برازیل میں 1950 کی ناکامی کا آسیب پھر نمودار
64 برس قبل پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے پر یوروگوئے نے 1-2 سے شکست دی،اب سیمی فائنل میں جرمنی نے1-7 سے پچھاڑدیا
64 برس قبل پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے پر فائنل میں یوروگوئے نے 1-2 سے شکست دی،اب سیمی فائنل میں جرمنی نے1-7سے پچھاڑدیا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
BAKU:
برازیل میں 1950 کی ناکامی کا آسیب پھر نمودار ہوگیا، 64 برس قبل پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والی ٹیم کو فائنل میں یوروگوئے نے 1-2 سے شکست دی تھی۔
منگل کی شب سیمی فائنل میں جرمنی نے 1-7سے پچھاڑدیا، ملک میں بہت سے لوگ اس مرتبہ میگا ایونٹ کو اپنے پرانے زخم بھرنے کا سنہری موقع خیال کررہے تھے لیکن جرمن گولزکی بوچھاڑ نے انھیں ہوم گرائونڈ پر ایک اور بدترین شکست کے صدمے سے دوچار کردیا، اس کے اثرات وہ آئندہ کئی دہائیوں تک محسوس کرتے رہیں گے، پانچ مرتبہ عالمی چیمپئن بننے والے برازیل میں شائقین کو اپنی ٹیم کی بدترین شکست پر یقین نہیں آیا،کئی لوگ دوران میچز اور اختتام پر دھاڑیں مار مارکر روتے ہوئے دیکھے گئے۔
1950 میں ریو ڈی جنیرو پر منعقدہ فائنل میں برازیل کو یوروگوئے کیخلاف فیصلہ کن میچ ڈرا کرنے پر بھی عالمی چیمپئن کا تاج اپنے نام کرنے کا موقع مل سکتا تھا ، ٹیم نے اسپین اور سوئٹزرلینڈ کو ٹھکانے لگاتے ہوئے اس وقت 13 گول داغے اور اس کی کامیابی کا سب کو یقین تھا، اگرچہ فائنل میں برازیل نے پہلی برتری لی لیکن اس کے بعد یوروگوئے نے زبردست کم بیک کرتے ہوئے 2 گول داغ کر ورلڈ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کرلیا تھا، منگل کو جرمنی کیخلاف ماہرین فٹبال کو برازیلین ٹیم کی کامیابی کا زیادہ یقین نہیں تھا،1950کے فائنل میں برازیلین ٹیم کے گول کیپر مائوسر باربوسا نے 2000 میں اپنی موت سے قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ملکی قوانین میں زیادہ سے زیادہ جیل کی سزا 30 برس ہے لیکن میری سزا کو 50 برس ہوگئے۔
انھوں نے اپنی زندگی کا ایک اور غمناک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میچ کے 20 برس بعد وہ بازار گئے تو وہاں ایک عورت نے ان کی جانب اشارہ کرکے اپنے بچے سے کہا کہ یہ وہ آدمی ہے جس نے پورے برازیل کو رلایا تھا،اسی طرح ایک اور سابق پلیئر زیزینو نے بھی اپنی سوانح عمری میں لکھاکہ اگرچہ میں نے 19 برس برازیل کیلیے فٹبال کھیلی، اس دوران ہم نے چند ٹائٹلز بھی جیتے لیکن 1950 فائنل کی ناکامی کے بعد میں نے خود کو شکست خوردہ پلیئر ہی خیال کیا، زیزینو ہر برس اس ناکامی کی برسی پر اپنا فون بند کردیتے کیونکہ لوگ انھیں فون کرکے ابھی تک اس شکست کے اسباب معلوم کرتے ہیں، منگل کی شب بھی جرمنی کی جانب سے پہلے ہاف میں اسکور 5-0 سے اپنے حق میں کیے جانے کے بعد بیشتر برازیلین شائقین نے میدان سے گھرواپسی اختیار کرلی تھی۔
28 سالہ شائق فٹبال فرنانڈو ہیزن نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ یہ گیم تاریخ میں بدترین شمار ہوگا، مقامی بزنس منیجر مائیکل گومز نے کہا کہ اس ورلڈ کپ کی تلخ یادیں ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں رہیں گی، اسے ہم ایک سانحے کے طور پر یاد رکھیں گے، سائوپائولو میں مقیم پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر کلاڈیو کوٹو نے کہا کہ اگر حالیہ عوامی سروے پر نظر ڈالیں تو موجودہ نتیجہ سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا، بہرحال یہ برازیلین ٹیم کیلیے شرمناک شکست ہے۔
1950 ورلڈ کپ کے موقع پر ڈاکٹری پڑھنے والی 88 سالہ لونڈریس مورا نے کہا کہ اس وقت میں بہت روئی تھی لیکن اب موجودہ شکست پر مجھے غصہ آرہا ہے، برازیلین ٹیم پانچ مرتبہ عالمی چیمپئن بن چکی اور دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد ہے لیکن جس انداز میں جرمنی نے انھیں چاروں شانے چت کیا اس سے یقینی طور پر برازیلین فٹبال کو زبردست جھٹکا پہنچا، 1950 کے بعد 2014 کا سانحہ بھی برازیلین عوام کے ذہنوں سے دور نہیں ہوسکے گا۔
برازیل میں 1950 کی ناکامی کا آسیب پھر نمودار ہوگیا، 64 برس قبل پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والی ٹیم کو فائنل میں یوروگوئے نے 1-2 سے شکست دی تھی۔
منگل کی شب سیمی فائنل میں جرمنی نے 1-7سے پچھاڑدیا، ملک میں بہت سے لوگ اس مرتبہ میگا ایونٹ کو اپنے پرانے زخم بھرنے کا سنہری موقع خیال کررہے تھے لیکن جرمن گولزکی بوچھاڑ نے انھیں ہوم گرائونڈ پر ایک اور بدترین شکست کے صدمے سے دوچار کردیا، اس کے اثرات وہ آئندہ کئی دہائیوں تک محسوس کرتے رہیں گے، پانچ مرتبہ عالمی چیمپئن بننے والے برازیل میں شائقین کو اپنی ٹیم کی بدترین شکست پر یقین نہیں آیا،کئی لوگ دوران میچز اور اختتام پر دھاڑیں مار مارکر روتے ہوئے دیکھے گئے۔
1950 میں ریو ڈی جنیرو پر منعقدہ فائنل میں برازیل کو یوروگوئے کیخلاف فیصلہ کن میچ ڈرا کرنے پر بھی عالمی چیمپئن کا تاج اپنے نام کرنے کا موقع مل سکتا تھا ، ٹیم نے اسپین اور سوئٹزرلینڈ کو ٹھکانے لگاتے ہوئے اس وقت 13 گول داغے اور اس کی کامیابی کا سب کو یقین تھا، اگرچہ فائنل میں برازیل نے پہلی برتری لی لیکن اس کے بعد یوروگوئے نے زبردست کم بیک کرتے ہوئے 2 گول داغ کر ورلڈ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کرلیا تھا، منگل کو جرمنی کیخلاف ماہرین فٹبال کو برازیلین ٹیم کی کامیابی کا زیادہ یقین نہیں تھا،1950کے فائنل میں برازیلین ٹیم کے گول کیپر مائوسر باربوسا نے 2000 میں اپنی موت سے قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ملکی قوانین میں زیادہ سے زیادہ جیل کی سزا 30 برس ہے لیکن میری سزا کو 50 برس ہوگئے۔
انھوں نے اپنی زندگی کا ایک اور غمناک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میچ کے 20 برس بعد وہ بازار گئے تو وہاں ایک عورت نے ان کی جانب اشارہ کرکے اپنے بچے سے کہا کہ یہ وہ آدمی ہے جس نے پورے برازیل کو رلایا تھا،اسی طرح ایک اور سابق پلیئر زیزینو نے بھی اپنی سوانح عمری میں لکھاکہ اگرچہ میں نے 19 برس برازیل کیلیے فٹبال کھیلی، اس دوران ہم نے چند ٹائٹلز بھی جیتے لیکن 1950 فائنل کی ناکامی کے بعد میں نے خود کو شکست خوردہ پلیئر ہی خیال کیا، زیزینو ہر برس اس ناکامی کی برسی پر اپنا فون بند کردیتے کیونکہ لوگ انھیں فون کرکے ابھی تک اس شکست کے اسباب معلوم کرتے ہیں، منگل کی شب بھی جرمنی کی جانب سے پہلے ہاف میں اسکور 5-0 سے اپنے حق میں کیے جانے کے بعد بیشتر برازیلین شائقین نے میدان سے گھرواپسی اختیار کرلی تھی۔
28 سالہ شائق فٹبال فرنانڈو ہیزن نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ یہ گیم تاریخ میں بدترین شمار ہوگا، مقامی بزنس منیجر مائیکل گومز نے کہا کہ اس ورلڈ کپ کی تلخ یادیں ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں رہیں گی، اسے ہم ایک سانحے کے طور پر یاد رکھیں گے، سائوپائولو میں مقیم پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر کلاڈیو کوٹو نے کہا کہ اگر حالیہ عوامی سروے پر نظر ڈالیں تو موجودہ نتیجہ سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا، بہرحال یہ برازیلین ٹیم کیلیے شرمناک شکست ہے۔
1950 ورلڈ کپ کے موقع پر ڈاکٹری پڑھنے والی 88 سالہ لونڈریس مورا نے کہا کہ اس وقت میں بہت روئی تھی لیکن اب موجودہ شکست پر مجھے غصہ آرہا ہے، برازیلین ٹیم پانچ مرتبہ عالمی چیمپئن بن چکی اور دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد ہے لیکن جس انداز میں جرمنی نے انھیں چاروں شانے چت کیا اس سے یقینی طور پر برازیلین فٹبال کو زبردست جھٹکا پہنچا، 1950 کے بعد 2014 کا سانحہ بھی برازیلین عوام کے ذہنوں سے دور نہیں ہوسکے گا۔