بارودی سرنگوں پر چلتے ہیں جو اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف (نعوذ بااﷲ) بچھائی گئی ہے۔ بھلا وہ راستہ کس طرح اچھا ہوسکتا ہے جو بھلائی اور اچھے اجر کی منزل کے بجائے بھٹکادے؟

حقوق اﷲ کا تعلق بھی چونکہ حقوق العباد سے ہے چنانچہ محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن کے نام سے جو اصل میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی جنت مکانی والدہ کا اسم مبارک ہے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اﷲ کے کمزور اور ناداربندوں کی مدد کے لیے ایک ایسا بین الاقوامی ادارہ قائم کیا ہے، جو پچھلے 8 برسوں سے نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی بلاتفریق رنگ ونسل اور مذہب وملت ہر محتاج کی حتی الوسع دستگیری کررہا ہے۔ اس نیک اور جائز مقصد کے لیے ڈاکٹر عامر لیاقت اپنی خداداد صلاحیت کو استعمال کرنے میں فی زمانہ سب سے آگے ہیں۔

رمضان ٹرانسمیشن اور دیگر بامقصد تفریحی پروگراموں کے ذریعے وہ اب تک لاکھوں افراد کی امداد اور ان کو مستقل سہارا فراہم کرچکے ہیں اور تاحیات کرتے رہیں گے (انشاء اﷲ) ملک، مذہب اور انسانیت دشمنوں کو امداد کا یہ انداز کبھی پسند نہیں رہا۔ چنانچہ وہ اس راہ میں بھی روڑے اٹکاتے اور پابندیاں لگواتے رہتے ہیں مگر جب ایک دربند ہوتا ہے تو اﷲ ستّر در اور کھول دیتا ہے ۔ ایکسپریس چینل پر رمضان ٹرانسمیشن کے آغاز کے ساتھ ہی کامیابیوں اور کامرانیوں کا نیا سفر شروع ہوگیا۔



رحمتوں کے عشرے نے رحمتوں کی بارش میں جہاں ہر اس فرد کو شرابور کردیا جو اس سال ''پاکستان رمضان'' کا حصہ بنا بلکہ ایکسپریس چینل کو اپنے تمام ہم عصروں میں نمایاں اور ممتاز کردیا۔ ایکسپریس انٹرٹینمنٹ اور ایکسپریس نیوز پر اس خصوصی نشریات نے دنیا میں دھوم مچادی ہے اور صرف رمضان کے پہلے ہی عشرے میں لاکھوں، کروڑوں ناظرین کی توجہ مبذول کرالی ہے جو گزشتہ اور آئندہ کئی عشروں میں بھی کسی کے لیے ممکن نہیں۔

''سحر عامر کے ساتھ، افطار عامر کے ساتھ'' یہ محض کوئی میڈیائی سلوگن نہیں بلکہ ٹھوس حقیقت بن چکا ہے، جس کا ٹھوس ثبوت پاکستان رمضان اور پاکستان گھر میں بانٹے جانے والے کروڑوں روپے کے وہ قیمتی انعامات ہیں جو رمضان کے پہلے عشرہ میں ہر طرح کے شرکاء یعنی ناظرین اور حاضرین سب ہی میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ یکم سے 9ویں روزے کی افطار تک پاکستان گھر، قرعہ اندازی اور زیر زبر پیش کے مقابلہ معلومات عامہ کے علاوہ حاضرین کو مختلف سوالات کے جواب پر جو انعامات پیش کیے گئے۔

ان میں 45ہزار روپے فی کس مالیت کی 120موٹرسائیکلیں،6 ہزار روپے مالیت فی کس کے 400 کیو موبائل فون،6ہزار روپے مالیت فی کس کے 200 الیکٹرانکس ہوم اپلائنسز ، 45ہزار روپے مالیت فی کس کے 90لیپ ٹاپس، 15ہزار روپے مالیت فی کس کی 50 واشنگ مشینیں 45 ہزار روپے مالیت فی کس کے 50 ریفریجریٹرز ،20 ہزار روپے مالیت فی کس کے 400 لیڈیز سوٹ پیس 3 ہزار روپے مالیت فی کس کی 200 سینڈلز اور شوز، جبکہ 6لاکھ 50 ہزار روپے مالیت فی کس کی 3 مہران کار خاص طور پر قابل ذکر ہیں، جبکہ محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن کی جانب سے راہِ نیکی میں مستحق خاندانوں کی بھرپور مالی امداد اور علاج معالجے کے ساتھ ساتھ مستقل روزگار کی فراہمی کے لیے سامان سے بھرے ٹھیلے ان انعامات کے علاوہ ہیں، جن کا تخمینہ ابھی لگایا تو نہیں جاسکا ہے۔ تاہم 2 کروڑ روپے سے زائد ہے۔



اس پروگرام کے سجانے بنانے اور پیش کرنے والوں کے لیے جو لاکھوں ہاتھ دعاؤں کے لیے اٹھتے ہیں وہ بدبختوں کی کوششوں پر یقیناً غالب ہیں کہ جو کام نیک نیتی اور نیک مقاصد سے کیے جاتے ہیں ان میں خدا کی رضا شامل ہوجاتی ہے اور جس کام میں اﷲ کی رضا شامل ہو اس میں شیطانی عمل کیسے کامیاب ہوسکتا ہے؟

رمضان المبارک میں رحمتوں اور برکتوں سے اپنا دامن بھرنے والے روزانہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے مہمان بن کر ان کے ساتھ افطار کرنے کی سعادت بھی حاصل کررہے ہیں۔ ان نشریات کا ایک اہم حصہ عالم آن ایئر ہے جس مژں میں تمام مکاتب فکر کے علما کرام اتفاق رائے سے لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہیںیوں یہ پروگرام مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ کوکنگ سیگمنٹ ان نشریات کا ایک خوب صورت اور تفریحی حصہ ہے۔ پروگرام کا ایک خوب صورت سیگمنٹ ''آؤ بچوں کہانی سنائیں'' ہے۔

اس سیگمینٹ کے ذریعے ڈاکٹر عامر لیاقت نے بچوں کو کہانی سنانے کی خوب صورت روایت کو نئی زندگی دی ہے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے سیکڑوں مہمانوں کے ساتھ کروڑوں ناظرین بھی اپنے ٹیلی ویژن اسکرین کے ذریعے گویا اس نشریات کا حصّہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ تاریخ ساز نشریات ''اللہ کے بابرکت نام سے شروع'' ہوئی تھی اور یہ سلسلہ جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے، اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور اس کی سب سے بڑی اور حقیقی کامیابی مجبور، بے سہارا اور دکھی افراد کی امداد ہے، جس میں مخیر حضرات بھی اپنا حصّہ ڈال رہے ہیں۔

اس طرح یہ نشریات معاشرے میں مثبت قدروں کو پروان چڑھانے اور فلاحی کاموں کی ترغیب دینے کا مثالی ذریعہ بن رہی ہیں۔ ''پاکستان رمضان'' میں ڈاکٹر عامر لیاقت کی کوشش ہے کہ معاشرے کے دکھی اور مجبور افراد کو سہارا دیا جائے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت معاشرے کی بے رحمی کا شکار افراد یا اپنے پیاروں سے مختلف سانحات میں بچھڑ جانے والوں کو اس پروگرام میں خاص طور پر مدعو کر رہے ہیں۔ رمضان نشریات کو منفرد بنانے کے لیے ڈاکٹرعامرلیاقت حسین نے شاندار پروگرامز ترتیب دیے ہیں۔ ان میں مختلف مصائب اور سماجی مسائل کا شکار افراد کو رمضان کی خوشیوں میں شریک کرنے کا ''راہ ِنیکی'' کے عنوان سے پروگرام مستحقین کی بھرپور امداد کا ذریعہ ثابت ہورہا ہے۔



اس سلسلے میں نشریات کے آغاز پر اولاد کی بے حسی کا شکار ماؤں کو مدعو کیا گیا تھا۔ ایدھی سینٹر میں زندگی بسر کرنے والی ان باہمت ماؤں نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے گفتگو میں اپنوں کے ہاتھوں پہنچنے والی تکالیف کا ذکر کیا تو ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عامر لیاقت نے دکھی ماؤں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور ان کی دل جوئی کی۔ انہوں نے ان ماؤں کو کپڑوں کے خوبصورت جوڑے اور دیگر تحائف بھی دیے۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے۔


اسی لیے میں نے ہر سال رمضان نشریات میں ایک دن ماؤں کے نام کرنے کی روایت ڈالی ہے اور اسے برقرار رکھوں گا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے اس موقع پر دکھی انسانیت کی بے مثال خدمت پر مولانا عبدالستار ایدھی اور محترمہ بلقیس ایدھی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ پروگرام ''راہ نیکی'' میں معذور بچے کے علاج کے لیے پریشان مزدور ظہیر عباس، ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے مختلف امراض میں مبتلا اورنگزیب اور چار بیمار بچوں کی ماں صابرہ خاتون نے شرکت کی۔

اس خوبصورت اور منفرد نشریات کے دوران اندرون اور بیرون ملک مقیم افراد نے ڈاکٹر عامر لیاقت کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے مستحقین کے علاج معالجے اور گزر بسر کے لیے عطیات کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عامر لیاقت نے محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن کی جانب سے بھی اپنے مہمانوں میں امدادی لفافے تقسیم کیے۔ معروف سماجی رہنما محمد رمضان چھیپا نے ناظرین سے اپیل کی کہ وہ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ڈاکٹر عامر لیاقت اور ایم ایس ایف کو دل کھول کر عطیات دیں۔ سماجی مسائل پر آواز اٹھاتے ہوئے فلاحی کاموں کی ترغیب دینے کا یہ سلسلہ کامیابی سے آگے بڑھا اور ڈاکٹر عامرلیاقت حسین کی نیک نیتی اور جذبۂ خدمت نے انہیں اپنے مقصد میں مزید کامیابی سے ہمکنار کیا اور ایک برس قبل اوکاڑہ میں مقیم اپنے والدین سے بچھڑنے والی نو سالہ بچی صائمہ اپنوں تک پہنچ گئی۔



ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے گمشدہ بچی کو والد سے ملانے کے لیے ذاتی خرچ پر اس کے والد کو اوکاڑہ سے کراچی بلایا۔ اپنے والد کو سامنے دیکھ کر بچی خوشی سے رو پڑی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اس کے والد سے حلف لیا کہ آئندہ بچی کے معاملے میں کسی غفلت کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ رمضان نشریات کے تیسرے روز ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ان دکھی خاندانوں کو مدعو کیا جن کے پیارے شہر قائد میں بے رحمی سے قتل کر دیے گئے۔

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے گفتگو کے دوران متاثرہ خاندانوں نے اپنے پیارے کی جدائی سے ہونے والی تکلیف اور صدمات کا ذکر کیا اور بتایا کہ انہیں کن حالات کا سامنا ہے۔ ان متاثرین میں خالدہ بھی تھیں جن کے شوہر کمیٹی کی رقم لے کر نکلے اور لٹیروں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ اسی طرح یاسمین کے شوہر دہشت گردوں کی اندھی گولیوں کا ہدف بنے۔ اس پروگرام میں وہ والدین بھی شریک تھے، جن کے لخت جگر زُمیر رضا کو موٹر سائیکل چھیننے کے دوران مزاحمت کرنے پر گولی مار دی گئی اور وہ عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے۔

درد مند افراد نے میزبان سے رابطہ کر کے نوجوان کے علاج کے لیے عطیات دینے کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے نوجوان کے علاج کے تمام اخراجات ذاتی طور پر ادا کرنے کا اعلان کر کے دکھی ماں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ اس موقع پر محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن کی جانب سے ہر خاندان کو امدادی لفافے بھی تقسیم کیے گئے۔ پیدائشی طور پر کٹے ہوئے ہونٹ اور دماغ میں پانی بھر جانے کے مرض میں مبتلا کم عمر بچیوں نے بھی اپنے والدین کے ساتھ شرکت کی جن کے مسائل سن کر ناظرین کی جانب سے عطیات دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

لاہور کے ایک نجی اسپتال کی ڈاکٹر نے میزبان سے گفتگو کے دوران کٹے ہوئے ہونٹ کی تکلیف میں مبتلا بچی کے والدین کو بچی کے مفت علاج کی پیشکش کی جو انہوں نے منظور کر لی۔ اس موقع پر میزبان نے بچی اور اس کے والدین کے سفری اخراجات اور لاہور میں قیام کے تمام اخراجات ذاتی طور پر ادا کرنے کا اعلان کیا اور دیگر متاثرین میں امدادی لفافوں کی تقسیم کے علاوہ ایم ایس ایف کی جانب سے ایک ہاتھ اور پاؤں سے محروم نوجوان محمد فیاض کے لیے روزگار کا بندوبست کرتے ہوئے سامان سے بھرا ہوا ٹھیلا اس کے حوالے کیا۔



ایک انتہائی آبدیدہ کر دینے والا موقع اس وقت آیا جب زندگی کی آخری خواہش کا اظہار کرنے والے ننھے مہمان نے پروگرام میں شرکت کی۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے ملنے کی خواہش میں یوں تو ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شہرِ رمضان کا رخ کر رہے ہیں مگر دل کے سوراخ میں مبتلا 14 سالہ شاہ رخ نے اس ملاقات کو اپنی آخری خواہش قرار دیا تو میزبان اور حاضرین سبھی آبدیدہ ہو گئے۔ ڈاکٹرز کی جانب سے لاعلاج قرار دیے جانے کے بعد شاہ رخ کو اس وقت جینے کی نئی امنگ ملی جب وہ اپنے والد کے ساتھ پاکستان رمضان نشریات کا حصہ بنا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ننھے مہمان کو گود میں اٹھا کر پیار کیا اور اس کی ہمت افزائی کرتے ہوئے کہا کہ تم موت کو شکست دو گے اور ربیع الاول میں میرے ساتھ عمرہ کرنے جاؤ گے۔

اس موقع پر میزبان نے ذاتی خرچ پر شاہ رخ اور اس کے والدین کو عمرے پر بھیجنے کا اعلان بھی کیا۔ نشریات کے چوتھے روز ''پاکستان رمضان'' میں ''دارالسکون'' کے ان اسپیشل چلڈرن کو مدعو کیا گیا جنھیں ان کے والدین ذہنی توازن صحیح نہ ہونے کی وجہ سے اس ادارے میں چھوڑ گئے تھے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ان بچوں میں گھل مل گئے اور اپنی گفتگو سے ان کے معصوم چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ بچوں نے اپنے پسندیدہ میزبان کے ساتھ کرکٹ بھی کھیلی اور نظمیں بھی سنائیں۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے بچوں میں پیشگی عیدی اور تحائف تقسیم کیے اور محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن کی جانب سے ادارے کو پچاس ہزار روپے کا عطیہ بھی دیا۔ اس نشریات میں معذور ی کے باعث کئی ماہ سے صاحب فراش نوجوان شاہد ندیم اور گزشتہ برس سیلاب کے باعث گھر بار سے محروم ہو جانے والے دادو کے محمد ایوب نے بھی شرکت کی اور عطیات حاصل کیے۔

اس موقع پر ایم ایس ایف کے لیے ایک صاحب ثروت شخص نے 10 لاکھ روپے کی امداد بھی دی۔ اس موقع پر میزبان نے محمد ایوب کے گھرکی بحالی کے لیے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا اور چار ماہ کے راشن کے علاوہ اس کے لیے روزگار کا انتظام کرتے ہوئے سامان سے بھرا ٹھیلا اس کے سپرد کیا۔ معذور نوجوان شاہد ندیم کے والد کے چہرے پر اس وقت خوشی کے رنگ بکھر گئے جب بیٹے علاج معالجے کے ساتھ ساتھ ان کی بیٹی کی شادی کے بھی تمام انتظامات کا خرچ میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ذاتی طور پر اٹھانے کا اعلان کیا۔

''راہِ نیکی'' کے ذریعے امداد کے سلسلے میں ہونے والے پروگرام میں دل کے امراض میں مبتلا کم سن بچوں کی ماں نسرین شریک ہوئیں، جن کے لیے میزبان کی پکار پر دبئی میں مقیم نیک دل خاتون نے لبیک کہا اور بچوں کے علاج معالجے سمیت گزر بسر کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن کی طرف سے بھی خاتون کی مالی امداد کی گئی۔ اس نشریات کے دوران ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اعلان کیا کہ رمضان المبارک میں ہر جمعے کو محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن کی جانب سے ان مستحق بہنوں کو زیورات سمیت شادی کا مکمل سامان فراہم کیا جائے گا جو جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں بیٹھی ہیں۔

اس سلسلے میں رمضان المبارک کے پہلے جمعے کی نشریات میں سات بیٹیوں کی ماں بشیراں بی بی اور کم آمدن والے تین بیٹیوں کے باپ عبدالمجید نے شرکت کی۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے مستحقین میں سونے کے زیورات سمیت جہیز کا ضروری ساز و سامان ان کے حوالے کیا اور عید پر بشیراں بی بی کی بیٹی کی شادی اور تقریب میں مہمانوں کے لیے کھانے کے انتظامات ذاتی خرچ پر کرنے کا اعلان کیا۔

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی گمشدہ بچوں کو والدین سے ملانے کی ایک اور کوشش اس وقت رنگ لے آئی جب کوئٹہ کی ایک رہائشی نے ٹی وی اسکرین پر اپنی لخت جگر کو پہچان لیا اور ایدھی سینٹر میں مقیم حسینہ نامی بچی اپنی ماں تک پہنچی۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اس موقع پر بچی کو پچیس ہزار روپے اور دیگر تحائف دیے۔ رمضان نشریات میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے گھر گھر جاکر صفائی ستھرائی کا کام کرنے والی عورتوں کو بھی مدعو کیا اور ان کے دکھ درد سنے۔

اس موقع پر انھیں تحائف اور ایم ایس ایف کی طرف سے انھیں پانچ ماہ کا راشن اور عید کے جوڑے بھی دیے گئے۔ ایک مرتبہ پھر ''راہ نیکی'' نے پیدائشی طور پر بائیں جبڑے سے محروم موت سے جنگ لڑتی کم سن فاطمہ کی آواز کروڑوں لوگوں تک پہنچائی۔ اعلان کیا گیا کہ ان کے علاج اور آپریشن کے تمام اخراجات محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن برداشت کرے گی۔ اس موقع پر ایک نجی ٹی وی چینل کے نیوز اینکر نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے رابطہ کر کے بچی کے علاج کے لیے پچاس ہزار روپے عطیہ دینے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن کی طرف سے بدحالی کا شکار سعید کو اسٹیشنری کے سامان سے لدا ٹھیلا بھی فراہم دیا گیا۔

رمضان نشریات میں ایک ویلفیئر ایسوسی ایشن کے تحت قائم تعلیمی ادارے میں زیرتعلیم ان نابینا طلبا وطالبات کو مدعو کیا گیا جو ایک بڑی محرومی کے باوجود علم وہنر کے شعبوں میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ان باہمت طالبعلموں میں گھل مل گئے اور ان سے تعلیم اور معمولات زندگی سے متعلق گفتگو کی اور انھیں تحائف بھی دیے۔ دکھی انسانیت کی خدمت کے سلسلے میں لاڑکانہ کے سفید پوش معلم امیر علی ہمدانی نے عارضہ قلب میں مبتلا ڈیڑھ سالہ بیٹے کے لیے التجا کی تو تمام اخراجات محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن نے اٹھانے کا اعلان کیا۔ پیدائشی طور پر دورے پڑنے کے مرض میں مبتلا کم سن شان کے غریب والد عبدالحمید کی مالی امداد بھی کی گئی۔

اسی طرح بچھڑوں کو اپنوں سے ملانے کا ایک موقع اور آیا جب شہباز کو ٹی وی اسکرین پر دیکھ کر ملتان میں مقیم اس کے تایا اور تائی نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے رابطہ کرلیا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ذاتی خرچ پر تایا کو بلا کر اس بچے کو ان کے حوالے کیا۔ ''پاکستان رمضان'' میں امریکی عقوبت خانے میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے بھی شرکت کی اور عافیہ صدیقی کے بچوں احمد اور مریم کے ساتھ میزبان سے گفتگو کی۔ ڈاکٹر عافیہ کا بیٹا احمد اپنی ماں کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگیا۔ ''راہ نیکی'' کے تحت مشکلات میں مبتلا خاندانوں اور افراد کی امداد کے سلسلے میں مظفر گڑھ کے تیرہ سالہ بچے شاہد کے علاج معالجے کا انتظام کیا گیا۔

ٹریفک حادثے کے دوران سانس کی نالی کٹنے کے باعث مصنوعی نلکی سے سانس لینے پر مجبور کم سن بچے کی فریاد پر اس کی امداد کا اعلان کیا گیا۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ذاکر حسین کے علاج معالجے کا تمام خرچ محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن کے تحت کروانے کا اعلان کیا اور ایک موقع پر گھر کے واحد کفیل کو روزگار کے لیے ٹھیلادینے اور بچے کی تعلیمی اخراجات کی ادائیگی کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی خصوصی دعوت پر پاکستان میں make a wish فاؤنڈیشن کے روح رواں اشتیاق بیگ نے جان لیوا اور ناقابل علاج امراض میں مبتلا بچوں کے ساتھ شرکت کی۔ اس موقع پر ہر دلعزیز میزبان نے بچوں سے تعلیم اور دیگر مشاغل پر گفتگو کی اور لیپ ٹاپ، موبائل فون، سائیکل اور کھلونے تحفتاً پیش کیے۔ سب کو خوشیوں میں شریک کرتے ہوئے معاشرے کی اصلاح اور فلاحی کاموں کا یہ سلسلہ جاری ہے اور حقیقی معنوں میں رمضان کی برکتیں سمیٹنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
Load Next Story